اس روایت کی تحقیق سے8 میں سے 1
روایت:’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نعم الدواء الأرز، صحيح سليم من كل داء‘‘. چاول کتنی اچھی دواء ہے، صحیح ہے، ہر مرض سے محفوظ ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو اسماعیل ابان بن ابی عیاش فیروز بصری (المتوفی ۱۳۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
علامہ محمد بن موسی حَرَشِی اور علامہ عبد الرحمن بن مبارک عَیْشی، حماد بن زید سے نقل کرتے ہیں: ’’قلت لسلم العلوي: حدثني، قال: يا بني عليك بأبان، فإني قد رأيته يكتب بالليل عند أنس بن مالك عند السراج.زاد العيشي، عن حماد قال: فذكرت ذلك لأيوب، فقال: ما زال نعرفه بالخير منذ كان‘‘[12].
میں نے سَلم علوی سے کہا: آپ مجھے حدیث بیان کریں، سَلم نے کہا: اے بیٹا! تم ابان کو لازم پکڑو، کیونکہ میں نے اسے دیکھا ہے کہ وہ چراغ کے سامنے انس بن مالک r کے ساتھ بیٹھ کر لکھا کرتا تھا، عَیْشی، حماد سے یہ اضافہ بھی نقل کرتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایوب سے کہی تو ایوب نے کہا: ایک عرصہ سے ہم ان میں خیر ہی کو پہچانتے ہیں۔
امام شعبہ l فرماتے ہیں: ’’ لأن أشرب من بول حمار حتى أروي أحب إلي من أن أقول: حدثنا أبان بن أبي عياش‘‘[13]. میں ابان بن ابی عیاش سے روایت نقل کروں، مجھے اس سے زیادہ پسند یہ ہے کہ خوب سیر ہوکر گدھے کا پیشاب پیوں۔
علامہ ابن ادریسl فرماتے ہیں: ’’قلت لشعبة: حدثني مهدي بن ميمون، عن سَلْم العلوي، قال: رأيت أبان بن أبي عياش يكتب عن أنس بالليل، فقال شعبة: سلم يرى الهلال قبل الناس بليلتين‘‘[14].
میں نے شعبہl سے کہا: مجھے مہدی بن میمون نے سلم علوی سے نقل کیا ہے، سَلم فرماتے ہیں کہ میں نے ابان بن ابی عیاش کو رات کے وقت انس بن مالکr سے احادیث لکھتے ہوئے دیکھا ہے، تو اس کے جواب میں شعبہl نے کہا: سَلم تو چاند بھی لوگوں سے دو دن پہلے دیکھ لیتا ہے۔
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن مثنی انصاری l فرماتے ہیں: ’’ كنت مع سلام بن أبي مطيع، فذكرنا أبان بن أبي عياش، فقال: لا تحدث عنه بشيء، وانظر حديثك عن حميد، فازدهر بحديثه‘‘[15]. میں سلام بن ابی مطیع کے ساتھ تھا ہم نے ابان بن ابی عیاش کا ذکر کیا، تو سلام بن ابی مطیع نے فرمایا: اس سے کچھ بھی بیان نہ کرو، اور اپنی حدیث حمید سے بیان کرکے اسے محفوظ کرو۔
حافظ ابو عبد اللہ محمد بن سعد l نے ’’الطبقات الكبرى‘‘[16] میں ابان بن ابی عیاش کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’ كان يكذب‘‘[17]. یہ جھوٹ بولتا تھا۔
نیز حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وهو متروك الحديث، يعني أبان‘‘[18] . اور ابان متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابو عوانہ l فرماتے ہیں: ’’أتيت أبان بن عياش بكتاب فيه حديث من حديثه، وفي أسفل الكتاب حديث رجل من أهل واسط، فقرأه علي أجمع‘‘[19]. میں ابان بن ابی عیاش کے پاس ایک کتاب لایا جس میں ان کی احادیث میں سے احادیث تھیں، اور ایک کتاب کے ختم پر اہل واسط کے ایک شخص کی احادیث تھیں، پھر ابان نے یہ سب مجھ پر پڑھ دیں۔
نیز حافظ ابو عوانہ l ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’ لا أستحل أن أروي عنه شيئا‘‘[20]. میں اس سے کچھ بھی روایت کرنے کو حلال نہیں سمجھتا۔
علامہ ابو طالب مشکانی l فرماتے ہیں: ’’قال أحمد يعني ابن حنبل: لا تكتب عن أبان بن عياش شيئا، قلت: كان له هوى؟ قال: كان منكر الحديث‘‘[21]. احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ابان بن ابی عیاش سے کچھ مت لکھو، میں نے کہا: اس میں بدعت تھی؟ احمد بن حنبل l نے فرمایا: وہ منکر الحدیث تھا۔
امام علی بن مدینیl ابان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وکان ضعیفا، ضعيفا عندنا‘‘[22]. ضعیف تھا، اور ہمارے نزدیک بھی ضعیف ہے۔
امام احمد بن حنبلl ’’العلل ومعرفة الرجال‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، ترك الناس حديثه مذ دهر من الدهر‘‘. متروک الحدیث ہے، لوگوں نے ایک زمانے سے اس کی حدیث کو ترک کر رکھا ہے۔
نیز امام احمد بن حنبلl ’’العلل ومعرفة الرجال‘‘[24] میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ كان وكيع إذا أتى على حديث أبان بن أبي عياش يقول: رجل، لا يسميه، استضعافا له‘‘. وکیع l جب ابان بن ابی عیاش کی حدیث پر آتے، تو رجل کہتے، اسے ضعیف سمجھتے ہوئے اس کا نام نہیں لیتے تھے۔
حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’قرأت على أبي حديث عباد بن عباد، فلما انتهى إلى حديث أبان بن أبي عياش، قال: اضرب عليها، فضربت عليها وتركها، وقال: اضرب على حديث جعفر بن الزبير‘‘[25]. میں نے اپنے والد پر عباد بن عباد کی حدیث پڑھی، جب میں ابان بن ابی عیاش کی حدیث پر پہنچا تو والد نے فرمایا: اسے ترک کردو، میں نے اسے ترک کر دیا اور انہوں نے بھی اس کی حدیث کو ترک کر دیا، اور والد نے فرمایا: جعفر بن زبیر کی حدیث کو ترک کردو۔
حافظ عمرو بن علی صیرفی l فرماتے ہیں: ’’ كان يحيى وعبد الرحمن لا يحدثان عن أبان بن أبي عياش‘‘[26]. یحیی l اور عبد الرحمن l ، ابان بن ابی عیاش سے روایت نہیں کرتے تھے۔
حافظ عمرو بن علی صیرفی l ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، وهو رجل صالح‘‘[27]. متروک الحدیث ہے، اور یہ نیک شخص ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب سعدی l نے ’’ أحوال الرجال‘‘[28] میں ابان بن ابی عیاش کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ ابو زرعہ l سے ابان کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ’’ترك حديثه، ولم يقرأ علينا حديثه، فقيل له كان يتعمد الكذب؟ قال: لا، كان يسمع الحديث من أنس، وشهر بن حوشب، ومن الحسن، فلا يميز بينهم‘‘[29]. یہ متروک الحدیث ہے، اورابو زرعہ l نے ہم پر اس کی حدیث نہیں پڑھی، ابو زرعہ l سے پوچھا گیا کہ یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا تھا؟ ابو زرعہ l نے فرمایا: نہیں، (بلکہ) یہ انس r ، شہر بن حوشب اور حسن l سے حدیث سنتا تھا ،لیکن ان میں فرق نہیں کرپاتا تھا۔
امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’ لا يكتب حديث أبان‘‘[30]. ابان کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔
امام ترمذیl اپنی ’’سنن‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’وأبان بن أبى عياش وإن كان قد وصف بالعبادة والاجتهاد فهذا حاله في الحديث، والقوم كانوا أصحاب حفظ، فرب رجل وإن كان صالحا لا يقيم الشهادة ولا يحفظها، فكل من كان متهما في الحديث بالكذب أو كان مغفلا يخطئ الكثير، فالذي اختاره أكثر أهل الحديث من الأئمة أن لا يشتغل بالرواية عنه، ألا ترى أن عبد الله بن المبارك حدث عن قوم من أهل العلم، فلما تبين له أمرهم ترك الرواية عنهم‘‘.
ابان بن ابی عیاش اگرچہ عبادت اور اجتہاد کے ساتھ متصف ہے، یہ اس کی حالت حدیث میں ہے، اور بہت سے لوگ اصحابِ حفظ ہوتے ہیں، اور بسا اوقات ایک شخص اگرچہ وہ صالح ہوتا ہے لیکن وہ گواہی قائم نہیں کر سکتا اور نہ ہی گواہی محفوظ کر سکتا ہے، چنانچہ ہر وہ شخص جو حدیث میں متہم بالکذب ہو یا مغفل کثیر الخطاء ہو تو ائمہ میں سے اکثر محدثین نے یہ اختیار کیا ہے کہ اس کی روایت میں مشغول نہ ہوا جائے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عبد اللہ بن مبارک l نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کی ہے، جب ان کا معاملہ واضح ہوا تو عبد اللہ بن مبارک l نے ان سے روایت کا لینا ترک کردیا۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، وكان رجلا صالحا، لكن بلي بسوء الحفظ‘‘[32]. ابان متروک الحدیث ہے، اور یہ نیک شخص تھا، لیکن یہ سوء حفظ میں مبتلا ہوگیا تھا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[33] میں ابان بن ابی عیاش کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l ہی ایک موقع پر فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[34]. یہ لیس بثقہ ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا صالحا سخيا كريما، فيه غفلة، يهم في الحديث ويخطئ فيه، روى عنه الناس، ترك حديثه لغفلة كانت فيه، لم يحدث عنه شعبة، ولا عبد الرحمن، ولا يحيى‘‘[35]. یہ نیک، سخی،کریم شخص تھا، اس میں غفلت تھی، حدیث میں وہم میں مبتلاء تھا، حدیث میں خطاء کرتا تھا، اس سے لوگوں نے روایت کی ہے، اس میں موجود غفلت کی وجہ سے اس کی حدیث کو ترک کردیا گیا تھا، شعبہ l ، عبد الرحمن l اور یحیی l اس سے حدیث روایت نہیں کرتے تھے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’وكان من العباد الذي يسهر الليل بالقيام، ويطوي النهار بالصيام، سمع عن أنس بن مالك أحاديث، وجالس الحسن، فكان يسمع كلامه، ويحفظ، فإذا حدث ربما جعل كلام الحسن، الذي سمعه من قوله، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وهو لا يعلم، ولعله روى عن أنس أكثر من ألف وخمسمائة حديث، ما لكبير شيء منها أصل يرجع إليه‘‘.
ابان ان عبادت گزارلوگوں میں تھا، جو رات نماز میں، اور دن روزے میں بسر کرتےتھے، ابان نے انس بن مالک r سے حدیثیں سنی تھیں، یہ حسن l کے پاس بیٹھ کر ان کا کلام سن کر یاد کرتاتھا، پھر بیان کرتے ہوئے لاعلمی میں حسن l کے سنے ہوئے کلام کو انسr ، عن النبی ﷺ کے طور پر بیان کر دیتا تھا، شاید ابان نے انس r سے پندرہ سو سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں، ان میں ایک بڑے حصہ کی کوئی ایسی اصل موجود نہیں جس کی جانب رجوع کیا جا سکتا ہو۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[37] میں لکھتے ہیں: ’’وعامة ما يرويه لا يتابع عليه، وهو بين الأمر في الضعف، وقد حدث عنه كما ذكرته الثوري، ومعمر، وابن جريج، وإسرائيل، وحماد بن سلمة، وغيرهم ممن لم نذكرهم، وأرجو أنه ممن لا يتعمد الكذب إلا أن يشبه عليه ويغلط، وعامة ما أتاني أبان من جهة الرواة لا من جهته، لأن أبان رووا عنه قوم مجهولين لما أنه فيه ضعف، وهو إلى الضعف أقرب منه إلى الصدق، كما قال شعبة‘‘.
اس کی روایات میں اکثر اس کی متابعت نہیں ہوتی، اور اس کا معاملہ ضعف میں واضح ہے، اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ اس سے ثوری ، معمر ، ابن جریج ، اسرائیل اور حماد بن سلمہ وغیرہ افراد نے روایات نقل کی ہیں جن کو میں نے ذکر نہیں کیا، اورمجھے امید ہے کہ یہ جھوٹ نہیں بولتا تھا، لیکن اس پر احادیث مشتبہ ہوجاتی تھیں، اور یہ غلطی کر بیٹھتا ہے، اور ابان جو کچھ لاتا ہے اس میں اکثر راویوں کی جانب سے ہوتا ہے، اس کی جانب سے نہیں ہوتا، کیونکہ ابان سے مجہول افراد کی ایک جماعت نے روایات نقل کیں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خود ابان میں بھی ضعف ہے، اور وہ بمقابلہ صدق کے ضعف کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ شعبہ l نے کہا ہے۔
حافظ ابو احمدحاکمl نے’’الأسامي‘‘[38] میں ابان بن ابی عیاش کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[39] میں ابان بن ابی عیاش کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن شاہین l ’’المختلف فيهم‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’وقد روى عن أبان نبلاء الرجال فما نفعه ذلك، ولا يعتمد على شيء من روايته إلا ما وافقه عليه غيره، وما تفرد به من حديث فليس عليه عمل‘‘. اور ابان سے شرفاء نے روایت کیا ہے، ان کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور اس کی روایت میں کسی چیز پر اعتماد نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ جس چیز میں اس کی کوئی دوسرا موافقت کرے، اور جس حدیث میں یہ متفرد ہو تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[41] میں ایک روایت کے تحت ابان بن ابی عیاش کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عبد البر l ’’التمهيد‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’أبان بن أبي عياش مجتمع على ضعفه وترك حديثه‘‘. ابان بن ابی عیاش کے ضعف اور اس کی حدیث کے ترک پر اتفاق ہے۔
حافظ ذہبیl نے ابان بن ابی عیاش کو ’’ المقتنى‘‘[43] میں ’’واه‘‘ اور ’’تاريخ الإسلام‘‘[44] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے ’’التقريب‘‘[45] میں ابان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[46] میں ابان بن ابی عیاش کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’متروك، اتهم بكذب‘‘. متروک ہے، جھوٹ بولنے میں متہم ہے۔
حوالہ جات
[12] تهذيب الكمال:2/20،رقم:142،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[13] انظر ميزان الاعتدال:1/10،رقم:15،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[14] ميزان الاعتدال:1/10،رقم:15،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[15] العلل ومعرفة الرجال:۳/۳۶۰،رقم:۵۵۷۸،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[16] الطبقات الكبرى:7/188،رقم:3204،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[17] معرفة الرجال:1/64،رقم:116،ت:محمد كامل القصارمجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[18] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/117،رقم:3625،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[19] الجرح والتعدیل:2/29۵،رقم:1087،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[20] الضعفاء والمتروکین:1/19،رقم:15،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[21] الجرح والتعدیل:2/296،رقم:1087،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[22] سؤالات ابن أبي شيبة:ص:54،رقم:17،ت:موفق بن عبد الله,مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[23] العلل ومعرفة الرجال:۱/۴۱۲،رقم:۸۷۲ ،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[24] العلل ومعرفة الرجال:۲/۵۲۵،رقم:۳۴۶۷،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[25] العلل ومعرفة الرجال:۳/۲۰۶،رقم:۴۸۷۸،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[26] الجرح والتعدیل:2/296،رقم:1087،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[27] تهذيب الكمال:2/۱۹،رقم:142،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[28] أحوال الرجال:1/173،رقم:160،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان .
[29] الجرح والتعدیل:2/296،رقم:1087،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[30] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:319،رقم:490،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1399.
[31] سنن الترمذي:۶/۲۳۵،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1996ء .
[32] الجرح والتعدیل:2/296،رقم:1087،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[33] الضعفاء والمتروكين:ص:45،رقم:21،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[34] تهذيب الكمال:2/2۲،رقم:142،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[35] إكمال تهذيب الكمال:۱/۱۶۸،رقم:۱۸۰،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى 1422هـ .
[36] المجروحين:1/96،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1۴۱۲هـ .
[37] الكامل:2/67،رقم:203،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[38] الأسامي والكنى:1/147،رقم:241،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[39] الضعفاء والمتروكون:ص:148،رقم:103،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۰۴ هـ .
[40] المختلف فيهم:ص:20،رقم:1،ت:عبد الرحيم بن محمد بن أحمد القشقري،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1420هـ .
[41] السنن الكبرى للبيهقي:10/12،رقم:19695،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[42] التمهيد:15/236،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ.
[43] المقتنى في سرد الكنى:1/77،رقم:292،ت:محمد صالح عبد العزيز،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[44] تاريخ الإسلام:3/807 ،رقم:2،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .
[45] تقريب التهذيب:ص:87 ،رقم:142،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سؤريا،الطبعة الرابعة1418هـ .
[46] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/19،رقم:3،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .