اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو الحسن عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ بن نشیط کوفی نزیل مصر (المتوفی ۲۱۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’ينفرد عن الثوري بأحاديث‘‘[183]. ثوری l کے انتساب سے احادیث نقل کرنے میں متفرد ہوتا ہے۔
حافظ مؤمل بن اہاب l عبد اللہ بن مغیرہ کی سفیان سے منقول ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ذاكرت به غير واحد، فلم يعرفوه، قال ابن عدي: رواه ميسرة بن عبد ربه، عن سفيان‘‘[184]. میں نے ایک سے زائد لوگوں سے اس کا تذکرہ کیا، لیکن انہوں نے اسے نہیں پہچانا، ابن عدی l فرماتے ہیں: اسے میسرہ بن عبد ربہ نے سفیان سے روایت کیا ہے۔
اہم فائدہ: واضح رہے کہ عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کا یہ متابع میسرہ بن عبد ربہ تستری متہم بالوضع ہے[185]۔
حافظ ابو زرعہ رازیl عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، حدث عن مالك بن مغول بمناكير‘‘[186]. منکر الحدیث ہے، یہ مالک بن مغول کے انتساب سے مناکیر بیان کرتا ہے۔
حافظ ابو حاتمl نے عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کو ’’وليس بالقوي‘‘ کہا ہے[187]۔
امام نسائیl فرماتے ہیں:’’روى عن الثوري ومالك بن مغول أحاديث، كانا أتقى الله من أن يحدثا بها ‘‘[188].یہ ثوری اور مالک بن مغول کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جن کے بیان کرنے سے یہ دونوں اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[189] میں فرماتے ہیں: ’’يخالف في بعض حديثه، ويحدث بما لا أصل له‘‘. اس کی بعض احادیث میں مخالفت کی جاتی ہے، اور ایسی روایت بیان کرتا ہے جس کی اصل نہیں ہوتی۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[190]میں چند روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث عن مالك بن مغول، وسائر أحاديثه عامتها مما لا يتابع عليه، ومع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ نے یہ احادیث مالک بن مغول سے روایت کی ہیں، نیز اس کی دیگر احادیث، ان میں سے اکثر احادیث میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث لکھی جائے گی۔
حافظ ابن یونس مصریl نے عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[191]۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[192] میں فرماتے ہیں: ’’ كوفي، متروك، سكن مصر، وروى الطامات‘‘. کوفی ہے، متروک ہے، مصر میں رہائش اختیار کی تھی، اور طامات روایت کرتا تھا۔
حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[193] میں عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کو ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص الموضوعات‘‘[194] میں ایک روایت کے تحت ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[195] میں عبد اللہ بن محمد بن مغیرہ کو ضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’روى عن الثوري ومالك بن مغول موضوعات‘‘. ثوری اور مالک بن مغول کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔
حوالہ جات
[183] لسان الميزان:4/556،رقم:4395،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائرالإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[184] ميزان الاعتدال:۲/۴۸۷،رقم:۴۵۴۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[185] دیکھئے: المجروحين:۳/۱۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1۴۱۲هـ .
[186] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:3۸۶،رقم:۹۱۲،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[187] الجرح والتعدیل:۵/۱۵۸،رقم:۷۳۲،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[188] ميزان الاعتدال:۲/۴۸۸،رقم:۴۵۴۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[189] الضعفاء الكبير:۲/۳۰۱رقم:۸۷۶ ،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[190] الكامل في ضعفاء الرجال:۵/۳۶۷،رقم:۱۰۲۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[191] الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:2/141،رقم:2115،ت:أبو الفداءعبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[192] تاريخ الإسلام:۲/۱۰۵،رقم:۲۱۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[193] المغني في الضعفاء:۱/565،رقم:3344،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[194] تلخيص الموضوعات:ص:214،رقم:525،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[195] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۷۵،رقم:۹۰،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .