اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجو داوی ابو المنذر وقیل ابو عثمان عمرو بن جمیع کوفی قاضی حلوان کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l عمرو بن جمیع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صاحب الأعمش، وصاحب ليث بن أبي سليم: كان يحدث في المسجد، وكان كذابا خبيثا، يقال له: الحلواني، وكان قاضي حلوان‘‘[127]. یہ صاحب اعمش اور صاحب لیث بن ابی سلیم ہے، یہ مسجد میں حدیث بیان کرتا تھا، اور یہ کذاب خبیث ہے، اسے حلوانی کہا جاتا ہے، اور یہ حلوان کا قاضی تھا۔
حافظ یحیی بن معین l عمرو بن جمیع کے بارے میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’شيخ، يقال له: عمرو بن جميع، كان بغداديا، وقع إلى حلوان، ليس بثقة ولا مأمون‘‘[128]. شیخ ہے، اسے عمرو بن جمیع کہا جاتا ہے، یہ بغدادی ہے، حلوان آیا تھا، یہ ثقہ اور مامون نہیں ہے۔
حافظ ابو حاتمl نے عمرو بن جمیع کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[129]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوِی l ’’باب من يرغب عن الرواية عنهم‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’وكنت أسمع أصحابنا يضعفونهم، منهم: الحسن بن عمارة، وعمرو بن جميع، كان قاضي حلوان‘‘[130]. میں نے اپنے ساتھیوں سے سنا تھا کہ وہ ان کو ضعیف قرار دیتے ہیں، ان میں یہ بھی ہیں: حسن بن عمارہ،عمرو بن جمیع جو حلوان کا قاضی تھا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[131]میں عمرو بن جمیع کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[132] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، والمناكير عن المشاهير، لا يحل كتابة حديثه ولا الذكر عنه إلا على سبيل الاعتبار‘‘. عمرو بن جمیع ان لوگوں میں سے ہے جو ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتے ہیں، اور مشاہیر کے انتساب سے مناکیر روایت کرتے ہیں، اس کی حدیث کا لکھنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا ذکر حلال ہے سوائے اعتبار کے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[133] میں عمرو بن جمیع کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولعمرو بن جميع أحاديث غير ما ذكرت، ورواياته عمن روى ليس بمحفوظة، وعامتها مناكير، وكان يتهم بوضعها‘‘. اور عمرو بن جمیع کی میری ذکر کردہ روایت کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی روایات اپنے مروی عنہ کے انتساب سے محفوط نہیں ہیں، اور اس کی اکثر روایات منکر ہیں، اور یہ ان روایات کے گھڑنے میں متہم ہے۔
حافظ ازدی l نے عمرو بن جمیع کو ’’غير ثقة ولا مأمون‘‘ کہا ہے[134]۔
حافظ دار قطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[135] میں عمرو بن جمیع کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[136] میں فرماتے ہیں: ’’ويروي عن هشام بن عروة وغيره أحاديث موضوعة‘‘. یہ ہشام بن عروہ وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[137] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن هشام المناكير‘‘. یہ ہشام کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[138] میں فرماتے ہیں: ’’وكان يروي المناكير عن المشاهير، والموضوعات عن الأثبات‘‘.اور یہ مشاہیر کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے، اور ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایت نقل کرتا ہے۔
حافظ ابو سعید نقاش l ، عمرو بن جمیع کی ایک حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وأحاديثه موضوعة‘‘[139].اس کی احادیث من گھڑت ہیں۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[140] میں ایک روایت کے تحت عمرو بن جمیع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعمرو هذا متروك الحديث‘‘. اور عمرو متروک الحدیث ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[141] میں فرماتے ہیں: ’’متفق على تركه‘‘. اس کے ترک پر اتفاق ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘ [142] میں ایک روایت کے تحت عمرو بن جمیع کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[143] میں ایک روایت کے تحت عمرو بن جمیع کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[144] میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن عدي: يتهم بالوضع، وكذلك اتهمه ابن الجوزي في موضوعاته، وذكر كلام ابن عدي وصححه‘‘.ابن عدی l فرماتے ہیں: یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے، اور اسی طرح ابن جوزی l نے اپنی ’’موضوعات‘‘ میں اسے متہم قرار دیا ہے، اور ابن عدی l کا کلام ذکر کرکے اسے صحیح کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التلخيص الحبير‘‘[145] میں ایک روایت کے تحت عمرو بن جمیع کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[146] میں عمرو بن جمیع کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’كذبه ابن معين، وقال ابن عدي: كان يتهم بالوضع‘‘. ابن معین l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ابن عدی l فرماتے ہیں کہ یہ متہم بالوضع ہے۔
حوالہ جات
[127] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/337،رقم:2272،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[128] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۲/3۰۸،رقم:۴۹۷۸،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[129] الجرح والتعديل:۶/۲۲۴،رقم:۱۲۴۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .
[130] تاريخ بغداد:۱۴/۹۴،رقم:۶۶۰۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[131] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۱۹،رقم:۴۴۶،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[132] المجروحين:2/78،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[133] الكامل في الضعفاء:6/199،رقم:1279،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[134] لسان الميزان:6/۱97،رقم:5788،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[135] الضعفاء والمتروکون:ص:۳۰۳،رقم:۳۸۷، ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[136] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۵۹،رقم:۱۰۴،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[137] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۵،رقم:۱۶۹،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[138] تاريخ بغداد:۱۴/۹۳،رقم:۶۶۰۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[139] لسان الميزان:6/۱97،رقم:5788،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[140] ذخيرة الحفاظ:۲/۱۰۵۳،رقم:۲۲۳۷،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴16هـ .
[141] تاريخ الإسلام:۴/۹۳۶ ،رقم:۲۷۲،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[142] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:72،رقم:156،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعةالأولى1419هـ .
[143] مجمع الزوائد:۸/۲۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[144] الكشف الحثيث:ص:2۰۰،رقم:۵۶۳،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[145] تلخيص الحبير:۲/۵۸۴،رقم:1093،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[146] تنزيه الشريعة:۱/۹۳،رقم:۴۰۱،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .