اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک نگاہ کو تیز کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو الفضل بحر بن کنیز سقَّاء باہلی بصری (المتوفی ۱۶۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ سفیان بن عیینہ l فرماتے ہیں: ’’سمعت أيوب يقول: لبحر السقَّاء: يا بحر! أنت كاسمك‘‘[33]. میں نے ایوب سختیانی l کو سنا کہ آپ نے بحر سقَّا سے کہا: اے بحر! تم اپنے نام کی طرح ہو۔
امام یحیی بن سعید قطان l فرماتے ہیں: ’’كان سفيان الثوري يحدثني عن الرجل، فإذا حدثني عن الرجل يعلم أني لا أرضاه، كناه لي، فحدثني يوما قال: حدثني أبو الفضل، يعني: بحر السقَّاء‘‘[34]. مجھے سفیان ثوریl ’’رجال‘‘ کے انتساب سے حدیث بیان کرتے تھے، چنانچہ جب وہ مجھے کسی ایسے شخص کے انتساب سے حدیث بیان کرتے جن کے بارے میں وہ جانتے ہوں کہ میں اسے پسند نہیں کرتا تو وہ میرے سامنے اس کی کنیت ذکر کرتے تھے، چنانچہ ایک دن سفیان ثوریl نے مجھے کہا کہ مجھے ابو الفضل نے حدیث بیان کی، ان کی مراد بحر سقَّاء تھی۔
حافظ ابو معاویہ یزید بن زریع بصری l نے اسے ’’لا شيء‘‘ کہا ہے[35]۔
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا‘‘. اور یہ ضعیف تھا۔
حافظ یحیی بن معین l نے اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[37]۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[38]. اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ مغلطای l ’’إكمال‘‘[39] میں بحر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وذكره البرقي في طبقة من ترك حديثه‘‘. اور برقی l نے اسے ان لوگوں کے طبقہ میں ذکر کیا ہے جن کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے۔
حافظ ابو الحسن عجلی l نے اسے ’’لا بأس به‘‘ کہا ہے[40]۔
حافظ ابو اسحاق حربی l نے اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[41]۔
حافظ ابو اسحاق حربی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’بحر بن كنيز أبو الفضل معروف، وغيره أثبت منه ‘‘[42]. ابو الفضل بحر بن کنیز معروف ہے، اور دوسرے اس سے زیادہ اثبت ہیں۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’وليس عندهم بقوي‘‘. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ عقیلیl نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[44] میں امام بخاریl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے ’’أحوال الرجال‘‘[45] میں اسے ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔
امام ابو داؤد l نے اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[46]۔
علامہ ابو عبید آجری l فرماتے ہیں: ’’وسئل أبو داود عن بحر وعمران؟ فقال: عمران فوق بحر، بحر متروك‘‘[47]. اور ابو داؤد l سے بحر اور عمران کے بارے میں پوچھا گیا، تو ابو داؤد l نے فرمایا: عمران، بحر سے بڑھ کر ہے، بحر متروک ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[48]۔
امام ابو احمد حاکمl فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘[49]. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[50]میں بحر کو ’’متروک الحدیث‘‘کہا ہے۔
امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[51] . یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔
حافظ ساجی l بحر سقاء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تروى عنه مناكير، وليس هو عندهم بقوي في الحديث‘‘[52] . اس سے مناکیر منقول ہیں، اور یہ محدثین کے نزدیک حدیث میں قوی نہیں ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[53] میں فرماتے ہیں:’’كان ممن فحش خطؤه وكثر وهمه، حتى استحق الترك، وكان الثوري إذا روى عنه يقول: حدثني أبو الفضل، حتى لا يعرف‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو فاحش الخطاء ہیں، اور جن کو کثرت سے وہم ہوتا ہے، حتی کہ یہ ترک کا مستحق ہوگیا ہے، اور ثوری l جب اس سے روایت کرتے تو یوں کہتے: مجھے ابو الفضل نے بیان کیا، تاکہ اس کی معرفت نہ ہو سکے۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[54] میں بحر بن کنیز سقَّاء کے ترجمہ میں تقریباً تیس روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولبحر السقاء غير ما ذكرت من الحديث، وكل رواياته مضطربة، ويخالف الناس في أسانيدها ومتونها، والضعف على حديثه بين .
[ولبحر [أيضا نسخ،] منها: نسخة يحدث عن بحر، عمر بن سهل بن مروان المازني أبو حفص التميمي البصري، ومنها: نسخة يحدث بها عنه محمد بن مصعب القَرْقَسَاني، ومنها نسخة يحدث بها عنه الحارث بن مسلم، قد روى عنه بقية أحاديث، ويزيد بن هارون أحاديث، وغيرهم قد حدثوا عنه، وهو يروي عن قتادة، والحسن، وأبي الزبير، ويحيى بن أبي كثير، وأبي هارون العبدي، ومحمد بن المنكدر، ومحمد بن عمرو بن علقمة، والزهري، وكل ما يحدث به وما يروون أصحاب النسخ عنه فعامة ذلك أسانيدها ومتونها لا يتابعه عليه أحد، وهو إلى الضعف أقرب منه إلى غيره]‘‘.
اور بحر کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایتیں ہیں، اور اس کی تمام روایات مضطرب ہیں، اور وہ ان احادیث کی اسانید اور متون میں لوگوں کی مخالفت کرتا ہے، اور اس کی حدیث میں ضعف واضح ہے۔
اور بحر کے چند نسخے بھی ہیں، جن میں ایک نسخہ وہ ہے جسے بحر سے عمر بن سہل بن مروان مازنی ابو حفص تمیمی بصری بیان کرتا ہے، اور ایک نسخہ وہ ہے جسے بحر سے محمد بن مصعب قَرْقَسَانی بیان کرتا ہے، اور ایک نسخہ وہ ہے جسے بحر سے حارث بن مسلم روایت کرتا ہے، اس سے بقیہ اور یزید بن ہارون نے احادیث روایت کی ہیں، اور ان کے علاوہ نے بھی اس سے حدیثیں بیان کی ہیں، اور یہ خود قتادہ، حسن، ابو الزبیر، یحیی بن ابی کثیر، ابو ہارون عبدی، محمد بن منکدر، محمد بن عمرو بن علقمہ اور زہری سے روایت کرتا ہے، اور وہ تمام احادیث جو یہ بیان کرتا ہے، اور جو احادیث اصحابِ نسخ اس کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ان میں سے اکثر کی اسانید اور متون میں کوئی بھی اس کی متابعت نہیں کرتا، اور دوسروں کی بنسبت یہ خود ضعف کے زیادہ قریب ہے۔
حافظ دارقطنیl نے ’’ الضعفاء‘‘[55] میں بحر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حزم اندلسیl ’’المحلى‘‘[56] میں ایک روایت کے تحت بحر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو لا خير فيه، متفق على إطراحه‘‘. اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اس کے مطروح ہونے پر اتفاق ہے۔
امام بیہقی l ’’السنن الكبرى‘‘[57] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وبحر السقاء ضعيف، لا يحتج به‘‘. اور بحر سقاء ضعیف ہے، اس سے احتجاج نہ کیا جائے۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘میں ایک روایت کے تحت بحر کو ’’ليس بشيء في الحديث‘‘[58] اور دوسری روایت کے تحت ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[59]۔
حافظ ابو بکر محمد بن موسی حازمیl ’’الاعتبار‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا الحديث واهي الإسناد، وبحر السقَّاء لا تقوم به الحجة‘‘. اس حدیث کی اسناد واہی ہے، اور بحر سقَّاء کے ذریعہ سے حجت قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔
حافظ ابن جوزیl ’’التحقيق‘‘[61] میں بحر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو متروك، فلا يحتج به‘‘. اور یہ متروک ہے، اس سے احتجاج نہ کیا جائے۔
حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص المستدرك‘‘[62] میں ایک روایت کے تحت بحر کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’المشتبه‘‘[63] میں بحر کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[64]میں فرماتے ہیں: ’’متفق على تركه‘‘. اس کے ترک پر اتفاق ہے۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت بحر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[66] میں بحر کو ’’ضعيف‘‘، ’’لسان‘‘[67] میں ’’أحد الضعفاء‘‘ اور ’’تغليق التعليق‘‘[68] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[69] میں بحر بن کنیز کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’اتهمه ابن الجوزي بالوضع، فقال في حديث: هذا من عمل بحر‘‘. ابن جوزی l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے، چنانچہ ایک حدیث کے بارے میں ابن جوزی l فرماتے ہیں: یہ بحر کے عمل میں سے ہے۔
حوالہ جات
[33] الضعفاء الكبير:۱/۱۵۴،رقم:۱۹۵،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[34] تهذيب الكمال في أسماء الرجال:4/13،رقم:639،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[35] الجرح التعديل:2/418،رقم:1655،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[36] الطبقات الكبرى:۷/۲۰۹،رقم:۳۲۹۴،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[37] سؤالات ابن الجنيد:ص:۴۸۸،رقم:۸۸۶ ،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .
[38] الجرح التعديل:2/418،رقم:1655،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[39] إكمال تهذيب الكمال:۲/3۵۰،رقم:675،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[40] إكمال تهذيب الكمال:2/350،رقم:675ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[41] إكمال تهذيب الكمال:2/350،رقم:675ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[42] إكمال تهذيب الكمال:2/350،رقم:675ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[43] التاريخ الكبير:۲/۱۱۱،رقم:۱۹۲۷،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[44] الضعفاء الكبير:1/۱۵۴،رقم:۱۹۵،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .
[45] أحوال الرجال:ص:۱۶۲،رقم:۱۴۹،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[46] سؤالات أبي عبيد الآجري:۲/۱۲۹،رقم:۱۳۴۰،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[47] سؤالات أبي عبيد الآجري:۲/۱۶۳،رقم:۱۴۸۲،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[48] الجرح التعديل:2/418،رقم:1655،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[49] انظر تهذيب الكمال في أسماء الرجال:4/13،رقم:639،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1405هـ .
[50] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۶۰،رقم:۸۲ ،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[51] انظر إكمال تهذيب الكمال:۲/3۵۰،رقم:675،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[52] إكمال تهذيب الكمال:۲/3۵۰،رقم:675،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[53] المجروحين:۱/۱۹۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[54] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/۲۳۵،رقم:۲۸۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[55] الضعفاء والمتروكون:ص:1۶۲،رقم:۱۳۰،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[56] المحلى بالآثار:1/214،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[57] السنن الكبرى:5/۵3۵،رقم:10781،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .
[58] ذخيرة الحفاظ:ص:۳۴۶،رقم:۳۷۲،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[59] ذخيرة الحفاظ:ص:۷۳۷،رقم:۱۳۷۱،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[60] كتاب الاعتبار في بيان الناسخ والمنسوخ من الآثار:ص:166،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد، الدكن، الطبعة الثانية1359هـ .
[61] التحقيق في أحاديث الخلاف:۱/3۵۹،رقم:468،ت:مسعد عبد الحميد محمد السعدني،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴15هـ .
[62] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك:2/۳۰۰،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
[63] المشتبه في الرجال أسمائهم وأنسابهم:2/۵۴۵،ت:علي محمد البجاوي،دار إحياء الكتب العربية .
[64] ديوان الضعفاء:ص:۴۴،رقم:۵۴۶،ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[65] مجمع الزوائد:4/87 ،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[66] تقريب التهذيب:ص:۱۲۰،رقم:۶۳۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[67] لسان الميزان:8/388،رقم:8369 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[68] تغليق التعليق على صحيح البخاري:3/227،ت:سعيد عبد الرحمن موسى القزفي،المکتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[69] تنزيه الشريعة:۱/41،رقم:2،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .