التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوالحجاج رِشْدین بن سعد بن مُفْلح بن ہلال مہری مصری

المتوفی ۱۸۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابوالحجاج رِشْدین بن سعد بن مُفْلح بن ہلال مہری مصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابوالحجاج رِشْدین بن سعد بن مُفْلح بن ہلال مہری مصری (المتوفی ۱۸۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن سعدl ’’الطبقات‘‘[71] میں رِشْدین بن سعد قینی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’وهو رِشْدِين بن أبي رِشْدِين، وكان ضعيفا‘‘. اور یہ رِشْدین بن ابی رِشْدین ہے، اور یہ ضعیف ہے۔

حافظ یحیی بن معینl ، رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[72]. اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔

حافظ یحیی بن معینl نے ایک مقام پر رِشْدین بن سعد کو ’’ لیس بشيء‘‘ کہا ہے[73]۔

حافظ ابن نمیر l، رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرما تے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[74]. اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔

حافظ قتیبہ بن سعید l فرماتے ہیں: ’’ كان لا يبالي ما دفع إليه فقرأه‘‘[75]. جو کچھ اس کے حوالہ کیا جاتا تھا، یہ اسے پڑھ دیتا تھا، اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔

حافظ ابن شاہین l ’’تاريخ أسماء الثقات‘‘[76] میں فرماتے ہیں:  ’’نا عبد الله بن محمد البغوي، قال: سمعت أحمد بن حنبل، يقول: رِشْدِين أرجو أن يكون ثقة، أو صالح الحديث، وفي رواية أخرى عنه في رِشْدِين بن سعد المصري: رِشْدِين من أوثق الناس في الحديث، وكان يقول: إن رِشْدِين بن سعد مستجاب الدعوة‘‘. ہمیں عبد اللہ بن محمد بغوی l نے بیان کیا کہ میں نے احمد بن حنبل l کو فرماتے ہوئے سنا ہے: امید ہے کہ رِشْدین ثقہ ہے، یا کہا کہ صالح الحدیث ہے، اور ان سے رِشْدین بن سعد مصری کے بارے میں ایک دوسری روایت ہے: رِشْدین حدیث میں اوثق الناس ہے، اور وہ فرماتے تھے: بےشک رِشْدین بن سعد مستجاب الدعوہ ہے۔

امام ابو داؤدl فرماتے ہیں: ’’سمعت أحمد، قال: احترقت كتب ابن لهيعة، زعموا كان رِشْدِين بن سعد قد سمع منه كتبه، فكانوا يأخذون كتبه، فلا يأتونه بشيء إلا قرأ، سمعت أحمد، يقول: بلغني أن رِشْدِين بن سعد جاء إلى إبراهيم بن أبي يحيى، فقال له إبراهيم: تعال حتى أقرأ عليك، قال: لا أريده، أجزه لي‘‘[77]. میں نے احمد بن حنبل lکو فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن لہیعہ کی کتابیں جل گئی تھیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ رِشْدین بن سعد نے ان سے ان کی کتب سنی ہیں، سو لوگ ان کی کتب لاتے تھے، وہ کچھ بھی لے آتے رِشْدین بن سعد اس کی قراءت کر دیتے۔ (امام ابو داؤدl فرماتے ہیں)میں نے احمد بن حنبل lکو فرماتے ہوئے سنا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رِشْدین بن سعد، ابراہیم بن ابی یحیی کے پاس آیا، تو ابراہیم نے کہا: آؤ، تاکہ میں تم پر قراءت کروں، رِشْدین بن سعد نے کہا: میں یہ نہیں چاہتا، آپ مجھے اس کی اجازت دے دیجئے۔

تنبیہ: اس قول کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔

حافظ ابو الحسن عبد الملک بن عبدالحمید میمونیl فرماتے ہیں:  ’’سمعت أبا عبد الله يعني: أحمد بن حنبل يقول: رِشْدِين بن سعد ليس يبالي عن من روى، لكنه رجل صالح، فوثقه هيثم بن خارجة، وكان في المجلس، فتبسم أبو عبد الله، ثم قال: ليس به بأس في أحاديث الرقاق‘‘[78]. میں نے ابو عبداللہ یعنی احمد بن حنبلl سے سنا ، وہ فرماتے ہیں: رِشْدین کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس سے روایت کررہا ہے، لیکن وہ نیک شخص ہے، ہیثم بن خارجہ نے اس کی توثیق کی ہے، اور ہیثم مجلس میں تھے، پھر ابو عبداللہ l مسکرائے، پھر فرمایا: یہ (یعنی رِشْدین بن سعد) احادیثِ رقاق میں ’’لیس بہ باس‘‘ ہے۔

حافظ جوزجانی l’’أحوال الرجال‘‘[79] میں فرماتے ہیں: ’’ابن لهيعة لا يوقف على حديثه، ولا ينبغي أن يحتج به، ولا يغتر بروايته، رِشْدِين بن سعد مشاكل له، عنده معاضيل ومناكير كثيرة، سمعت ابن أبي مريم يثني عليه في دينه، فأما حديثه ففيه ما فيه‘‘. ابن لہیعہ کی حدیث پر واقفیت نہیں ہوتی، اور اس سے احتجاج مناسب نہیں، اور اس کی روایت سے دھوکہ نہ کھایا جائے، رِشْدین بن سعد اسی کے مشابہہ ہے، ان کے پاس معضل روایات اور بہت سی مناکیر تھیں، میں نے ابن ابی مریم کو سنا وہ اس کے دین کی تعریف کررہے تھے، تاہم اس کی  حدیث میں جو ہے سو ہے۔

امام مسلم l نے’’ الكنى‘‘[80] میں اسے ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ lنے رِشْدین بن سعد کو  ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[81]۔

امام ابو داؤدl نے رِشْدین بن سعد کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[82]۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’رِشْدِين بن سعد منكر الحديث، وفيه غفلة، ويحدث بالمناكير عن الثقات، ضعيف الحديث، ما أقربه من داود بن المحبر، وابن لهيعة استر، ورِشْدِين أضعف‘‘[83]. رِشْدین بن سعد منکر الحدیث ہے، اور اس میں غفلت تھی، اور یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر بیان کرتا ہے، ضعیف الحدیث ہے، یہ داؤد بن محَبَّر کے کتنا ہی قریب ہے،  اور ابن لہیعہ ’’استر‘‘ ہے، اور رِشْدین اضعف ہے۔

اس داؤد بن محَبَّر کے بارے میں حافظ ابو حاتمl کا ارشاد ہے: ’’غير ثقة، ذاهب الحديث، منكر الحديث‘‘[84]. ثقہ نہیں ہے، ذاہب الحدیث، منکر الحدیث ہے۔

حافظ یعقوب بن سفیان فَسَویl ’’المعرفة والتاريخ‘‘[85] میں فرماتے ہیں: ’’وسمعت مشايخ مصر يقولون: كان رِشْدِين بن سعد المَهْري عندنا من الأبدال‘‘. میں نے مصر کے مشایخ سے سنا، وہ فرماتے ہیں: رِشْدین بن سعد مہری ہمارے ہاں ابدال میں سے ہے۔

امام ترمذیl اپنی ’’سنن‘‘[86] میں فرماتے ہیں: ’’وقد تكلم بعض أهل العلم في رِشْدِين بن سعد، وضعفوه من قبل حفظه‘‘. اور بعض اہل علم نے رِشْدین بن سعد کے بارے میں کلام کیا ہے، اور اس کے حفظ کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیاہے ۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[87] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ورِشْدِين بن سعد لم يكن حافظا، وقد روى عنه ابن المبارك، فمن دونه، واحتملوا حديثه، وعبد الرحمن بن زياد لم يكن أيضا حديثه يدل على أنه حافظ، لأن في حديثه مناكير، وكان أحد العقلاء، وروى عنه الناس، ولا يكون رِشْدِين، ولا عبد الرحمن بن زياد حجة في حديث إذا انفردا به، ولا واحد منهما إذا انفرد بحديث‘‘. اور رِشْدین بن سعد حافظ نہیں تھا، اور ابن مبارک، نیز ان کے بعد والے رِشْدین سے روایت کرتے تھے، اور اس کی حدیث کا ’’حمل‘‘کرتے تھے، اور عبد الرحمن بن زیاد کی حدیث بھی اس پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ حافظ ہے، کیونکہ اس کی حدیث میں مناکیر ہیں، اور یہ عقلاء میں سے ایک تھا، اور اس سے لوگ روایت کرتے تھے، اور جب رِشْدین اور عبد الرحمن بن زیاد تنہا ہوں تو یہ حدیث میں حجت نہیں ہوتے، اور نہ ہی اس صورت میں کہ ان میں سے کوئی ایک حدیث میں تنہا ہو۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[88]میں رِشْدین بن سعد کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائیl ایک مقام پر رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’ضعيف الحديث، لايكتب حديثه‘‘[89]. ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔

حافظ عمرو بن علی فلاس lنے رِشْدین بن سعد کو ’’ضعيف الحدیث‘‘ کہا ہے[90]۔

حافظ ابو محمد ابن جارودl نے رِشْدین بن سعد کو ’’ليس بشئ‘‘ کہا ہے[91]۔

حافظ ابو سعید ابن یونس مصری l ، رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان رجلا صالحا، لا يشك في صلاحه وفضله، فأدركته غفلة الصالحين، فخلط في الحديث‘‘[92]. اور یہ نیک شخص تھا، جس کی صلاح اور فضل میں کوئی شک نہیں، پھر یہ صالحین کی غفلت کا شکار ہوگیا، سو اس نے حدیث میں خلط کیا ہے۔

حافظ مغلطای lنے ’’إكمال‘‘[93] میںحافظ ابن یونس مصری l کے قول میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے: ’’أساء فيه يحيى بن معين القول، ولم يكن النسائي يرضاه، ولا يخرج عنه‘‘. یحیی بن معین l ان کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرتے تھے، اور نسائی lان سے راضی نہیں تھے، اور نہ ہی ان سے تخریج کی ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[94] میں رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يجيب في كل ما يسأل، ويقرأ كل ما يدفع إليه، سواء كان ذلك من حديثه، أو من غير حديثه، ويقلب المناكير في أخباره على مستقيم حديثه‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہر سوال کا جواب دیتے ہیں، اور یہ ہر اس چیز کو قراءت کردیتے ہیں جو ان کو دی جائے، خواہ وہ ان کی حدیث میں سے ہو یا کسی غیر کی حدیث میں سے ہو، اور یہ اپنی اخبار میں مستقیم حدیث پر مناکیر کا قلب کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[95] میں رِشْدین بن سعد کے ترجمہ میں اس کی بعض احادیث کی تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ورِشْدِين بن سعد له أحاديث كثيرة غير ما ذكرت، وعامة أحاديثه عمن يرويه عنه ما أقل فيها ممن يتابعه أحد عليه، وهو مع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور رِشْدین بن سعد کی میری ذکرکردہ حدیث کے علاوہ بھی بہت احادیث ہیں، اور اس کی اکثر احادیث اپنے مروی عنہ سے ایسی ہیں کہ بہت کم کسی نے ان میں اس کی متابعت کی ہے، اور اس کے ضعف کے باوجود اس کی حدیث کو لکھا جائے گا۔

حافظ ابو احمدحاکم l ’’الأسامي‘‘[96] میں رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[97] میں اسے’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابویعلی خلیلی قزوینیl ’’الإرشاد‘‘[98] میں رِشْدین بن سعد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه، ولم يتفقوا عليه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔

امام بیہقی lنے ’’شعب الإيمان‘‘[99] میں ایک روایت کے تحت رِشْدین بن سعد کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[100] میں ایک روایت کے تحت رِشْدین بن سعد کو’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[101] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[102] میں رِشْدین بن سعد کے بارے  میں فرماتے ہیں: ’’كان صالحا عابدا، سيئ الحفظ، غير معتمد‘‘. یہ صالح، عابد، سیئ الحفظ، غیر معتمد تھا۔

نیز حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[103] میں کاتبِ لیث، ابو صالح عبد اللہ بن صالح کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’لكن رِشْدِين أضعف من أبي صالح، فالعهدة عليه‘‘. لیکن رِشْدین، ابو صالح سے زیادہ ضعیف ہے، سو ذمہ داری اسی پر ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[104] میں اصبغ بن دحیہ کے ترجمہ میں رِشْدین بن سعد کو ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص الموضوعات‘‘[105] میں ایک روایت کے تحت ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ عراقیl’’المغني‘‘[106]میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه رِشْدِين بن سعد، ضعفه الجمهور، لسوء حفظه‘‘.اس میں رِشْدین بن سعد ہے، جمہور نے سوءِ حفظ کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ہیثمی l’’مجمع الزوائد‘‘[107] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه رشدين بن سعد، ضعفه الأكثرون، وقال أحمد: يحتمل حديثه في الرقائق‘‘. اس میں رِشْدین بن سعد ہے، اکثر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور احمد l فرماتے ہیں: رقائق میں اس کی حدیث کا تحمل کیا جاتا ہے۔

حافظ ہیثمی l’’مجمع الزوائد‘‘[108] میں ایک روایت کے تحت رِشْدین بن سعدکے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والجمهور على تضعيفه، وقد وثق‘‘. اور جمہور نے اس کی تضعیف کی ہے، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[109] میں ایک روایت کے تحت رِشْدین بن سعد کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’موافقة الخبر‘‘[110] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ورِشْدِين وإن كان فيه ضعف، لكنه يحتمل في المتابعات‘‘. رِشْدین میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن متابعات میں قابل تحمل ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانی l نے ’’تعجيل المنفعة‘‘[111] میں ایک حدیث کے تحت رِشْدین بن سعد کو ’’أحد الضعفاء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانی l نے ’’التلخيص‘‘[112] میں ایک روایت کے تحت رِشْدین بن سعد کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[71] الطبقات الكبرى:۷/۳۵۸،رقم:۴۰۷۴،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1418هـ .

[72] الجرح والتعديل:3/513،رقم:۲۳۲۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[73] سؤالات ابن الجنيد:ص:384،رقم:452 ،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[74] الجرح والتعديل:3/513،رقم:۲۳۲۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[75]التاريخ الكبير:3/287،رقم:4039،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1429هـ .

[76] تاريخ أسماء الثقات:ص:87 ،رقم:366،ت:صبحي السامرائي،الدار السلفية ـ الكويت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[77] سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل:ص:246،رقم:256 ـ 257،ت:زياد محمد منصور،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1414هـ .

[78] تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/193،رقم:1911،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الثانية ۱۴07هـ .

[79] أحوال الرجال:ص:26۶،رقم:279ـ280،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[80] الكنى والأسماء:ص:1/262،رقم:902،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[81] الجرح والتعديل:3/513،رقم:۲۳۲۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[82] سؤالات أبي عبيد الآجري:1/180،رقم:1530،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[83] الجرح والتعديل:3/513،رقم:۲۳۲۰،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[84] الجرح والتعديل:۳/۴۲۴،رقم:۱۹۳۱،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .

[85] المعرفة والتاريخ:2/186،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[86]  سنن الترمذي:۱/۵۲۰،رقم:513،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996 هـ .

[87] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۰/۹۹،رقم:۴۱۶۲،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1424هـ .

[88] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۷۸،رقم:۲۰۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[89] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/195،رقم:1911،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[90] الكامل:4/69،رقم:669،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[91] انظر إكمال تهذيب الكمال:۴/۳۸۳،رقم:۱۵۹۷،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[92] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:9/195،رقم:1911،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[93] إكمال تهذيب الكمال:۴/۳۸۵،رقم:۱۵۹۷،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[94] المجروحين:1/303،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[95] الكامل في ضعفاء الرجال:4/85 ،رقم:669،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[96] الأسامي والكنى:3/13،رقم:1963،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ . 

[97] الضعفاء والمتروكون:ص:2۰۹،رقم:220،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ  الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[98] الإرشاد فى معرفة علماءالحديث:1/4۲۲،رقم:1۷۴،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .

[99] شعب الإيمان:9/4۲۱،رقم:۶۹۱۵،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .

[100] تذكرة الحفاظ:ص:298،رقم:743،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[101] ذخيرة الحفاظ:ص:603،رقم:1005، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[102] ميزان الاعتدال:۲/۴۹،رقم:۲۷۸۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[103] ميزان الاعتدال:۲/۴۴۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[104] المغني في الضعفاء:۱/140،رقم:767،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[105] تلخيص كتاب الموضوعات: ص:39،رقم:67،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[106]  المغني عن حمل الأسفار:2/۱۰۲۱،رقم:3۷۱۵،أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[107] مجمع الزوائد:۱/۲۰۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[108] مجمع الزوائد:۱/۱۶۰،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[109] مجمع الزوائد:۱/۱۱۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[110] موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر:۱/۴۴۴،ت:حمدي السلفي وصبحي السيد جاسم، مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴14هـ .

[111] تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة:۲/۴۳۸،رقم:1254،ت:إكرم الله إمداد الحق، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .

[112] تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:۱/۱۳۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ