اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو صالح عبد اللہ بن صالح جہنی مصری کاتب اللیث (المتوفی ۲۲۲ھ او ۲۲۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے ابو صالح کاتب اللیث کو ’’ثقة‘‘ قرار دیا ہے[212]۔
امام علی بن مدینیl فرماتے ہیں: ’’ضربت على حديث عبد الله بن صالح، وما أروي عنه شيئا ‘‘[213]. میں نے عبد اللہ بن صالح کی حدیث کو ترک کردیا ہے، اور میں اس سے کچھ بھی روایت نہیں کرتا۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’ كان أول أمره متماسك، ثم فسد بآخره، وليس هو بشيء‘‘[214]. یہ شروع میں متماسک تھا، پھر آخر میں اس کا معاملہ بگڑ گیا، اور یہ لیس بشیء ہے۔
حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي، ذكر كاتب الليث بن سعد عبد الله بن صالح، فذمه وكرهه، وقال: إنه روى عنه ليث، عن بن أبي ذئب كتابا أو أحاديث، وأنكر أن يكون الليث روى عن ابن أبي ذئب‘‘[215]. میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کاتبِ لیث بن سعد، عبد اللہ بن صالح کا ذکر کیاتو اس کی مذمت کی اور اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور فرمایا: اس نے لیث، عن ابن ابی ذئب کے طریق سے ایک کتاب یا احادیث روایت کی ہیں، اور (میرے والد نے) اس کا انکار کردیا کہ لیث نے ابن ابی ذئب سے روایت کی ہو۔
حافظ ابو عبد اللہ عبد الملک بن شعیب بن لیث بن سعدlفرماتے ہیں: ’’أبو صالح كاتب الليث ثقة مأمون، قد سمع من جدي حديثه، وكان يحدث بحضرة أبي، وأبي يحضه على التحديث‘‘[216]. ابو صالح کاتب لیث ثقہ مامون ہے، اس نے میرے دادا (یعنی لیث بن سعد) سے حدیث سنی ہے، اور یہ میرے والد کی موجودگی میں حدیث بیان کرتا تھا، اور میرے والد اس کو حدیث بیان کرنے پر ابھارتے تھے۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[217]میں عبد اللہ بن صالح جہنی کا ترجمہ قائم کرکے سکوت اختیار فرمایا ہے۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[218] میں عبد اللہ بن صالح جہنی کا ترجمہ قائم کرکے سکوت اختیار فرمایا ہے۔
حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’لم يكن عندي ممن يتعمد الكذب، وكان حسن الحديث‘‘[219]. یہ میرے نزدیک ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، اور یہ حسن الحدیث ہے۔
حافظ برذعیl فرماتے ہیں: ’’قلت: أبو صالح كاتب الليث؟ فضحك، وقال: ذاك رجل حسن الحديث، قلت: أحمد يحمل عليه في كتاب ابن أبي ذئب، وحكاية سعيد بن منصور قد عرفتها، قال: نعم، وشيء آخر: سمعت عبد العزيز بن عمران يقول: قرأ علينا كتاب عقيل، فإذا في أوله مكتوب: حدثني أبي، عن جدي، عن عقيل، فإذا هو كتاب عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد، قلت: فأي شيء حاله في يحيى بن أيوب، ومعاوية بن صالح، والمشيخة؟ قال: كان يكتب لليث، والله أعلم‘‘[220].
میں نے ابو زرعہ l سے پوچھا: ابو صالح کاتبِ لیث؟ تو ابو زرعہ l ہنس پڑے، اور فرمایا: یہ شخص حسن الحدیث ہے، (حافظ برذعیl فرماتے ہیں) میں نے ابو زرعہl سے کہا: احمدl، ا بن ابی ذئب کی کتابت میں اس پر حمل کرتے ہیں، نیز آپ کو سعید بن منصور کی حکایت کی بھی معرفت ہے، ابو زرعہ l نے کہا: جی ہاں، اور ایک اور چیز کی بھی ہے، میں نے عبد العزیز بن عمران کو فرماتے سنا ہے کہ عبد اللہ بن صالح نے ہم پر عقیل کی کتاب پڑھی، اس کے شروع میں لکھا تھا: مجھے میرے والد نے میرے دادا سے روایت کرتے ہوئے، دادا نے عقیل سے نقل کرکے اسے روایت کیا ہے، پھر دیکھا تو وہ عبد الملک بن شعیب بن لیث بن سعد کی کتاب تھی، (حافظ برذعیl فرماتے ہیں) میں نے پوچھا کہ یحیی بن ایوب، معاویہ بن صالح اور مشیخہ میں اس کی کیا حالت ہے؟ ابو زرعہ l نے کہا: یہ لیث کےلئے لکھتا تھا، واللہ اعلم۔
حافظ ابو حاتمl فرما تے ہیں: ’’الأحاديث التي أخرجها أبو صالح في آخر عمره التي أنكروا عليه نرى أن هذه مما افتعل خالد بن نجيح، وكان أبو صالح يصحبه، وكان سليم الناحية، وكان خالد بن نجيح يفتعل الحديث، ويضعه في كتب الناس، ولم يكن وزن أبي صالح [وزن] الكذب، كان رجلا صالحا‘‘[221]. ابو صالح نے جو احادیث آخری عمر میں تخریج کی ہیں جن کی وجہ سے محدثین نے اس پر انکار کیا ہے، ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ وہ احادیث ہیں جن کو خالد بن نجیح نے گھڑا ہے، اور ابو صالح اس کے ساتھ ہوتا تھا، اور یہ ابو صالح گوشۂ سلامتی میں تھا، اور خالد بن نجیح حدیث گھڑ کر لوگوں کی کتابوں میں درج کر دیتا تھا، اور ابو صالح کی قدر وقیمت جھوٹ کا وزن نہیں ہے، اور یہ ابو صالح نیک شخص تھا۔
حافظ ابو حاتمl مزید فرما تے ہیں: ’’مصري، صدوق أمين، ما علمته‘‘[222]. میری معلومات کے مطابق یہ مصری، صدوق، امین ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[223] میں عبد اللہ بن صالح کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن رشدینl فرماتے ہیں: ’’سمعت أحمد بن صالح، يقول في عبد الله بن صالح: متهم، ليس بشيء، وقال فيه قولا شديدا‘‘[224]. میں نے احمد بن صالح سے سنا، وہ عبد اللہ بن صالح کے بارے میں فرما رہے تھے کہ یہ متہم، لیس بشیء ہے، اور احمد بن صالح نے اس کے بارے میں سخت بات کہی ہے۔
حافظ ابو علی صالح بن محمد جزرہl فرماتے ہیں: ’’ كان يحيى بن معين يوثقه، وعندي كان يكذب في الحديث‘‘[225]. یحیی بن معین l اس کی توثیق کرتے تھے، اور میرے نزدیک یہ حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔
امام ابو احمدحاکم l نے ’’الأسامي‘‘[226] میں عبد اللہ بن صالح جہنی کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[227] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، يروي عن الأثبات مالا يشبه حديث الثقات، وعنده المناكير الكثيرة عن أقوام مشاهير أئمة، وكان في نفسه صدوقا، يكتب لليث بن سعد الحساب، وكان كاتبه على الغلات، وإنما وقع المناكير في حديثة من قبل جار له رجل سوء، سمعت ابن خزيمة يقول: كان له جار بينه وبينه عداوة، فكان يضع الحديث على شيخ عبد الله بن صالح، ويكتب في قرطاس بخط يشبه خط عبد الله بن صالح، ويطرح في داره في وسط كتبه، فيجده عبد الله فيحدث به، فيتوهم أنه خطه وسماعه، فمن ناحيته وقع المناكير في أخباره‘‘.
یہ منکر الحدیث جداً ہے، اثبات کے انتساب سے ایسی اشیاء روایت کرتا ہے جو ثقہ راویوں کی حدیث کے مشابہہ نہیں ہوتیں، اور اس کے پاس مشہور ائمہ کے انتساب سے بہت سی مناکیر ہیں، اور یہ بذاتِ خود صدوق ہے، یہ لیث بن سعد کےلئے حساب لکھا کرتا تھا، اور عبد اللہ بن صالح، لیث بن سعد کے محصولات کا کاتب تھا، اور اس کی حدیث میں مناکیر اس کے ایک برے پڑوسی کی طرف سے واقع ہوئی ہیں، میں نے ابن خزیمہ l کو فرماتے ہوئے سنا: اس کا ایک پڑوسی تھا، اس کی اور اس کے پڑوسی کے درمیان کوئی عداوت تھی، چناچہ وہ پڑوسی عبد اللہ بن صالح کے شیخ پر حدیث گھڑتا تھا، اور وہ پڑوسی کاغذ میں ایسے خط کے ساتھ لکھتا تھا جو عبد اللہ بن صالح کے خط کے مشابہ ہوتا تھا، اور پھر اس کاغذ کو عبد اللہ بن صالح کے گھر میں اس کی کتب کے درمیان میں ڈال دیتا تھا، پھر جب عبد اللہ بن صالح اسے پاتے تو اس سے حدیث بیان کرتے تھے، اس وہم کی بناء پر کہ یہ اس کا خط ہے اور اس کی سماعت ہے، اسی وجہ سے اس کی اخبار میں مناکیر واقع ہوگئیں۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[228] میں عبد اللہ بن صالح کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں: ’’ولعبد الله بن صالح روايات كثيرة عن صاحبه الليث بن سعد، وعنده عن معاوية بن صالح نسخة كبيرة، ويروي عن يحيى بن أيوب صدرا صالحا، ويروي عن ابن لهيعة أخبارا كثيرة، ومن نزول رجاله عبد الله بن وهب، وهو عندي مستقيم الحديث، إلا أنه يقع في حديثه في أسانيده ومتونه غلط، ولا يتعمد الكذب، وقد روى عنه يحيى بن معين كما ذكرت‘‘.
اور عبد اللہ بن صالح کی بہت سی روایات اس کے ساتھی لیث بن سعد کے طریق سے ہیں، اور اس کے پاس معاویہ بن صالح کے انتساب سے ایک بڑا نسخہ تھا، اور یہ یحیی بن ایوب سے ابتداء میں احادیث روایت کرتا تھا، اور اس نے ابن لہیعہ کے انتساب سے بہت سی خبریں روایت کی ہیں، اور اس کے نازل رجال میں عبد اللہ بن وہب ہے، اور عبد اللہ بن صالح میرے نزدیک مستقیم الحدیث ہے، مگر یہ کہ اس کی حدیث میں، اسانید اور متون میں غلطی واقع ہوئی ہے، یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا، اور اس سے یحیی بن معین l نے روایت کی ہے جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں۔
حافظ خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[229] میں فرماتے ہیں: ’’ كبير، (غير) مخرج في صحيح البخاري، يقول: تابعه أبو صالح، ولا يخرجه في الرواية عنه، (مع) أن ابن معين قد روى عنه، لكنهم لم يتفقوا عليه، لأحاديث رواها يخالف فيها‘‘. بڑا ہے، صحیح بخاری میں اس کی روایت تخریج نہیں کی گئی، بخاری l فرماتے ہیں: ’’اس کی متابعت ابو صالح نے کی ہے‘‘، (حافظ خلیلی l فرماتے ہیں) اور اس سے روایت تخریج نہیں کی، البتہ ابن معین l نے اس سے روایت کی ہے، لیکن محدثین نے اس پر اتفاق نہیں کیا ہے، ان احادیث کی وجہ سے جن میں اس کی مخالفت کی گئی ہے[230]۔
حافظ ابن حزم اندلسیl نے ’’المحلى‘‘[231] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن صالح کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l’’تذكرة الحفاظ‘‘[232] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن صالح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعبد الله هذا متروك الحديث، كذاب‘‘. یہ عبد اللہ متروک الحدیث، کذاب ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغنی‘‘[233] میں فرماتے ہیں: ’’مكثر، صالح الحديث، له مناكير، والصحيح أن البخاري روى عنه في الصحيح، وروى عنه ابن معين‘‘. کثرت سے روایت کرنے والا ہے، صالح الحدیث ہے، اس کی مناکیر ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ بخاری l نے ’’صحیح‘‘ میں اس سے روایت کی ہے، اور اس سے ابن معین l نے بھی روایت کی ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[234] میں فرماتے ہیں: ’’هو صاحب حديث وعلم مكثر، وله مناكير‘‘. یہ صاحب حدیث اور کثیر علم والا ہے، اور اس کی مناکیر ہیں۔
حافظ ذہبیl ’’سير أعلام النبلاء‘‘[235] میں فرماتے ہیں: ’’قد شرحت حاله في ميزان الاعتدال وليناه، وبكل حال فكان صدوقا في نفسه، من أوعية العلم، أصابه داء شيخه ابن لهيعة، وتهاون بنفسه حتى ضعف حديثه، ولم يترك بحمد الله، والأحاديث التي نقموها عليه معدودة في سعة ما روى‘‘. میں ’’میزان الا عتدال‘‘ میں اس کا حال بیان کر چکا ہوں، اور اسے ’’لین‘‘ کہہ چکا ہوں، بہر صورت یہ بذاتِ خود صدوق، اوعیۃ العلم میں سے ہے، اسے اپنے شیخ ابن لہیعہ کا مرض پیش آیا ہے، اور یہ بذاتِ خود متساہل ہے، حتی کہ اس کی حدیث کی تضعیف کی گئی ہے، لیکن الحمد للہ یہ متروک نہیں ہے، اور اس کی وسیع مرویات میں گنی چنی چند احادیث ہیں جن میں محدثین نے اس پر نقد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق‘‘[236] میں فرماتے ہیں: ’’صالح الحديث، له مناكير، روى عنه ابن معين والبخاري، وقال أبو زرعة: حسن الحديث، وقال ابن عدي: هو عندي مستقيم الحديث، وله أغاليط، قلت: فتجتنب مناكيره‘‘. صالح الحدیث ہے، اس کی مناکیر ہیں، اس سے ابن معینl اور بخاری l نے روایت کی ہے، اور ابو زرعہ l فرماتے ہیں کہ یہ حسن الحدیث ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ مستقیم الحدیث ہے، اور اس کی اغالیط ہیں، میں (حافظ ذہبی l ) کہتا ہوں: اس کی مناکیر سے اجتناب کرنا چاہئے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’التقريب‘‘[237] میں فرماتے ہیں: ’’صدوق، كثير الغلط، ثبت في كتابه، وكانت فيه غفلة‘‘. یہ صدوق ہے، کثیر الغلط ہے، اپنی تحریر میں ثبت ہے، اور اس میں غفلت تھی۔
حوالہ جات
[212] تاريخ أبي سعيد هاشم بن مرثد الطبراني:ص:24،رقم:12،ت:نظر محمد الفاريابي .
[213] تاريخ بغداد:11/158،رقم:5063ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[214] العلل ومعرفة الرجال:۳/۲۱۲،رقم:۴۹۱۹،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[215] العلل ومعرفة الرجال:۳/۲4۲،رقم:5067،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[216] الجرح والتعدیل:۵/۸۶ ،رقم:۳۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[217] التاريخ الكبير:۵/۲۸، رقم:۶۴۲۸،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[218] الكنى و الأسماء:ص:۴۳۷،رقم:1۶۵۶،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[219] الجرح والتعدیل:۵/۸۷ ،رقم:۳۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[220] سؤالات البرذعي:ص:210،رقم:360،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[221] الجرح والتعدیل:۵/۸۷ ،رقم:۳۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[222] الجرح والتعدیل:۵/۸۷ ،رقم:۳۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[223] الضعفاء والمتروكين:ص:201،رقم:334،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[224] تاريخ بغداد:11/15۸،رقم:5063ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[225] تاريخ بغداد:11/15۹،رقم:5063ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[226] الأسامي والكنى:۴/۲۸۹،رقم:۳۴۱۱،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[227] المجروحين:۲/۴۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[228] الكامل في ضعفاء الرجال:۵/۳۴۷،رقم:۱۵۱۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[229] الإرشاد:1/400،رقم:168،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[230] واضح رہے کہ عبد اللہ بن صالح کا تفصیلی ترجمہ حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ہدی الساری‘‘میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے: ’’(خ د ت ق) عبد الله بن صالح الجهني أبو صالح، كاتب الليث: لقيه البخاري وأكثر عنه، وليس هو من شرطه في الصحيح، وإن كان حديثه عنده صالحا، فإنه لم يورد له في كتابه إلا حديثا واحدا، وعلق عنه غير ذلك على ما ذكر الحافظ المزي وغيره، وكلامهم في ذلك متعقب بما سيأتي، وعلق عن الليث بن سعد شيئا كثيرا كله من حديث أبي صالح، عن الليث، وقد وثقه عبد الملك بن شعيب بن الليث فيما حكاه أبو حاتم، قال: سمعته يقول: أبو صالح ثقة مأمون، وقد سمع من جدي حديثه، وكان أبي يحضه على التحديث، قال: وسمعت أبا الأسود النضر بن عبد الجبار، وسعيد بن عفير: يثنيان عليه، وقال سعد بن عمرو البردعي: قلت لأبي زرعة: أبو صالح كاتب الليث؟ فضحك، وقال: حسن الحديث، قلت: فإن أحمد يحمل عليه، قال: وشيء آخر، وقال ابن عبد الحكم: سمعت أبي: وقيل له: إن يحيى بن بكير يقول في أبي صالح: فقال: قل له هل جئنا الليث قط إلا وأبو صالح عنده رجل كان يخرج معه إلى الأسفار، وإلى الريف، وهو كاتبه، فينكر على هذا أن يكون عنده ما ليس عند غيره، وقال الذهلي: شغلني حسن حديثه عن الاستكثار من سعيد بن عفير، وقال يعقوب بن سفيان: حدثني أبو صالح الرجل الصالح، وقال عبد الله بن أحمد: سألت أبي عنه، فقال: كان في أول أمره متماسكا، ثم فسد بآخره، وقال أيضا: ذكرته لأبي فكرهه، وقال: إنه روى عن الليث، عن ابن أبي ذئب، وأنكر أن يكون الليث سمع من بن أبي ذئب، وقال أبو حاتم: سمعت ابن معين يقول: أقل أحوال أبي صالح أنه قرأ هذه الكتب على الليث، ويمكن أن يكون ابن أبي ذئب كتب إلى الليث بهذا الدرج، وقال صالح جزرة: كان ابن معين يوثقه، وعندي أنه يكذب في الحديث، وقال علي بن المديني: ضربت على حديثه، وقال النسائي: ليس بثقة، وقال أبو حاتم: الأحاديث التي أخرجها أبو صالح في آخر عمره فأنكروها عليه، أرى أن هذا مما افتعل خالد بن نجيح، وكان أبو صالح يصحبه، وكان أبو صالح سليم الناحية، وكان خالد يضع الحديث في كتب الناس، ولم يكن أبو صالح يروي الكذب، بل كان رجلا صالحا، وقال ابن حبان: كان صدوقا في نفسه، وروى مناكير، وقعت في حديثه من قبل جار له، كان يضع الحديث، ويكتبه بخط يشبه خط عبد الله، ويرميه في داره، فيتوهم عبد الله أنه خطه، فيحدث به، وقال ابن عدي: كان مستقيم الحديث إلا أنه يقع في أسانيده ومتونه غلط، ولا يتعمد الكذب .
[231] المحلى بالآثار:۱۰/۹۶،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[232] تذكرة الحفاظ:ص:3۸۴،رقم:۹۸۴،ت:حمدي عبد المجيدالسلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[233] المغني في الضعفاء:1/544،رقم:3218،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[234] ميزان الاعتدال:۲/440،رقم:4383،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[235] سير أعلام النبلاء:10/405 ،رقم:115.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .
[236] ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق:ص:109،رقم:184،ت:محمد شكور بن محمود الحاجي أمرير المياديني، مكتبة المنار ـ الأردن،الطبعة الأولى1406هـ .
[237] تقريب التهذيب:ص:308،رقم:3388،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .