التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن اسماعیل بن زیاد ویقال اسماعیل بن ابی زیاد واسماعیل بن مسلم سَکُونی شعیری کوفی شامی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو الحسن اسماعیل بن زیاد ویقال اسماعیل بن ابی زیاد واسماعیل بن مسلم سَکُونی شعیری کوفی شامی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

روایت بطریق جویبر میں موجود راوی ابو الحسن اسماعیل بن زیاد ویقال اسماعیل بن ابی زیاد واسماعیل بن مسلم سَکُونی شعیری کوفی شامی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں :’’يروي أحاديث مفتعلة‘‘[90]. گھڑی ہوئی احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[91] میں فرماتے ہیں: ’’شيخ دجال، لا يحل ذكره في الحديث إلا على سبيل القدح فيه‘‘. شیخ ہے، دجال ہے، اس کا ذکر حدیث میں سوائے اس پر جرح کے حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن عدی lنے ’’الكامل‘‘[92] میں اسے ’’منكرالحديث‘‘ کہا ہے۔

اس کے بعد اس سے منقول چند روایات ذکرکرکے حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں : ’’وإسماعيل بن أبي زياد هذا عامة ما يرويه لا يتابعه أحد عليه، إما إسنادا، وإما متنا‘‘. عام طور پر اس اسماعیل بن ابی زیاد کی متن وسند دونوں حیثیتوں سے کسی نے متابعت نہیں کی۔

حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء‘‘[93] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث، كذاب، متروك‘‘. حدیث گھڑتا تھا، کذاب، متروک ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l نے ’’غنية الملتمس‘‘[94] میں یحیی بن ابی السکن کے ترجمہ میں اسماعیل سکونی کو ’’غير ثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ مزی l ’’تهذيب الكمال‘‘[95] میں فرماتے ہیں: ’’وهو من الضعفاء المتروكين‘‘. اور یہ ضعفاء اور متروک راویوں میں سے ہے۔

حافظ ذہبی lنے ’’ميزان‘‘[96] میں اسے ’’متهم‘‘ اور ’’الكاشف‘‘[97] میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[98] میں فرماتے ہیں: ’’هالك، ليس بثقة‘‘.ہالک ہے، ثقہ نہیں ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[99] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، كذبوه‘‘. متروک ہے، محدثین نے اسے کذاب کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[100] میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث‘‘. یہ کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے۔

حوالہ جات

[90] سؤالات البرذعي:ص:116،رقم:111،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .

[91] المجروحين:۱/1۲۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[92] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۵۱۰،رقم:۱۴۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[93] الضعفاء والمتروکون:ص:۱۳۹،رقم:۸۵ ،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[94] غنية الملتمس إيضاح الملتبس:ص:429،رقم:642،ت:يحيى بن عبد الله البكري الشهري،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ .

[95] تهذيب الكمال:۳/۲۰۶،رقم:۴۸۶،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .

[96] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۰،رقم:۹۴۶،ت: علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .

[97] الكاشف:1/۲۴۶،رقم:۳۷۶،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[98] تاريخ الإسلام:۴/۵۸۱،رقم:۱۴،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[99] تقريب التهذيب:ص:۱۰۷،رقم:۴۴۶،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[100] تنزيه الشريعة:1/۳۹، رقم:۲۹۱،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ