اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو نضر کنانہ بن جبلہ بن عمرو سلمی خرسانی ہروی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عثمان بن سعید دارمیl ’’تاريخ‘‘ [102] میں فرماتےہیں: ’’وسألت يحيى قلت: كنانة بن جبلة، الذي كان يكون بخراسان من أهل الحديث؟ قال: ذاك كذاب خبيث. قال عثمان: وهو قريب مما قال يحيى: خبيث الحديث‘‘. میں نے یحیی l سے پوچھا: کنانہ بن جبلہ جو خراسان میں رہتا ہےکیا وہ اصحاب حدیث میں سے ہے؟ یحیی بن معین l نے فرمایا: وہ خبیث جھوٹا ہے، عثمان نے کہا کہ یحیی l کے کہنے کے مطابق وہ خبیث الحدیث ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[103] میں حافظ یحیی بن معین l کا قول ذکر کیا ہے۔
امام بخاری lنے ’’التاريخ الكبير‘‘[104] میں کنانہ بن جبلہ کا ترجمہ قائم کرکے سکوت کیا ہے۔
حافظ ابو اسحاق جوزجانی سعدی l ’’ أحوال الرجال‘‘ [105] میں فرماتے ہیں: ’’ كنانة بن جبلة كان بخراسان بهراة، ضعيف الأمر جدا‘‘. کنا نہ بن جبلہ خراسان کے علاقہ ہرات سے تھا، اس کا معاملہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔
امام ابو حاتم l فرماتے ہیں:’’محله الصدق، يكتب حديثه، حسن الحديث‘‘[106]. یہ محلہ الصدق ہے، اس کی حدیثیں لکھی جائیں گی، یہ حسن الحدیث ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[107] میں فرماتے ہیں: ’’ كان مرجئا، يقلب الاخبار، وينفرد عن الثقات بالأشياء المعضلات‘‘. یہ مرجی تھا، اخبار میں قلب کرتا تھا، اور ثقہ لوگوں کے انتساب سے معضل اشیاء نقل کرنے میں متفرد ہوتا تھا۔
حافظ ابن عدی l ’’ الكامل‘‘[108] میں فرماتے ہیں: ’’ولكنانة أحاديث غير هذا، ومقدار ما يرويه غير محفوظ‘‘.کنانہ کی اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی روایت کردہ مقدار غیر محفوظ ہے۔
حافظ ازدیl نے کنانہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[109]۔
حافظ مقدسیl ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[110] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وكنانة كذاب ‘‘. کنانہ جھوٹا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[111] میں کنانہ بن جبلہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ یحیی بن معین l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
حوالہ جات
[102] تاريخ عثمان سعيد الدارمى:ص:196،رقم:717،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[103] ديوان الضعفاء:ص:۳۳۲،رقم:۳۴۹،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[104] التاریخ الکبیر:7/120،رقم:10356،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[105] أحوال الرجال:ص:347،رقم:382،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[106] الجرح والتعدیل:۷/۱70،رقم:۹۶۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[107] المجروحين:۲/۲۲۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[108] الكامل:۷/۲۱۶،رقم:۱۶۰۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.
[109] الضعفاء والمتروكين:۳ /۲۶،رقم:۲۸۰۵،ت،عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[110] ذخيرةالحفاظ:۱/327،رقم:323،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[111] تنزيه الشريعة:1/۹۸، رقم:5،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .