اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ضرار بن عمرو ملطی کوفی بغدادی بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l ضرار بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ليس بشىء، ولا يكتب حديثه‘‘[112]. یہ لیس بشیء ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[113] میں ضرار بن عمرو کے بارے میں فرمایا: ’’وفيه نظر‘‘.
حافظ ابو زرعہ l نے ضرار بن عمرو ملطی کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[114] ۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[115] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، كثير الرواية عن المشاهير بالأشياء المناكير، فلما غلب المناكير في أخباره بطل الاحتجاج بآثاره‘‘. ضرار بن عمرو شدید منکر الحدیث ہے، یہ مشاہیر سے کثرت سے منکر احادیث روایت کرنے والا ہے، چنانچہ جب اس کی اخبارمیں مناکیر کا غلبہ ہوگیا تو اس کےآثار سے احتجاج باطل ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[116]میں ضرار بن عمروکے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وضرار بن عمرو هذا منكر الحديث‘‘. ضرار بن عمرو منکر الحدیث ہے۔
حافظ دارقطنی l نے ضرار بن عمرو کو ’’الضعفاء والمتروکون‘‘[117] میں ذکر کیا ہے[118]۔
حافظ دارقطنی l نے ایک مقام پر ضرار بن عمرو کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[119]۔
حافظ ابونعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[120]میں ضرار بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن يزيد الرقاشي وأبان بن أبي عياش وغيرهما مناكير‘‘. یزید رقاشی، ابان بن ابی عیاش وغیرہ سے مناکیر روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[121] میں ایک روایت کے تحت ضرار بن عمرو کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ جوزقانیl ’’الأباطيل‘‘[122] میں فرماتے ہیں: ’’والحسين الزاهد، وإسماعيل بن أبي زياد، وجويبر، وضرار بن عمرو، ويزيد الرقاشي خمستهم متروكون مجروحون‘‘. حسین زاہد، اسماعیل بن ابی زیاد، جویبر، ضرار بن عمرو اور یزید رقاشی یہ پانچوں متروک مجروح ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[123]میں ضرار بن عمرو کو ’’متروک‘‘ اور ’’المغني‘‘[124] میں ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[125] میں ایک روایت کے تحت ضرار بن عمرو کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[112] الكامل5/۱۶۰،رقم:۹۴۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[113] التاریخ الکبیر:۴/۲۸۹،رقم:5945،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[114] سؤالات البرذعي:ص:117،رقم:114،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[115] المجروحين:۱/۳۸۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[116] الكامل في الضعفاء:5/۱۶۱،رقم:۹۴۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.
[117] الضعفاء والمتركون:ص:253،رقم:302،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[118] حافظ ابو بکر برقانی l فرماتے ہیں: امام دار قطنی l ان اوراق (یعنی اس کتاب ) میں حروف معجم کی ترتیب پر اُن روات کو لے کر آئے ہیں جن کا ’’متروک‘‘ ہونا ہمارے اور امام دار قطنی l کے درمیان قرار پا یا ہے، حافظ ابو بکر برقانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’قال أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي البرقاني: طالت محاورتي مع أبو منصور إبراهيم بن الحسين بن حمكان، لأبي الحسن علي بن عمر الدارقطني عفا الله عني وعنهما في المتروكين من أصحاب الحديث، فتقرر بيننا وبينه على ترك من أثبته على حروف المعجم في هذه الورقات‘‘ (الضعفاء والمتروکون:ص:95،ت: موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ) .
[119] انظر تاريخ الإسلام:4/90،رقم:111،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .
[120] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/69،رقم:103،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[121] ذخيرة الحفاظ:ص:1995،رقم:4578،ت:عبد الرحمن الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1416هـ .
[122] الأباطيل والمناكير:1/۲۰۷،ت:عبد الرحمن عبد الجبار،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى1403هـ .
[123] ديوان الضعفاء:ص:۱۹۸،رقم:۱۹۹0،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[124] المغني في الضغفاء:1/496 ،رقم:2920،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴18هـ .
[125] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:215،رقم:533،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱9هـ .