التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

خلیل بن مرہ ضُبَعِی بصری

المتوفی ۱۶۰ھایک روایت میں تذکرہ

خلیل بن مرہ ضُبَعِی بصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی خلیل بن مرہ ضُبَعِی بصری (المتوفی ۱۶۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l نے خلیل بن مرہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[34] ۔

حافظ ابن شاہین l ’’تاريخ أسماء الضعفاء‘‘[35] میں فرماتے ہیں:  ’’ذم أبو زكريا الخليل بن مرة‘‘. ابو زکریا (یحیی بن معین l) نے خلیل بن مرہ کی مذمت بیان کی ہے۔

حافظ ابن شاہین l ’’ذكر من اختلف العلماء‘‘[36] میں روایت کرتے ہیں: ’’أن أحمد بن حنبل سئل عن الخليل بن مرة، فقال ثقة، ما رأيت أحدا يتكلم فيه، ورأيت حديثه عن قتادة ويحيى بن أبي كثير صحاحا، وإنما استغنى عنه البصريون، لأنه كان خاملا، ولم أر أحدا تركه‘‘. احمد بن حنبل l سے خلیل بن مرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ ثقہ ہے، میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو اس کے بارے میں کلام کرتا ہو، اور میں نے قتادہ اور یحیی بن ابی کثیر سے اس کی صحیح احادیث دیکھی ہیں، اور بصری اس سے مستغنی تھے، کیونکہ یہ گمنام تھا، اور میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے اسے ترک کیا ہو۔

اس کے بعد حافظ ابن شاہین lفرماتے ہیں: ’’وعن يحيى بن معين أنه ذم الخليل بن مرة، وهذا الخلاف في الخليل بن مرة يوجب التوقف فيه، لأن الخليل بن مرة قد روى أحاديث صحاحا، وروى أحاديث منكرة، وهو عندي إلى الثقة أقرب‘‘[37]. اور یحیی بن معین l نے خلیل بن مرہ کی مذمت کی ہے، اور خلیل بن مرہ کے بارے میں یہ اختلاف اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ اس کے بارے میں توقف کیا جائے، کیونکہ خلیل بن مرہ نے صحیح احادیث بھی روایت کی ہیں، اور منکر احادیث بھی روایت کی ہیں، اور یہ میرے نزدیک ثقہ ہونے کے زیادہ قریب ہے۔

اہم نوٹ:واضح رہے کہ حافظ ابن شاہین l نے خلیل بن مرہ کے متعلق ثقہ ہونے کا قول امام احمد بن حنبل lکے انتساب سے ذکر کیا ہے، جبکہ امام احمد بن حنبل lکی کتب میں یہ قول نہیں مل سکا۔

اسی طرح حافظ ابن شاہین l نے ’’تاريخ أسماء الثقات‘‘[38] میں یہی قول حافظ احمد بن صالح مصری l کے انتساب سے بھی ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو:

’’الخليل بن مرة ثقة، قال أحمد بن صالح: ما رأيت أحدا يتكلم فيه، ورأيت أحاديثه عن قتادة ويحيى بن أبي كثير صحاصا، وانما استغنى عنه البصريون، لأنه كان خاملا، ولم أر أحدا تركه، وهو ثقة‘‘.خلیل بن مرہ ثقہ ہے، احمد بن صالح lفرماتے ہیں: میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو اس کے بارے میں کلام کرتا ہو، اور میں نے قتادہ اور یحیی بن ابی کثیر سے اس کی صحیح احادیث دیکھی ہیں، اور بصری اس سے مستغنی تھے، کیونکہ یہ گمنام تھا، اور میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے اسے ترک کیا ہو، اور یہ ثقہ ہے۔

امام ابو رجاء قتیبہ بن سعید l فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘[39].اس میں نظر ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘. اس میں نظر ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[41] میں ازہر بن عبد اللہ عن تمیم داری کے ترجمہ میں  فرماتے ہیں: ’’ولا يصح حديث الخليل‘‘. اور خلیل کی حدیث صحیح نہیں ہے۔

امام بخاریl نے ایک مقام پر خلیل بن مرہ کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[42]۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’ليس بقوي في الحديث، هو شيخ صالح‘‘[43]. حدیث میں قوی نہیں ہے، وہ شیخ صالح ہے۔

حافظ ابو زرعہl نے خلیل بن مرہ کو ’’شيخ صالح‘‘ کہا ہے[44]۔

امام ترمذیl ’’سنن‘‘[45] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’والخليل بن مرة ليس بالقوي عند أصحاب الحديث، قال محمد بن إسماعيل: هو منكر الحديث‘‘. اور خلیل بن مرہ اصحاب حدیث کے نزدیک لیس بالقوی ہے، محمد بن اسماعیل l فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[46] میں خلیل بن مرہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[47] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث عن المشاهير، كثير الرواية عن المجاهيل‘‘. یہ مشاہیر کے انتساب سے منکر الحدیث ہے، مجاہیل کے انتساب سے کثیر الروایہ ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[48] میں خلیل بن مرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وللخليل أحاديث غير ما ذكرته أحاديث غرائب، وهو شيخ بصري، وقد حدث عنه الليث وأهل الفضل، ولم أر في أحاديثه حديثا منكرا قد جاوز الحد، وهو في جملة من يكتب حديثه، وليس هو متروك الحديث‘‘. اور خلیل کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی غریب احادیث ہیں، اور وہ شیخ بصری ہے، اس سے لیث اور اہل فضل نے حدیث روایت کی ہے، اور میں نے اس کی احادیث میں ایسی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی جو حد سے تجاوز کر چکی ہو، اور وہ فی الجملہ ایسے راویوں میں سے ہے جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں، اور وہ متروک الحدیث نہیں ہے۔

حافظ ابن عدی l نے ’’الكامل‘‘[49] میں جعفر بن سلیمان ضبعی کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت خلیل بن مرہ کو ’’ضعیف جداً‘‘ قرار دیا ہے۔

امام بیہقی l ’’البعث والنشور‘‘ میں ایک روایت کے تحت خلیل بن مرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘[50].

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[51] میں ایک روایت کے تحت خلیل بن مرہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن بشکوال l نے ’’شيوخ لابن وهب‘‘[52] میں خلیل بن مرہ کو ’’متروك‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’وكان من الصالحين‘‘ . اور یہ صالحین میں سے تھا۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[54] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفه ابن معين‘‘. ابن معین l نے خلیل بن مرہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[55] میں ایک روایت کے تحت خلیل بن مرہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l  نے خلیل بن مرہ کو ’’تقريب التهذيب‘‘ [56] میں ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ا بن حجرعسقلانی l نے ’’التلخيص الحبير‘‘ میں ایک مقام پر خلیل بن مرہ کو ’’منكر الحديث‘‘[57] اور دوسرے مقام پر ’’واه‘‘ کہا ہے[58]۔

حوالہ جات

[34] انظر المجروحين:۱/۲۸۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[35] تاريخ أسماءالضعفاءوالكذابين:ص:۸۵ ،رقم:۱۷۹،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى ۱۴۰۹هـ .

[36] ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه:ص:52 ،رقم:11،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴1۹هـ .

[37] ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه:ص:53 ،رقم:11،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴1۹هـ .

[38] تاريخ أسماء الثقات:ص:79،رقم:332،ت:صبحي السامرائي،الدار السلفية ـ الكويت،الطبعة الأولى1404هـ .

[39] الضعفاء الكبير:۲/۱۹،رقم:۴۳۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[40] التاریخ الکبیر:۳/۱۷۶،رقم:۳۵۷۳،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[41] التاریخ الکبیر:۱/۴۲۳،رقم:۱۴۶۵،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[42] سنن الترمذي:5/۵۱۵،ت:إبراهيم عطوه عوض،مطبعة مصطفى البابي ـ القاهرة،الطبعة الثانية1395هـ .

[43] الجرح والتعدیل:3/۳۷۹،رقم:۱۷۲۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[44] انظر الجرح والتعدیل:3/۳۷۹،رقم:۱۷۲۹،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[45] سنن الترمذي:5/۵۱۴،رقم:3473ت:إبراهيم عطوه،مطبعة مصطفى البابي ـ القاهرة،الطبعة الثانية1395هـ .

[46] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۷۳،رقم:۱۷۸،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[47] المجروحين:۱/۲۸۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[48] الكامل في الضعفاء:۳/۵۰9،رقم:610،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[49] الكامل في الضعفاء:۲/۳۸۲،رقم:۳۴۳،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[50] البعث والنشور:ص:255،رقم:508،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول الإبياني،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰8هـ .

[51] تذكرةالحفاظ:ص:۶۵،رقم:1۳۳،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[52] شيوخ عبد الله بن وهب القرشي:ص:91،رقم:48،ت:عامر حسن صبري،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى1428هـ .

[53] ميزان الاعتدال:۱/۶۶۷،رقم:۲۵۷۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[54] ديوان الضعفاء:ص:۱۲۲،رقم:۱۲۹۰،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثيةـ مكة المكرمة .

[55] البدر المنير:7/226،ت:أبو محمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[56] تقريب التهذيب:ص:1۹۶،رقم:۱۷۵۷،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[57] تلخيص الحبير:2/53،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .

[58] تلخيص الحبير:3/191،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ