التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر

المتوفی مابین 140 – 150ھ5 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: ابو القاسم جُوَیْبَر بن سعید ازدی بلخی مفسر

ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو القاسم جُوَیْبَر بن سعید ازدی بلخی مفسر (المتوفی مابین 140 – 150ھ[4])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’عبيدة، وجويبر، وابن سالم، وجابر الجعفي، قريب بعضهم من بعض، ويراهم يحيى ضعفاء‘‘[5] . عبیدہ، جویبر، ابن سالم اور جابر جعفی، ان میں سے بعض بعض کے قریب ہیں، (حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں) اور یحیی l ان سب کو ضعیف سمجھتے تھے۔

 نیز حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘[6] . جویبر ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[7] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[8] اور  ’’الضعفاء الصغير‘‘[9] میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ  یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين، يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘. میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحییl نے ان احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں:  ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[10]. جویبر جو ضحاک سے نقل کرے اس کا معاملہ آسان ہے، اور جسے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرے تو وہ منکر ہے۔

حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں: ’’تساهلوا في أخذ التفسير عن قوم، لا يوثقونهم في الحديث، ثم ذكر ليث بن أبي سليم وجويبر، والضحاك، ومحمد بن السائب، وقال: هؤلاء لا يحمد حديثهم، ويكتب التفسير عنهم‘‘[11] .

یہ لوگ  تفسیر لینے کے معاملہ میں ایک جماعت سے تساہل کرتے ہیں، حدیث کے معاملہ میں ان کی توثیق نہیں کرتے، پھر لیث بن ابی سلیم، جویبر، ضحاک اور محمد بن سائب کا ذکر کیا، اور فرمایا: ان لوگوں کی حدیث محمود نہیں ہے، اور ان سے تفسیر لکھی جائے گی۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[12] میں جویبر بن سعید، عبیدہ بن مُعَتِّب اور کلبی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سمعت من حدثني عن ابن حنبل، أنه قال: لا يشتغل بحديثهم‘‘. میں نے اس شخص سے سنا جس نے مجھے ابن حنبلl کے واسطہ سے بتایا:وہ (احمد بن حنبلl)فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں مشغول نہ ہوا جائے۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني أباه عن جويبر بن سعيد؟ فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[13] . میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا؟ تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر، ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو زرعہ l نے جویبر بلخی کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[14] ۔

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’ياسين بن معاذ، وعباد بن كثير، وجويبر، لا يحتج بحديثهم‘‘[15]. یاسین بن معاذ، عباد بن کثیر اور جویبر، ان سب کی حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘[16]. ضحاک سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl نے ’’الأسامي‘‘[17] میں ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[18] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

نیز امام نسائی l نے ایک  دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[19]۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[20] میں  فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘. جویبر لیس بشیء ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں  ضعف واضح ہے۔

حافظ دار قطنیl نے  ’’الضعفاء‘‘[22] میں جویبر کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl  جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[23]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

حافظ ذہبی l  نے جویبر کے متعلق ’’الكاشف‘‘[24] میں ’’ترکوه‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[25] میں ’’متروك الحديث‘‘،  ’’المقتنى‘‘[26] میں ’’تالف‘‘ اور  ’’العلو‘‘[27]  میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ’’الترجيح‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت جویبر بن سعید کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے ’’التقريب‘‘ [29] میں  ’’ضعيف جدا‘‘، ’’العجاب‘‘ [30] میں ’’واه‘‘ اور ’’الأمالي المطلقة‘‘[31]  میں  ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[32] میں جویبر بن سعید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’صاحب الضحاك، متروك، واتهمه ابن الجوزي، قلت: رأيت بخط الحافظ ابن حجر في فوائد متفرقة على ظهر تلخيص الموضوعات لابن درباس، ما نصه: جويبر والضحاك وإن كانا مجروحين، لم يتهما بكذب، والله أعلم‘‘.

یہ صاحبِ ضحاک ہے، متروک ہے، اور ابن جوزی l نے اسے متہم کہا ہے، میں (علامہ ابن عراق l)کہتا ہوں:میں نے  ابن درباس l  کی  ’’تلخیص الموضوعات‘‘ کی پشت پر موجود حافظ ابن حجر l کی تحریر کے متفرق فوائد میں دیکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: جویبر اور ضحاک پر اگرچہ جرح کی گئی ہے، لیکن یہ دونوں جھوٹ بولنے میں متہم نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ جات

[4] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں جویبر بن سعید  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 140 اور 150ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .

[5] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/407،رقم:2764،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[6] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/206،رقم:1343،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[7] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[8] التاريخ الصغير:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[9] الضعفاء الصغير:ص:31،رقم:58،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[10] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[11] ميزان الاعتدال:۱/391،رقم:1517،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1430هـ .

[12] أحوال الرجال:ص:69،رقم:40،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[13] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[14] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[15] سؤالات البرذعی:ص:495،رقم:1057،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[16] المجروحين:1/۲۱۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[17] الأسامي والكنى:1/75،رقم:23،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .

[18] الضعفاء والمتروكين:ص:73،رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[19] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[20] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/191،رقم:289،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[21] الكامل في ضعفاءالرجال:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[22] الضعفاءوالمتروكون:ص:171،رقم:147،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .

[23] كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[24] الكاشف:1/298،رقم:826 ،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[25] ديوان الضعفاء:ص:68،رقم:799، ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[26] المقتنى في سرد الكنى:1/52،رقم:22،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[27] العلو للعلي الغفار:ص:113،رقم:303،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبةأضواء السلف ـ الرياض، الطبعةالأولى1416هـ .

[28] الترجيح لحديث صلاة التسبيح:ص:35،ت:محمود سعيد ممدوح،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1409هـ .

[29] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987، ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[30] العجاب في بيان الأسباب:1/211،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[31] الأمالي المطلقة:ص:61،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[32] تنزيه الشريعة:۱/46،رقم:41،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر (المتوفی مابین 140 – 150ھ[3])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’عبيدة، وجويبر، وابن سالم، وجابر الجعفي، قريب بعضهم من بعض، ويراهم يحيى ضعفاء‘‘[4] . عبیدہ، جویبر، ابن سالم اور جابر جعفی، ان میں سے بعض بعض کے قریب ہیں، (حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں) اور یحیی l ان سب کو ضعیف سمجھتے تھے۔

 نیز حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘[5] . جویبر ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[6] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[7] اور  ’’الضعفاء الصغير‘‘[8] .میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ  یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين، يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘. میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحییl نے اِن احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[9]. جویبر جو ضحاک سے نقل کرے اس کا معاملہ آسان ہے، اور جسے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرے تو وہ منکر ہے۔

حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں: ’’تساهلوا في أخذ التفسير عن قوم، لا يوثقونهم في الحديث، ثم ذكر ليث بن أبي سليم وجويبر، والضحاك، ومحمد بن السائب، وقال: هؤلاء لا يحمد حديثهم، ويكتب التفسير عنهم‘‘[10] .

یہ لوگ  تفسیر لینے کے معاملہ میں تساہل کرتے ہیں، حدیث کے معاملہ میں ان کی توثیق نہیں کرتے، پھر لیث بن ابی سلیم، جویبر، ضحاک اور محمد بن سائب کا ذکر کیا، اور فرمایا: یہ لوگ حدیث میں محمود نہیں ہیں، اور ان سے تفسیر لکھی جائے۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[11] میں جویبر بن سعید، عبیدہ بن مُعَتِّب اور کلبی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سمعت من حدثني عن ابن حنبل، أنه قال: لا يشتغل بحديثهم‘‘. میں نے اس شخص سے سنا جس نے مجھے ابن حنبلl کے واسطہ سے بتایا:وہ (احمد بن حنبلl)فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں مشغول نہ ہوا جائے۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني أباه عن جويبر بن سعيد؟ فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[12] . میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا؟ تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر، ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو زرعہ l نے جویبر بلخی کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[13] ۔

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’ياسين بن معاذ، وعباد بن كثير، وجويبر، لا يحتج بحديثهم‘‘[14]. یاسین بن معاذ، عباد بن کثیر اور جویبر، ان سب کی حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘[15]. ضحاک سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl نے ’’الأسامي‘‘[16] میں ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[17] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

نیز امام نسائی l نے ایک  دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[18]۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[19] میں  فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘. جویبر لیس بشیء ہے۔

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘[20]. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں  ضعف واضح ہے۔

حافظ دار قطنیl نے  ’’الضعفاء‘‘[21] میں جویبر کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl  جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[22]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

حافظ ذہبی l  نے جویبر کے متعلق ’’الكاشف‘‘[23] میں ’’ترکوه‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[24] میں ’’متروك الحديث‘‘، ’’المقتنى‘‘[25] میں ’’تالف‘‘ اور  ’’العلو‘‘[26]  میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ’’الترجيح‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت جویبر بن سعید کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے ’’التقريب‘‘ [28] میں  ’’ضعيف جدا‘‘، ’’العجاب‘‘ [29] میں ’’واه‘‘ اور ’’الأمالي المطلقة‘‘[30] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[31] میں جویبر بن سعید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’صاحب الضحاك، متروك، واتهمه ابن الجوزي، قلت: رأيت بخط الحافظ ابن حجر في فوائد متفرقة على ظهر تلخيص الموضوعات لابن درباس، ما نصه: جويبر والضحاك وإن كانا مجروحين، لم يتهما بكذب، والله أعلم‘‘.

یہ صاحبِ ضحاک ہے، متروک ہے، اور ابن جوزی l نے اسے متہم قرار دیا ہے، میں (علامہ ابن عراق l)کہتا ہوں:میں نے  ابن درباس l  کی  ’’تلخیص الموضوعات‘‘ کی پشت (یعنی حاشیہ) پر موجود حافظ ابن حجر l کی تحریر کے متفرق فوائد میں دیکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: جویبر اور ضحاک پر اگرچہ جرح کی گئی ہے، لیکن یہ دونوں جھوٹ بولنے میں متہم نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ جات

[3] امام بخاریlنے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں جویبر بن سعید  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 140 اور 150ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[4] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/407،رقم:2764،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت.

[5] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/206،رقم:1343،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت.

[6] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[7] التاريخ الصغير:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[8] الضعفاء الصغير:ص:31،رقم:58،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[9] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[10] ميزان الاعتدال:۱/391،رقم:1517،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1430هـ .

[11] أحوال الرجال:ص:69،رقم:40،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[12] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[13] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[14] سؤالات البرذعی:ص:495،رقم:1057،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[15] المجروحين:1/۲۱۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[16] الأسامي والكنى:1/75،رقم:23،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .

[17] الضعفاء والمتروكين:ص:73،رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[18] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[19] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/191،رقم:289،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[20] الكامل في ضعفاءالرجال:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[21] الضعفاء والمتروكون:ص:171،رقم:147،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰4هـ .

[22] كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[23] الكاشف:1/298،رقم:826 ،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[24] ديوان الضعفاء:ص:68،رقم:799، ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[25] المقتنى في سرد الكنى:1/52،رقم:22،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[26] العلو للعلي الغفار:ص:113،رقم:303،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبةأضواء السلف ـ الرياض، الطبعةالأولى1416هـ .

[27] الترجيح لحديث صلاة التسبيح:ص:35،ت:محمود سعيد ممدوح،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1409هـ .

[28] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987، ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[29] العجاب في بيان الأسباب:1/211،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[30] الأمالي المطلقة:ص:61،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[31] تنزيه الشريعة:۱/46،رقم:41،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر (المتوفی مابین 140 – 150ھ[31])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں:  ’’عبيدة، وجويبر، وابن سالم، وجابر الجعفي، قريب بعضهم من بعض، ويراهم يحيى ضعفاء‘‘[32] . عبیدہ، جویبر، ابن سالم اور جابر جعفی، ان میں سے بعض بعض کے قریب ہیں، (حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں) اور یحیی l ان سب کو ضعیف سمجھتے تھے۔

 نیز حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘[33] . جویبر ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام بخاری l  ’’التاريخ الكبير‘‘[34] ،  ’’التاريخ الصغير‘‘[35] اور  ’’الضعفاء الصغير‘‘[36] .میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ  یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں:  ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين، يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘. میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحییl نے اِن احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں:  ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[37]. جویبر جو ضحاک سے نقل کرے اس کا معاملہ آسان ہے، اور جسے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرے تو وہ منکر ہے۔

حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں:  ’’تساهلوا في أخذ التفسير عن قوم، لا يوثقونهم في الحديث، ثم ذكر ليث بن أبي سليم وجويبر، والضحاك، ومحمد بن السائب، وقال: هؤلاء لا يحمد حديثهم، ويكتب التفسير عنهم‘‘[38] .

یہ لوگ  تفسیر لینے کے معاملہ میں تساہل کرتے ہیں، حدیث کے معاملہ میں ان کی توثیق نہیں کرتے، پھر لیث بن ابی سلیم، جویبر، ضحاک اور محمد بن سائب کا ذکر کیا، اور فرمایا: یہ لوگ حدیث میں محمود نہیں ہیں، اور ان سے تفسیر لکھی جائے۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[39] میں جویبر بن سعید، عبیدہ بن مُعَتِّب اور کلبی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  ’’سمعت من حدثني عن ابن حنبل، أنه قال: لا يشتغل بحديثهم‘‘.میں نے اس شخص سے سنا جس نے مجھے ابن حنبلl کے واسطہ سے بتایا:وہ (احمد بن حنبلl)فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں مشغول نہ ہوں۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں:  ’’وسألته يعني أباه عن جويبر بن سعيد؟ فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[40] . میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا؟ تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو زرعہ l نے جویبر بلخی کو  ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[41] ۔

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں:  ’’ياسين بن معاذ، وعباد بن كثير، وجويبر، لا يحتج بحديثهم‘‘[42]. یاسین بن معاذ، عباد بن کثیر اور جویبر، ان سب کی حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں:  ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘[43]. ضحاک سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl’’الأسامي‘‘[44] میں فرماتے ہیں:’’ذاهب الحديث‘‘.

امام نسائی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[45] میں فرماتے ہیں:  ’’متروك الحديث‘‘.

نیز امام نسائی lایک  دوسری جگہ پر فرماتے ہیں:  ’’ليس بثقة‘‘[46].

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[47] میں  فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘.

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:  ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘[48]. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں  ضعف واضح ہے۔

حافظ دار قطنیl نے  ’’الضعفاء والمتروكون‘‘[49] میں جویبر کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl  جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں:  ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[50]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

حافظ ذہبی l  نے جویبر کے متعلق  ’’الكاشف‘‘[51] میں  ’’ترکوه، ق‘‘، ’’ديوان‘‘[52] میں ’’متروك الحديث، ق‘‘،  ’’المقتنى‘‘[53] میں  ’’تالف‘‘ اور  ’’العلو‘‘[54]  میں  ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے  ’’الترجيح‘‘[55] میں ایک روایت کے تحت جویبر بن سعید کو  ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l  نے اسے  ’’تقريب التهذيب‘‘ [56] میں  ’’ضعيف جدا‘‘،  ’’العجاب‘‘ [57] میں  ’’واه‘‘ اور  ’’الأمالي المطلقة‘‘[58]  میں  ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l  ’’تنزيه الشريعه‘‘[59] میں جویبر بن سعید کووضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں:  ’’صاحب الضحاك، متروك، واتهمه ابن الجوزي، قلت: رأيت بخط الحافظ ابن حجر في فوائد متفرقة على ظهر تلخيص الموضوعات لابن درباس، ما نصه: جويبر والضحاك وإن كانا مجروحين، لم يتهما بكذب، والله أعلم‘‘.

یہ صاحبِ ضحاک ہے، متروک ہے، اور ابن جوزی l نے اسے متہم کہا ہے، میں (علامہ ابن عراق l)کہتا ہوں:میں نے  ابن درباس l  کی  ’’تلخیص الموضوعات‘‘ کی پشت پر موجود حافظ ابن حجر l کی تحریر کے متفرق فوائد میں دیکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: جویبر اور ضحاک پر اگرچہ جرح کی گئی ہے، لیکن یہ دونوں جھوٹ بولنے میں متہم نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ جات

[31] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں جویبر بن سعید  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 140 اور 150ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[32] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/407،رقم:2764،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[33] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/206،رقم:1343،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[34] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[35] التاريخ الصغير:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[36] الضعفاء الصغير:ص:31،رقم:58،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[37] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[38] ميزان الاعتدال:۱/391،رقم:1517،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1430هـ .

[39] أحوال الرجال:ص:69،رقم:40،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[40] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[41] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[42] سؤالات البرذعی:ص:495،رقم:1057،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[43] المجروحين:1/۲۱۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[44] الأسامي والكنى:1/75،رقم:23،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .

[45] الضعفاء والمتروكين:ص:73،رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[46] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[47] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/191،رقم:289،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[48] الكامل في ضعفاءالرجال:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[49] الضعفاءوالمتروكون:ص:171،رقم:147،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .

[50] كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[51] الكاشف:1/298،رقم:826 ،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[52] ديوان الضعفاء:ص:68،رقم:799، ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[53] المقتنى في سرد الكنى:1/52،رقم:22،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[54] العلو للعلي الغفار:ص:113،رقم:303،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبةأضواء السلف ـ الرياض، الطبعةالأولى1416هـ .

[55] الترجيح لحديث صلاة التسبيح:ص:35،ت:محمود سعيد ممدوح،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1409هـ .

[56] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987، ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[57] العجاب في بيان الأسباب:1/211،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[58] الأمالي المطلقة:ص:61،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[59] تنزيه الشريعة:۱/46،رقم:41،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر (المتوفی مابین 140 – 150ھ[61])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’عبيدة، وجويبر، وابن سالم، وجابر الجعفي، قريب بعضهم من بعض، ويراهم يحيى ضعفاء‘‘[62] . عبیدہ، جویبر، ابن سالم اور جابر جعفی، ان میں سے بعض بعض کے قریب ہیں، (حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں) اور یحیی l ان سب کو ضعیف سمجھتے تھے۔

 نیز حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘[63] . جویبر ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[64] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[65] اور  ’’الضعفاء الصغير‘‘[66] .میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ  یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين، يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘. میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحییl نے اِن احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں:  ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[67]. جویبر جو ضحاک سے نقل کرے اس کا معاملہ آسان ہے، اور جسے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرے تو وہ منکر ہے۔

حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں: ’’تساهلوا في أخذ التفسير عن قوم، لا يوثقونهم في الحديث، ثم ذكر ليث بن أبي سليم وجويبر، والضحاك، ومحمد بن السائب، وقال: هؤلاء لا يحمد حديثهم، ويكتب التفسير عنهم‘‘[68] .

یہ لوگ  تفسیر لینے کے معاملہ میں تساہل کرتے ہیں، حدیث کے معاملہ میں ان کی توثیق نہیں کرتے، پھر لیث بن ابی سلیم، جویبر، ضحاک اور محمد بن سائب کا ذکر کیا، اور فرمایا: ان کی حدیث محمود نہیں ہے، اور ان سے تفسیر لکھی جائے۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[69] میں جویبر بن سعید، عبیدہ بن مُعَتِّب اور کلبی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سمعت من حدثني عن ابن حنبل، أنه قال: لا يشتغل بحديثهم‘‘. میں نے اس شخص سے سنا جس نے مجھے ابن حنبلl کے واسطہ سے بتایا:وہ (احمد بن حنبلl)فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں مشغول نہ ہوں۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني أباه عن جويبر بن سعيد؟ فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[70] . میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا؟ تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو زرعہ l نے جویبر بلخی کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[71] ۔

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’ياسين بن معاذ، وعباد بن كثير، وجويبر، لا يحتج بحديثهم‘‘[72]. یاسین بن معاذ، عباد بن کثیر اور جویبر، ان سب کی حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘[73]. ضحاک سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl نے ’’الأسامي‘‘[74] میں ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[75] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

نیز امام نسائی l نے ایک  دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[76]۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[77] میں  فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘. جویبر لیس بشیء ہے۔

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:  ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘[78]. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں  ضعف واضح ہے۔

حافظ دار قطنیl نے  ’’الضعفاء‘‘[79] میں جویبر کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl  جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[80]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

حافظ ذہبی l  نے جویبر کے متعلق ’’الكاشف‘‘[81] میں ’’ترکوه‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[82] میں ’’متروك الحديث‘‘،  ’’المقتنى‘‘[83] میں ’’تالف‘‘ اور  ’’العلو‘‘[84]  میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ’’الترجيح‘‘[85] میں ایک روایت کے تحت جویبر بن سعید کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے ’’التقريب‘‘ [86] میں  ’’ضعيف جدا‘‘، ’’العجاب‘‘ [87] میں ’’واه‘‘ اور ’’الأمالي المطلقة‘‘[88]  میں  ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[89] میں جویبر بن سعید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’صاحب الضحاك، متروك، واتهمه ابن الجوزي، قلت: رأيت بخط الحافظ ابن حجر في فوائد متفرقة على ظهر تلخيص الموضوعات لابن درباس، ما نصه: جويبر والضحاك وإن كانا مجروحين، لم يتهما بكذب، والله أعلم‘‘.

یہ صاحبِ ضحاک ہے، متروک ہے، اور ابن جوزی l نے اسے متہم کہا ہے، میں (علامہ ابن عراق l)کہتا ہوں:میں نے  ابن درباس l  کی  ’’تلخیص الموضوعات‘‘ کی پشت پر موجود حافظ ابن حجر l کی تحریر کے متفرق فوائد میں دیکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: جویبر اور ضحاک پر اگرچہ جرح کی گئی ہے، لیکن یہ دونوں جھوٹ بولنے میں متہم نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ جات

[61] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں جویبر بن سعید  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 140 اور 150ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ) .

[62] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/407،رقم:2764،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[63] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/206،رقم:1343،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[64] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[65] التاريخ الصغير:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[66] الضعفاء الصغير:ص:31،رقم:58،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[67] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[68] ميزان الاعتدال:۱/391،رقم:1517،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1430هـ .

[69] أحوال الرجال:ص:69،رقم:40،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[70] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[71] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[72] سؤالات البرذعی:ص:495،رقم:1057،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[73] المجروحين:1/۲۱۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[74] الأسامي والكنى:1/75،رقم:23،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .

[75] الضعفاء والمتروكين:ص:73،رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[76] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[77] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/191،رقم:289،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[78] الكامل في ضعفاءالرجال:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[79] الضعفاء والمتروكون:ص:171،رقم:147،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰4هـ .

[80] كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[81] الكاشف:1/298،رقم:826 ،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[82] ديوان الضعفاء:ص:68،رقم:799، ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[83] المقتنى في سرد الكنى:1/52،رقم:22،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[84] العلو للعلي الغفار:ص:113،رقم:303،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبةأضواء السلف ـ الرياض، الطبعةالأولى1416هـ .

[85] الترجيح لحديث صلاة التسبيح:ص:35،ت:محمود سعيد ممدوح،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1409هـ .

[86] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987، ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[87] العجاب في بيان الأسباب:1/211،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[88] الأمالي المطلقة:ص:61،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[89] تنزيه الشريعة:۱/46،رقم:41،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

\ سند میں موجود راوی ابو القاسم جویبر بن سعید ازدی بلخی مفسر (المتوفی مابین 14۱ھ – 150ھ[15])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’عبيدة، وجويبر، وابن سالم، وجابر الجعفي، قريب بعضهم من بعض، ويراهم يحيى ضعفاء‘‘[16] . عبیدہ، جویبر، ابن سالم اور جابر جعفی، ان میں سے بعض بعض کے قریب ہیں، (حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں) اور یحیی l ان سب کو ضعیف سمجھتے تھے۔

 نیز حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’جويبر ليس بشيء‘‘[17] . جویبر ’’لیس بشیء‘‘ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[18] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[19] اور  ’’الضعفاء الصغير‘‘[20] .میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے علی بن مدینی l نے کہا کہ  یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’ كنت أعرف جويبرا بحديثين، يعني ثم أخرج هذه الأحاديث بعد، فضعفه‘‘. میں جویبر کو دو حدیثوں سے پہچانتا ہوں، یعنی پھر اس کے بعد یحییl نے اِن احادیث کی تخریج کی، (اور پھر انھوں نے) جویبر کی تضعیف کی۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’جويبر ما كان عن الضحاك فهو على ذاك أيسر، وما كان يسند عن النبي صلى الله عليه وسلم فهي منكرة‘‘[21]. جویبر جو ضحاک سے نقل کرے اس کا معاملہ آسان ہے، اور جسے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرے تو وہ منکر ہے۔

حافظ یحیی قطان l فرماتے ہیں: ’’تساهلوا في أخذ التفسير عن قوم، لا يوثقونهم في الحديث، ثم ذكر ليث بن أبي سليم، وجويبر، والضحاك، ومحمد بن السائب، وقال: هؤلاء لا يحمد حديثهم، ويكتب التفسير عنهم‘‘[22] . یہ لوگ ایک جماعت سے تفسیر لینے کے معاملہ میں تساہل کرتے ہیں، حدیث کے معاملہ میں ان کی توثیق نہیں کرتے، پھر لیث بن ابی سلیم، جویبر، ضحاک اور محمد بن سائب کا ذکر کیا، اور فرمایا: یہ لوگ حدیث میں محمود نہیں ہیں، اور ان سے تفسیر لکھی جائے گی۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[23] میں جویبر بن سعید، عبیدہ بن مُعَتِّب اور کلبی کے بارے میں امام احمد بن حنبل l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سمعت من حدثني عن ابن حنبل أنه قال: لا يشتغل بحديثهم‘‘. میں نے اس شخص سے سنا جس نے مجھے ابن حنبلl کے حوالہ سے بتایا:وہ (احمد بن حنبلl)فرماتے ہیں کہ ان کی حدیث میں مشغول نہ ہوا جائے۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألته يعني: أباه عن جويبر بن سعيد؟ فضعفه جدا، قال: وسمعت أبي، يقول: جويبر أكثر على الضحاك، روى عنه أشياء مناكير‘‘[24] . میں نے اپنے والد علی بن مدینی l سے جویبر کے بارے میں پوچھا؟ تو انھوں نے جویبر کو شدید ضعیف قرار دیا، نیز میں نے اپنے والد کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جویبر، ضحاک سے کثرت سے نقل کرتا ہے، یہ ضحاک سے منکر خبریں نقل کرتا ہے۔

حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو زرعہ l نے جویبر بلخی کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[25] ۔

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’ياسين بن معاذ، وعباد بن كثير، وجويبر، لا يحتج بحديثهم‘‘[26]. یاسین بن معاذ، عباد بن کثیر اور جویبر، ان سب کی حدیث سے احتجاج نہ کیا جائے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن الضحاك أشياء مقلوبة‘‘. ضحاک سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[28] میں اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

نیز امام نسائی l نے ایک  دوسرے مقام پر اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[29]۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[30] میں جویبر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والضعف على حديثه ورواياته بين‘‘. اس کی حدیث اور اس کی روایات میں  ضعف واضح ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl نے ’’الأسامي‘‘[31] میں اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ دار قطنیl نے  ’’الضعفاء‘‘[32] میں جویبر کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl  جویبر کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’أنا أبرأ إلى الله من عهدة جويبر‘‘[33]. میں جویبر کےذمہ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔

حافظ ذہبی l  نے جویبر کے متعلق ’’الكاشف‘‘[34] میں ’’ترکوه‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[35] میں ’’متروك الحديث‘‘، ’’المقتنى‘‘[36] میں ’’تالف‘‘ اور  ’’العلو‘‘[37]  میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے ’’الترجيح‘‘[38] میں ایک روایت کے تحت جویبر بن سعید کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے ’’التقريب‘‘ [39] میں  ’’ضعيف جدا‘‘، ’’العجاب‘‘ [40] میں ’’واه‘‘ اور ’’الأمالي المطلقة‘‘[41] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[42] میں جویبر بن سعید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’صاحب الضحاك، متروك، واتهمه ابن الجوزي، قلت: رأيت بخط الحافظ ابن حجر في فوائد متفرقة على ظهر تلخيص الموضوعات لابن درباس، ما نصه: جويبر والضحاك وإن كانا مجروحين، لم يتهما بكذب، والله أعلم‘‘.

یہ صاحبِ ضحاک ہے، متروک ہے، اور ابن جوزی l نے اسے متہم قرار دیا ہے، میں (علامہ ابن عراق l)کہتا ہوں:میں نے  ابن درباس l  کی  ’’تلخیص الموضوعات‘‘ کی پشت (یعنی حاشیہ) پر موجود حافظ ابن حجر l کی تحریر کے متفرق فوائد میں دیکھا ہے، جس کی عبارت یہ ہے: جویبر اور ضحاک پر اگرچہ جرح کی گئی ہے، لیکن یہ دونوں جھوٹ بولنے میں متہم نہیں ہیں، واللہ اعلم۔

حوالہ جات

[15] امام بخاریlنے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں جویبر بن سعید  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 14۱ھ سے 150ھ کے درمیان ہوا ہے۔(التاريخ الصغير:2/54،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[16] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/407،رقم:2764،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت.

[17] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/206،رقم:1343،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت.

[18] التاريخ الكبير:2/236،رقم:2383،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[19] التاريخ الصغير:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[20] الضعفاء الصغير:ص:31،رقم:58،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[21] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[22] ميزان الاعتدال:۱/391،رقم:1517،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى 1430هـ .

[23] أحوال الرجال:ص:69،رقم:40،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[24] تاريخ بغداد:8/181،رقم:3695،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[25] الجرح التعديل:2/541،رقم:2246،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[26] سؤالات البرذعی:ص:495،رقم:1057،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .

[27] المجروحين:1/۲۱۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[28] الضعفاء والمتروكين:ص:73،رقم:106،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[29] تهذيب الكمال:5/170،رقم:985،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[30] الكامل في ضعفاءالرجال:2/341،رقم:329،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[31] الأسامي والكنى:1/75،رقم:23،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .

[32] الضعفاء والمتروكون:ص:171،رقم:147،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰4هـ .

[33] كتاب الموضوعات:2/204،ت:عبد الرحمن محمد عثمان، المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[34] الكاشف:1/298،رقم:826 ،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،مؤسسة علوم القرآن ـ جدة .

[35] ديوان الضعفاء:ص:68،رقم:799، ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[36] المقتنى في سرد الكنى:1/52،رقم:22،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[37] العلو للعلي الغفار:ص:113،رقم:303،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبةأضواء السلف ـ الرياض، الطبعةالأولى1416هـ .

[38] الترجيح لحديث صلاة التسبيح:ص:35،ت:محمود سعيد ممدوح،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1409هـ .

[39] تقريب التهذيب:ص:143،رقم:987، ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[40] العجاب في بيان الأسباب:1/211،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .

[41] الأمالي المطلقة:ص:61،ت:حمدي بن عبد المجيد السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[42] تنزيه الشريعة:۱/46،رقم:41،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ