التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سلمہ سلیمان بن ابی کریمہ شامی صیدانی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو سلمہ سلیمان بن ابی کریمہ شامی صیدانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو سلمہ سلیمان بن ابی کریمہ شامی صیدانی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابو حاتمl نے سلیمان بن ابی کریمہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[55]۔

اسی طرح حافظ ابو حاتم l نے ایک حدیث کو باطل کہہ کر سلیمان بن ابی کریمہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[56]۔

امام ابو بکر بزارl اپنی ’’مسند‘‘[57] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وبكر بن عبد العزيز هذا ليس بمعروف بالنقل، وإن كان معروفا بالنسب، وكذلك سليمان بن أبي كريمة‘‘. اور یہ بکر بن عبد العزیز نقل میں معروف نہیں ہے، اگرچہ نسب میں معروف ہے، اور اسی طرح سلیمان بن ابی کریمہ ہیں۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[58] میں سلیمان بن ابی کریمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يحدث بمناكير، ولا يتابع على كثير من حديثه‘‘. مناکیر بیان کرتا ہے، اور اس کی بہت سی حدیثوں میں متابعت نہیں ہوتی۔

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[59] میں سلیمان بن ابی کریمہ کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولسليمان بن أبي كريمة غير ما ذكرت، وليس بالكثير، وعامة أحاديثه مناكير، ويرويه عنه عمرو بن هاشم البَيْرُوتي، وعمرو ليس به بأس، ولم أر للمتقدمين فيه كلام، وقد تكلموا فيمن هو أمثل منه بكثير، ولم يتكلموا في سليمان هذا، لأنهم لم يخبروا حديثه‘‘. اور سلیمان بن ابی کریمہ کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور وہ زیادہ نہیں ہیں، اور اس کی اکثر احادیث مناکیر ہیں، اور اس سے عمرو بن ہاشم بَیْرُوتی روایت کرتا ہے، اور عمرو ’’لیس بہ بأس‘‘ہے، اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں دیکھا، اور انہوں نے بہت سے ایسے راویوں کے بارے میں کلام کیا ہے جو اس سے امثل ہیں، اور انہوں نے اس سلیمان کے بارے میں کلام نہیں کیا، اس لئے کہ ان کو اس کی حدیث کے بارے میں خبر نہیں ہوئی۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[60] میں اور حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[61] میں حافظ ابن عدی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ضیاء الدین مقدسی l ’’صفة الجنة‘‘[62] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ابی کریمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وفيه كلام‘‘. اور اس کے بارے میں کلام ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[63] میں سلیمان بن ابی کریمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لين، صاحب مناكير‘‘. لین ہے، مناکیر والا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[64] میں سلیمان بن ابی کریمہ کے بارے میں حافظ ابن عدی l کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ضعفه أبو حاتم، وما وثقه أحد‘‘. ابو حاتم l نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ابی کریمہ کو ’’تالف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘[66] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ابی کریمہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الأمالي المطلقة‘‘[67] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ابی کریمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ففيه مقال‘‘. اس میں کلام ہے۔

حوالہ جات

[55]  الجرح والتعدیل:۲/۱۳۸،رقم:۶۰۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[56] كتاب العلل:۴/۳۲،رقم:۱۲۲۸،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴27هـ .

[57] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:۱۰/۲۱،رقم:۴۰۸۱،ت:عادل بن سعد،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1424هـ .

[58] الضعفاء الكبير:۲/۱۳۸،رقم:۲۶۷،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[59] الکامل في ضعفاء الرجال:۴/۲۵۰،رقم:۷۴۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[60]  ذخيرة الحفاظ:۳/۱۴۲۰،رقم:۳۱۰۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[61] الضعفاء والمتروكين:۲/۲۴،رقم:۱۵۴۲،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[62] صفة الجنة:ص:30،رقم:14،ت:محمد بن تركي التركي،جامعة الملك سعود،النشر العلمي والمطابع، الطبعة۱۴32هـ .

[63] المغني في الضعفاء:۱/۴۴۳،رقم:۲۶۱۶،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[64] تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام:۴/۴۰۱،رقم:۱۵۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .

[65]  تلخيص كتاب الموضوعات:ص:23۴،رقم:595،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[66] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:10/۴۳،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[67] الأمالي المطلقة:ص:121،ت: حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،المكتب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الأولى1416هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ