التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ، حصہ اول کا سرورق

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ — مقدمہ و تقاریظ

تعارف

یہ صفحہ کتاب «غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ» کے حصہ اول سے مصنف کا مقدمہ اور اکابر علماء کی تقاریظ پیش کرتا ہے، تاکہ قاری اس تحقیقی کام کی غرض و غایت، منہج اور طریقۂ کار سے واقف ہو سکے۔

تحقیق: مفتی طارق امیر خان

910
تحقیق شدہ روایات
13
حصے
17
کتب

تقاریظ

حصہ اول میں شامل اکابر علماء کی تقاریظ کے اصل عکس۔ پڑھنے کے لیے کسی صفحے پر کلک کریں۔

  • حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ

    جامعہ فاروقیہ کراچی

    ۵ جمادی الثانیہ ۱۴۳۴ھ / ۱۶ اپریل ۲۰۱۳ء

  • حضرت مولانا نور البشر محمد نور الحق صاحب

    استاذ الحدیث جامعہ فاروقیہ کراچی؛ مہتمم معہد عثمان بن عفان کراچی

    ۱۷ ربیع الاول ۱۴۳۴ھ / ۳۰ جنوری ۲۰۱۳ء

ماخذ: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)

مقدمہ

مصنف کا مقدمہ، حصہ اول سے — یونیکوڈ متن میں۔

آغاز

بسم ﷲ الرحمن الرحیم

الحَمْدُ لله الذي أمَرَ بالحَقِّ وفَرَضَ الصِّدْقَ، وحَرَّمَ الکِذْبَ ونَهَی عن البَاطِلِ، والصَّلَوة وَالسَّلَامُ علی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِه ورَسُولِه ونَبِیِّه القَائِلِ: ’’إنّ کِذْباً عَلَيّ لیس کَکِذْبٍ علی أحدٍ، فَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَه مِنَ النَّار‘‘. وعلی آلِه وصَحْبِه وتَابِعِیهم بِإحْسَانٍ، حُمَاةِ شَرِیْعَتِه، ورُوَاةِ سُنَّتِه، الذَّابِّیْن عنها تَحْرِیفَ المُحَرِّفِین، وانْتِحَالَ المُبْطِلِین، وکِذْبَ الکَاذِبِین .

أما بعد!

شریعتِ غَرَّاء میں احادیثِ رسول اللہﷺ کو مصدر ِثانی کی اساسی حیثیت حاصل ہے، جس میں نقب زنی سے حفاظت کا انتظام عہد ِرسالت کی ابتدا ہی سے کر دیا گیا تھا،اور یہ صیانت و حفاظت آپ ﷺ کے اس فرمان کا نتیجہ تھی:

’’مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَه مِنَ النَّارِ‘‘[1].

ترجمہ: ’’جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے‘‘۔

جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے اس ارشاد سے ہر دَم خوفزدہ رہتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ دستور، ہمہ وقت اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم کی اسی کیفیت کوعلامہ جلال الدین سیوطی l نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے:

’’سید الکونین ﷺ کا یہ فرمان، محافل صحابہ رضی اللہ عنہم میں اتنی شہرت اختیار کر گیا تھا کہ آج بھی کتبِ حدیث میں سو سے زائد ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام محفوظ ہیں،جن سے یہ روایت مسنداً (سند کے ساتھ )منقول ہے‘‘[2]۔

اگراِن تمام طُرق اور روایات کو بنظر غائردیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کا یہ فرمان ہمہ گیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا، کیونکہ جہاں اِبتدائے نبوت کی خفیہ مجالس میں اِس حدیث کی سرگوشیاں تھیں، وہاں اِکمال نبوت یعنی خطبہ ٔ حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں بھی اسی اعلان کی گونج تھی،جہاں عشرہ مبشّرہ اس روایت کو نقل کر رہے ہیں، وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے عام وخاص بھی اس کو دُہرا رہے تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم میں جس طرح یہ ارشاد زبان زَد عام تھا، صحابیات رضی اللہ عنہن کی مجالس بھی اس فرمان سے مزیّن تھیں۔

آپ ﷺکے اسی ارشاد کا اثر تھا کہ جب ذخیرۂ احادیث میں من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے ذریعے رَخنہ اندازی کی مذموم کوششیں شروع ہوگئیں، تو محدثینِ کرام نے احادیث کے صحت و سُقَم کے مابین ’’اِسناد‘‘ کی ایسی خلیج قائم کر دی، جس کی مثال اُممِ سابقہ میں ملنا مُحال ہے، محدثینِ کرام نے احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرنے کے لئے یہی ’’میزانِ إسناد‘‘ قائم کی، جس کے نتیجے میں حدیث کے مبارک علوم وجود میں آتے رہے، ضعیف اور کذّاب راویوں پر مستقل تصانیف کی گئیں، انہی متقدمین علماء نے ’’کتب العِلَل‘‘ میں ’’ساقط الاعتبار‘‘ (غیر معتبر) احادیث کو واضح کیا، علماء متأخرین نے بھی باقاعدہ مُشتہرات (زبان زَد عام روایات) ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات پر کتابیں لکھیں،چنانچہ ہر زمانے میں احادیث کا ذخیرہ محفوظ شاہراہ پر گامزن رہا، غرض یہ کہ روئے زمین پر جہاں کہیں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے،وہ حدیث کے محافظین خودساتھ لایا ہے۔

پاک وہند میں ساقط الاعتبار ،من گھڑت روایات اور اُن کا سدّباب:

اگر ہم اپنے خطّے برّصغیر پاک وہند کا جائزہ لیں، تو موضوعات کی روک تھام میں سرفہرست علامہ ابو الفضل حسن بن محمد صغانی لاہوری l  کا نام نظر آتا ہے، آپ ۵۷۷ھ لاہور (پاکستان) میں پیدا ہوئے،اور حدیث و لغت کی دیگر خدمات کے ساتھ، خود ساختہ روایات پر دو گراں قدر کتابیں لکھی:

۱- الدُرَرُ المُلْتَقَط في تَبْیِینِ الغَلَط

۲- موضوعات الصَّغَانِي

من گھڑت اور غیر معتبر روایات کے بنیادی عوامل:

پاک وہند میں من گھڑت اور باطل روایات کا مطالعہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، جن میں یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ برّصغیر پاک وہند میں وہ کون سے قدیم بنیادی طبقات ہیں،جو یہاں خود ساختہ روایات کی ترویج میں راہ ہموار کرتے رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سب سے قدیم تحریر علامہ صغانی l ہی کی ملتی ہے، جس سے ہمیں بڑی حد تک اس سوال کے جواب میں رہنمائی ملتی ہے، چنانچہ علامہ صغانی l ’’الدُّرَرُ المُلْتقَط‘‘[3] میں اپنی تصنیف کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وقد کَثُرَتْ في زَمَانِنا الأحادیث الموضوعةُ، یروِیها القصاصُ علی رُؤوس المَنَابِر والمجالسِ، ویَذْکُرُ الفُقَرَاءُ والفُقَهَاءُ في الخَوَانِقِ والمَدَارِسِ، وتَدَاوَلَتْ في المَحَافِل، واشْتُهِرَتْ في القَبَائِل، لِقِلَّة مَعْرِفَةِ النَّاس بعِلْمِ السُنَنِ، وانْحِرَافِهم عن السُّنَنِ‘‘.

اس عبارت میں امام صغانیlنے موضوعات اور غیر معتبر روایات کی اِشاعت میں مُلوّث چند عوامل کا ذکر کیا ہے،ملاحظہ ہو:

8 ... قصہ گَو برسرِ منبر اور مجالس عامہّ میں، من گھڑت روایتیں بیان کرتے تھے، ایسے ہی جاہل صوفیاء اور جاہل فقہاء کی مجالس بھی ان باطل مرویّات سے پُر تھیں۔

8 ... اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ یہ خود ساختہ روایتیں ملّت اسلامیہ کے ہر طبقے اور قبیلے میں رواج پاتی رہیں، اور یہی کلام، مجالس کی زینت بنتا رہا،بالآخر موضوعات کی یہ گرم بازاری پورے معاشرے میں سرایت کر گئی۔

8 ... اس شرعی اِنحطاط کا باعث صرف معرفتِ حدیث سے دوری تھی۔

وضّاعین کی اقسام اور ان کے مذموم مقاصد:

علامہ صغانیl کا گزشتہ اِقتباس ہماری قدیم خستہ حالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں مذکورطبقات ہمارے سابقہ سوال کا اجمالی جواب ہیں،مزید وضاحت کے لئے ہم علامہ عبد الحی لکھنوی l کے اس مقدمے[4] کو بہت ہی معاون پاتے ہیں، جس میں انھوں نے حدیث گھڑنے والوں کی اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے، انھیں کئی اقسام پر تقسیم کیا ہے، اِن اقسام سے ہم بخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ برصغیر پاک وہند میں وہ کون سے حلقے، افراد اور گروہ ہیں، جن کے ہاں موضوع روایات کا ایک بڑا ذخیرہ جنم لیتا رہا ہے،بالفاظ دیگر یہ روایات انھیں کے راستے سے مشہور ہوئیں۔

۱- زَنادِقہ:

ان کا مقصد اُمت میں رطب ویابس پھیلا کر شریعت کو مسخ کرنا ہے،علامہ عبدالحی لکھنویl نے اس عنوان کے تحت پاک وہند کے ’’فرقۂ نیچریہ‘‘ اور اُن کے گمراہ کُن عقائد کا ذکر کیا ہے، آپ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ فرقہ نصوصِ شرعیہ میں تحریف (تبدیلی) لفظی ومعنوی کا مرتکب رہا ہے۔

۲- مؤیدینِ مذاہب:

دوسری قسم اُن افراد کی ہے،جنہوں نے اپنے مذہب اور موقف کی تائید میں روایتیں گھڑیں،اِس عنوان کے تحت علامہ عبد الحی لکھنویl نے حدیث میں خوارج کے طریقۂ واردات کو بیان کیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ بعض خوارج نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ہم نے اپنے موقف اور رائے کو ثابت کرنے کےلئے بہت سی احادیث گھڑی ہیں۔

یہاں برّصغیر پاک وہند میں موجود اہل سوء اور بدعتیوں کا ذکر بھی برمحل ہے، جنہوں نے اس خطّے میں بہت سی مُحدَثَات(دین میں نئی باتیں ایجاد کرنا) اور بدعات کو سند جواز فراہم کی، اور اپنی اِختراعات کے ثبوت میں، من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایتوں کا سہارا لیا۔

۳- اصلاح پسند اَفراد:

تیسرا طبقہ اُن افراد کا ہے، جنہوں نے لوگوں کی اصلاح کے خیال سے ترغیب وترہیب کی احادیث گھڑیں۔اس ضمن میں علامہ عبدالحی لکھنویl نے ایک دلچسپ مثال بیان کی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ پاک وہند کے بعض اصلاح پسند لوگوں نے تمباکو نوشی سے زَجرووَعِید پر مشتمل احادیث وضع کی ہیں،پھر موصوف نے اس مضمون پر مشتمل وضّاعین کی آٹھ ایسی روایتیں لکھیں، جو سب کی سب جعلی ہیں۔

۴- طبقۂ جہلاء:

چوتھی قسم اُن لوگوں کی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی جانب ہر اَمرِ خیر، اقوال زَرِّیں وغیرہ کا انتساب جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ معتبر سند کے بغیر اس طرح انتساب کرنا ہر گز جائز نہیں۔

۵- اہل غُلُوّ:

ایک قسم اُن لوگوں کی ہے،جو عقیدت ومحبت میں اِفراط وغُلُوّ کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اہل بیت، خلفائے راشدین،ائمہ کرام اور رسالت مآب ﷺ کے حوالے سے باطل اور بے اصل مضامین مشہور کردیتے ہیں۔

۶- واعظین:

چھٹا طبقہ ان قصہ گَو واعظین کا ہے، جو جعلی غرائبِ زمانہ سُنا کر عوام سے دادِ تحسین وصول کرتے ہیں۔

خلاصۂ کلام:

خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ یہی طبقات اور افراد، خطۂ ہند وپاک میں حدیث کی جعل سازی کا بیڑا اٹھائے رہے ہیں، بلکہ اس تفصیل کے بعد ہم بصیرت سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے گرد و پیش ایسی بہت سی ہم معنی باطل احادیث پھیلی ہوئی ہیں، جو بلا تردّد انھیں خاص طبقات کی مذموم کوششوں اور تکاسل کا نتیجہ ہے۔

پاک وہند میں حدیث میں تکاسل اور اس کے اسباب:

اگرچہ برصغیر پاک و ہند میں زبان زَدْ عام رِوایات کی تنقیح بجا طور پر ہوتی رہی ہے، لیکن پھر بھی یہ سوال جواب کا مستحق ہے کہ پاک وہند میں، افرادِ اُمت عام طور پر احادیث میں صرف سطحی ذہن رکھنے والے ہیں،اور اکثر احادیث کی چھان بین کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، آخر حدیث کے عنوان سے مزاجوں میں حسّاسیت اتنی مَدھَم کیوں رہی ہے؟

تلاشِ بسیار کے بعد پاک و ہند کی قابلِ فخر شخصیت علامہ عبدالعز یز فرہارویl (المتوفی ۱۲۳۹ھ) کی عبارت میں اس مُعَمّہ کا حل مل گیا۔ علامہ عبد العزیز فرہاروی lنے ’’ کوثر النَّبِيّ وزُلَالُ حَوْضِه الرَّوِي‘‘[5] میں ایک مقام پر بعض ایسی کتبِ تفسیر، کتب ِزہد، کتب ِ اَورَاد وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے، جن میں مقدوح اور غیر مُعتبر احادیث بھی ہیں، پھر اِن کتابوں میں موجود ساقط الاعتبار احادیث کے اسباب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’والسَّبَبُ أنّه قَلَّ اشْتِغَالُهم بِصَنَاعَهِ الحَدِیث، وأنّهم اعْتَمَدُوا علی المشهورفي الألْسِنَة مِنْ تَحْسِیْنِ الظَّنّ بالمُسْلِم، وأنَّهم انْخَدَعُوا بالکُتُب الغَیرِ المُنَقَّحَةِ الحَاوِیَةِ لِلرَّطْبِ والیَابِسِ، وأنَّه لم یَبْلُغْهُم وَعِیدُ التَّهَاوُنِ في روایةِ الحَدِیثِ، وأیضاً منهم مَنْ یَعْتَمِدُ علی کُلِّ ما أسْنِدَ مِنْ غَیرِ قَدْحٍ وتَعْدِیلٍ في الرُّوَاة‘‘.

’’(اِن کتب میں رطب ویابِس احادیث کی )وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے مصنّفین فنِ حدیث سے اِشتغال کم رکھتے ہیں، اور مسلمان سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے، زبان زَد عام روایتوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں (حالانکہ ایسا اعتماد صرف ماہرِ فن پر ہی کیا جا سکتا ہے، نہ کہ حدیث میں کم اشتغال رکھنے والے پر) اور یہ مصنّفین رطب ویابس پر مشتمل، غیر منقّح کتابوں سے دھوکے میں پڑ جاتے ہیں، اور (ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ) ان مصنفین کو حدیث نقل کرنے میں تہاون (معمولی سمجھنے) کی وعید نہیں پہنچی ہوگی، اور بعض مصنّفین سند کے راویوں کی جرح وتعدیل دیکھے بغیر، ہر سند والی روایت پر اعتمادکر لیتے ہیں‘‘۔

اسبابِ تکاسل کا جائزہ:

در اصل علامہ عبد العزیز l نے جن کتبِ حدیث وتفسیر وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے، یہ کتب بر صغیر میں متَدَاول اور مروج ہیں اور ان کتب کے مؤلفین کی جلالت اور علوِ شان بلاشبہ مسلم ہے، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اِن کا فنِ حدیث میں اشتغال ناقص رہا ہے، چنانچہ صاحبِ کتاب کی کمزوری عوام میں بھی سرایت کرتی رہی اور احادیثِ موضوعہ معاشرے میں پھیلتی رہیں، بہر حال ذَیل میں ہم مولانا عبد العزیز فرہاروی l کے بیان کردہ نِکات اور ان سے ماخوذ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔

فنّ حدیث میں اشتغال کی کمی:

ان مصنّفین کی تالیفات میں رَطب ویابس روایات کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان مؤلفین نے علومِ حدیث سے ایسا اشتغال نہیں رکھا،جس سے ان میں اُصولِ حدیث کے مطابق، حدیث کے ردّو قبول کا مَلَکَہ اور اسے پرکھنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی، حتی کہ ہمارے زمانے میں بھی مُعتَد بہ تالیفات اس بات کی مقتضی ہیں کہ ان کے مؤلفین احادیث کے معاملے میں محض تحویل (حوالہ دینے) پر اکتفاء نہ کریں، بلکہ حسبِ ضرورت اس بات کا پورا اطمینان حاصل کریں کہ یہ حدیث معتبر سند سے ثابت ہے۔

محض حسنِ ظن کی بناء پر روایات پر اعتماد:

ان کتابوں میں باطل اور بے اصل روایتوں کے شُیوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اِن مصنّفین کے نُفُوسِ قدسیہ ہر مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے،اور زبان زَد عام روایتوں کو حسنِ ظن کی بنا پر بلا تحقیق قبول کر لیتے تھے۔

واضح رہے کہ اس مقام پر مولانا عبد الحی لکھنویl نے لکھا ہے کہ حدیث میں اعتماد کا مدار صرف ماہرینِ فن ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص صناعتِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ہو، توایسے شخص پر بلا تحقیق حسنِ ظن کی بنیاد پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا[6]۔

تہاونِ حدیث پر وعید سے نا آشنائی:

ان کتب میں قابلِ رَدّ مواد کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات تہاونِ حدیث (یعنی رِوایتِ حدیث میں پوری احتیاط سے کام نہ لینے) کی وعیدوں سے واقف نہیں ہوں گے، بلاشبہ ان حضرات کی عُلوّ شان اسی حسنِ ظن کی مقتضی ہے،البتہ اس تہاون سے اجتناب کی اہمیت اپنی جگہ ہے،خاص طور پر عوامی حلقوں میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کہ ملّت اسلامیہ کا ہر فرد یہ محسوس کر رہاہو کہ میں رسالت مآب ﷺ کی طرف ایسی بات ہرگز منسوب نہ کروں جو آپ ﷺ سے ثابت نہ ہو، تا کہ میں ’’مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً ...‘‘ کا مصداق بننے سے بچ جاؤں،ورنہ یہی تہاون نہ صرف غیر مستند روایات کو پھیلانے میں کام آتا ہے، بلکہ اِن روایتوں کو تحفّظ بھی فراہم کرتا ہے۔

تحقیق کا فقدان:

پھر ان تالیفات میں جو احادیث مُسنَد (سند والی روایات) تھیں،ان میں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ فن جرح و تعدیل کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے،تاکہ قابلِ احتراز روایتیں ظاہر ہوجاتیں۔

ایک اہم فائدہ:

اگر ہم بھی اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ علم الروایہ (علمِ حدیث) میں ہمارا منتہٰی صرف سندِ حدیث پانا ہے، اس کے بعد ہم کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کرتے،حالانکہ صاحبِ کتاب تو سند بیان کر کے ایک حد تک اپنی ذمہ داری سے سَبکدَ وش ہو جاتا ہے،اب اگلا مرحلہ ہم سے متعلق ہے کہ ہم حسبِ ضرورت، متقدمین اصحاب ِتخریج اور ائمۂ علل کی جانب رجوع کریں، اور روایات کے قابلِ تحمّل (روایت لینا) ہونے کا پورا اطمینان حاصل کریں۔

حاصل کلام:

سابقہ اسبابِ تکاسل خطۂ پاک وہند میں موضوعات کی اشاعت اور ان کی ترویج میں انتہائی مؤثر رہے ہیں،بلکہ اگر ان اسباب کے سدّ باب کےلئے اکابرین کے طرز پر عملی اِقدامات جاری رکھے جائیں، تو کافی حد تک اس ساقط الاعتبار ذخیرے کی روک تھام ہو سکتی ہے۔

من گھڑت روایات کے سدِّ باب میں علماء پاک وہند کی خدمات:

سابقہ اقتباسات سے ہمیں من گھڑت روایات کی اِشاعت میں ملوّث بہت سے گروہوں اور طبقات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی اغراض، اَفکار، اور طریقۂ کار بھی وضاحت سے سامنے آگیا،لیکن واضح رہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ عمائدینِ اُمت نے اس فتنے کے سدّ باب کےلئے اپنی خدمات پیش نہ کی ہو، بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ برّ صغیر پاک وہند پر ایسے شب وروز بھی آئے ہیں، جن میں حفاظت حدیث کا تاج، علماء برّصغیرکے سر رہا ہے، چنانچہ علامہ زاہد الکوثریl فرماتے ہیں:

’’دسویں صدی ہجری کے نصف آخر میں جب کہ علمِ حدیث کی سر گر میاں ماند پڑ گئی تھیں، برّ صغیر میں یہ سر گر میاں عروج پر تھیں‘‘[7]۔

گویا کہ اس وقت عالمِ اسلام کی سر براہی کی سعادت برِ صغیر کو حاصل رہی ہے،بہر حال یہاں ہم پاک وہند کے اُن چند مشہور مشایخ کا مختصر تذکرہ کریں گے، جنہوں نے زبان زَد عوام و خواص،روایات کی حقیقت واضح کی، اور ذخیرۂ احادیث میں تنقیح کی خدمات انجام دیں۔

۱- امام رضی الدین ابوالفضائل حسن بن محمد l (المتوفی ۶۵۰ ھ)

آپ کی تالیف ’’الدُّرَرُ المُلْتَقَط‘‘ اور ’’موضوعات الصَّغَانِي‘‘ کا شمار فنِ ہذا کے اوّلین مصادر میں ہوتا ہے۔مشتہرات پر مشتمل شاید ہی کوئی کتاب موصوف کے اقوال سے خالی ہو۔

۲- ملک المحدّثین علامہ محمد بن طاہر صدیقی پٹنی l (المتوفی ۹۸۶ ھ)

آپ نے اس فن میں ’’تذکِرةُ الموضوعات‘‘ اور ’’قانون الموضوعات‘‘ لکھیں، بلاشبہ مشتہرات کا یہ مجموعہ ایک انسا ئیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔

۳- علامہ سید محمد بن محمد حسینی زَبِیدی الشہیر بمرتضی l (المتوفی ۱۲۰۵ ھ)

آپ نے ’’إتحاف السَّادَة المُتَّقِین‘‘ میں ’’إحیاء علوم الدین للغزالي‘‘ کی احادیث پر، تخریج و تشریح میں محدثانہ شان کا مظاہرہ کیا ہے،اہل علم طبقہ بالخصوص پاک و ہند میں اس سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔

۴- امام عبد العزیز بن احمد فرہاروی l (المتوفی ۱۲۳۹ ھ)

آپ نے تقریباً ۲ ہزار موضوع اور زبان زَد عام روایتوں پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا ہے،فی الحال یہ مخطوط ہے۔آپ کے بارے میں مولانا موسیٰ خان روحانی بازیl فرماتے ہیں کہ ’’اگر میں اس بات پر قسم کھاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ پنجاب کو جب سے وجود بخشا ہے،ان جیسی کسی دوسری شخصیت نے یہاں جنم نہیں لیا، تو میں حانث نہیں ہوں گا‘‘[8]۔

۵- علامہ ابو الحسنات محمد عبدالحی لکھنوی l (المتوفی ۱۳۰۴ ھ)

آپ کی شخصیت اور حدیثی خدمات محتاج تعریف نہیں ہے، اس فن میں آپ نے ’’الأثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة‘‘ کے نام سے یادگار چھوڑی ہے۔

۶- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ) l ۱۲۸۰ ھ/ ۱۳۶۲ ھ)

آپ امراضِ امت کی پہچان اور اس کے علاج میں وَہْبی بصیرت رکھتے تھے، آپ نے پاک و ہند میں مُتَدَاوَل من گھڑت اور بے اصل روایتوں کا سدّباب عملاً بھی کیا اور عوام کو بھی اس سے اجتناب کی طرف توجہ دلائی، چنانچہ ’’بہشتی زیور‘‘ حصہ دہم میں یہ عنوان قائم کیا ہے: ’’بعضی کتابوں کے نام جن کے دیکھنے سے نقصان ہوتا ہے‘‘ اس عنوان کے تحت ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’دعا گنج العرش،عہد نامہ یہ دونوں کتابیں اور بہت سی ایسی ہی کتابیں ایسی ہیں کہ ان کی دعائیں تو اچھی ہیں، مگران میں جو سندیں لکھی ہیں، اور ان میں حضرت رسول اللہ ﷺ کے نام سے جو لمبے چوڑے ثواب لکھے ہیں، وہ بالکل گھڑی ہوئی باتیں ہیں‘‘[9]۔

اسی طرح حضرت تھانوی l اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ سلوک و تصوّف کی مجالس میں ایک معتد بہ تعداد بے اصل روایتوں کی ہیں، چنانچہ آپ نے ’’التَشَرَّفُ بِمَعْرِفَة أحَادِیثِ التَّصَوُّف‘‘ میں ایسی بہت سی روایات پر روایتی اور درایتی پہلؤوں سے بحث کی ہے،جو درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں۔

ایک اہم التماس:

یہ مختصر اور محدود تحقیق اس کی مزید گنجائش رکھنے سے قاصر ہے کہ ہم اکابرینِ پاک وہند کی متعلقہ موضوع میں تاریخی خدمات سے تفصیلی بحث کریں، البتہ اگر کوئی فرد علامہ عبد الحی الحَسَنیl کی تصنیف ’’نُزْهَةُ الخَوَاطِر وبَهْجَةُ المَسَامِع والنّواظر‘‘ کو سامنے رکھ کر ان محدثینِ کرام کی خدمات کو جمع کرے، جنہوں نے باطل اور من گھڑت روایتوں کا تعاقب کیا ہے،تو یہ کام نہ صرف ہمارے اسلاف کے منہج کی جانب رہنمائی کرے گا، بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اُن مخطوطات کی جانب بھی رہنمائی کرے گا جو آج دِیمک اور گردو غبار سے تحلیل ہوتے جارہے ہیں،بلاشبہ نت نئی تحقیقات، شروحات، تسہیلات وغیرہ ناگزیر تالیفات ہیں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن مخطوطات کو ہم محفوظ کر سکتے ہیں، کل ان کا نام ’’حَسَراتِ زمانہ‘‘ کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔

تحقیق اور اس کا موضوع:

گزشتہ تمام تفصیلات کے پیشِ نظر بندہ نے اپنے گرد وپیش پھیلی ہوئی مشہور روایتوں کی تحقیق کو اپنا موضوع بنایا،اور ان روایات میں سے ایسی ۲۸ روایات کی تعیین کی جو درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں، واضح رہے کہ ۲۸ روایات کا یہ مجموعہ تین قسم کی روایات پر مشتمل ہے:

1 من گھڑت روایات

2 بے سند روایات

3 ضعفِ شدید پر مشتمل روایات

آپ دورانِ تحقیق نتائج میں ان تینوں اقسام کا مشاہدہ کریں گے، اور فنِ اصولِ حدیث کے مطابق یہ تینوں اقسام نوعیاتی فرق رکھتی ہیں، البتہ ان تینوں اقسام کو آپﷺ کے انتساب سے بیان کرنا جائز نہیں ہے، ذیل میں ان اَحادیث کو مختصر عنوان کے ساتھ سے تحریر کیا جاتا ہے:

1 ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔

2 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے، ابو شحمہ پر حدنافذ کرنے کا قصہ (یہ موقوف روایت ہے)۔

3 ایک بَدُّو کے آپ ﷺ سے ۲۴ سوالات۔

4 آپ ﷺ کا وصال سے قبل اپنی ذات پر قصاص اور بدلہ دِلوانا۔ (یہ تفصیلی من گھڑت قصہ عکاشہ نامی ایک شخص کی جانب منسوب ہے، البتہ یہ قصہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ سے بدر کے دن، صف درست کرتے ہوئے ایک صحابی سَواد بن غَزِیّہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں چھڑی چب گئی تھی، سَواد بن غَزِیّہ رضی اللہ عنہ کے مطالبے پر آپﷺ نے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا، سَواد بن غَزِیّہ رضی اللہ عنہ آپ کے بدن سے چمٹ گئے، آپ نے خوش ہوکر بھلائی کی دعا دی۔ (انظر ترجمةَ سَواد بن غَزِیّة في ’’الاستیعاب في معرفة الأصحاب‘‘ و’’الإصابة في تمییز الصحابة‘‘ وغیرهما).

5 ’’ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘۔

اس روایت کے تحت دو مزید حکایات کی فنی تحقیق پیش کی گئی ہے۔

6 ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورہ ٔفاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے، اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔

7 نورِ محمدی ﷺ کی چمک سے اندھیرے میں گمشدہ سوئی کا ظاہر ہونا۔

8 ’’تہمت کی جگہوں سے بچ کر رہو‘‘۔

9 ’’جو بندہ نمازِ تراویح پڑھتا ہے تو اس کو ہر سجدے کے بدلے پندرہ سو نیکیاں ملتی ہیں،اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک ایسا محل تعمیر کیا جاتا ہے، جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر سونے کا ایک محل ہوتا ہے، جس پر سرخ یاقوت جڑے ہوتے ہیں‘‘۔

0 ’’اپنا نصف دین حُمَیراء (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا)سے حاصل کرو‘‘۔

! بچے کی بسم اﷲ پر اس بچے کی، اُس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔

@ ’’ایک مومن عورت کی نیکی، ستر صدیقین کے عمل کی مانند ہے، اور ایک فاجر عورت کی برائی ہزار فاجر مَردوں کی طرح ہے‘‘۔

# ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں‘‘۔

اس روایت کے ضمن میں ایک زبان زَد عام قصہ کی تحقیق ذکر کی گئی ہے۔

$ حضرات اہل بیت کا مسکین،یتیم اور قیدی پر اِیثاراور تین دن بھوکا رہنا۔

% ’’اﷲ کی معرفت میرا اَثاثہ ہے۔۔۔‘‘۔

^ ختمِ قرآن کی دُعا:

’’اللّهم أنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرأن العظیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدى ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.

یہ دعا دَراصل دومختلف اجزاء کا مجموعہ ہے،ہر جزء کا حکم دوسرے سے مختلف ہے، اس لئے ہر جزء پرعلیحدہ فنی تبصرہ کیا گیا ہے، واضح رہے یہ تحقیق دعا بحیثیت ِ حدیث ہے۔

& ’’میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔۔۔‘‘۔

* ’’جمعہ کا حج،حج اکبر ہے‘‘۔

( ’’دنیا مردار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں‘‘۔

) کلمہ’’لا الہ الا اللہ‘‘ مَد کے ساتھ (کھینچ کر) پڑھنے سے چار ہزار نیکیاں۔

q ’’مسجد میں باتیں کرنا نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جیسے آگ لکڑیوں کو‘‘۔

تحقیق کے آخر میں ضمناً ایک دوسری روایت کی فنی تفصیل پیش کی گئی ہے، حدیث یہ ہے:

’’جب آدمی مسجد میں آتا ہے پھر بہت باتیں کرنے لگتا ہے، تو فرشتے اسے کہتے ہیں: اے اللہ کے ولی! خاموش ہوجا، اگر وہ پھر بھی باتوں میں لگا رہے، تو فرشتے کہتے ہیں:اے اللہ کے مبغوض بندے!چپ کر جا، اگر وہ پھر بھی باتیں کرتا رہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، چپ ہوجا‘‘۔

w ’’میرے اَرض و سما مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مؤمن بندے کا دل، مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘۔

اس حدیثِ قدسی کے ساتھ ایک دوسری حدیث قدسی کی بھی تحقیق ذکر کی گئی ہے، حدیث یہ ہے:

’’دل رب کا گھر ہے‘‘۔

e کھانے سے قبل دعا: ’’بِسْمِ اﷲِ وَعَلَى بَرَکَةِ اﷲ‘‘.

اس دعا کا ذکر معتبر کتب میں موجود ہے،لیکن یہ دعا تحقیق کا موضوع اس لئے بنی ہے کہ اس دعا کو لفظِ ’’علی‘‘ کے ساتھ لکھا جاتا ہے،حالانکہ لفظِ ’’علی‘‘ کی زیادتی در حقیقت ثابت نہیں ہے، نیز ضمنًا یہ تحقیق بھی لکھی گئی ہے کہ اس دُعا کا حوالہ دینے میں عام طور پر غلطی کی جاتی ہے۔

r ’’علماء کے علاوہ تمام لوگ بے جان ہیں، اور علماء میں عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں ،اور عمل کرنے والوں میں مخلصین کے علاوہ تمام غرق ہونے والے ہیں ،اور اخلاص والے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہیں‘‘۔

t ’’مؤمن کے جھوٹے میں شفاء ہے‘‘، بعض جگہ یہ الفاظ ہیں ہے: ’’مومن کے تھوک میں شفاء ہے‘‘۔

y ’’جب ابراہیم e نے لوگوں کو حج بیت اللہ کیلئے پکارا، اس کے جواب میں لوگوں نے لبیک کہا،چنانچہ جس نے ایک مرتبہ لبیک کہی، تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا، جس نے دو مرتبہ تلبیہ کہی، وہ دو مرتبہ حج کرے گا، اور جس نے دو سے زائد مرتبہ تلبیہ کہی، وہ اسی حساب سے حج کرے گا‘‘۔

u اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’میں اللہ ہوں،میں معبود ہوں،میں بادشاہوں کا مالک اور شہنشاہوں،بادشاہوں کے دل میرے قبضے میں ہیں،جب میرے بندے میری اطاعت کرتے ہیں، تو میں ان کے بادشاہوں کے دل شفقت ورحمت سے بھر دیتا ہوں ،اور بندے جب میری نافرمانی کرتے ہیں، تو میں بادشاہوں کے قلوب میں ان کے لئے ناراضگی اور انتقام ڈال دیتا ہوں، چنانچہ وہ بادشاہ ان کو بری اذیتوں میں مبتلاء کر دیتے ہیں، (اس وقت) تم بادشاہوں کو بددعا دینے میں اپنے آپ کو مشغول نہ کردینا،بلکہ اللہ کی یاد اور عاجزی میں مشغول ہونا، میں تمہارے بادشاہوں سے تمہاری کفایت کردوںگا ‘‘۔

i ۱- حاملہ کو (بعض سندوں میں ہے کہ جس حاملہ سے خاوند رضامند ہو) روزے دار، نماز پڑھنے والے،خشوع کرنے والے،مطیع اور مجاہد فی سبیل اللہ کا اجر ملتا ہے۔

۲- دردِ زَہ پر اسے ایسا اجر ملتا ہے،جسے مخلوق میں کوئی نہیں جانتا۔

۳- دودھ کے ہر گھونٹ کے بدلے نیکی (بعض روایتوں میں ایک جان زندہ کرنے) کا اجر ملتا ہے۔

۴- وضعِ حمل سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

۵- اگر رات کو بچے کی وجہ سے جاگنا پڑ گیا،تو ستر غلام اللہ کی راہ میں آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔

ضمناًیہ تحقیق بھی لکھی گئی ہے کہ یہ موقوف روایت (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد) ثابت ہے (اور ایسا قول حکماً مرفوع ہوتا ہے): ’’عورت حمل سے وضعِ حمل (پھر) بچے کے دودھ چھڑانے تک اس شخص کی طرح ہے ،جو اللہ کے راستے میں اس کی سرحدوں کا پہرہ دے، اگر وہ اس دوران مر جائے تو اسے شہید کااجر ملے گا‘‘۔

تحقیق کا منہج اور طریقۂ کار:

تحقیقاتِ حدیث ایک پیچیدہ فنی بحث ہے،جسے صرف وہی شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے، جس کے سامنے اصولِ حدیث، عللِ حدیث اور فنِ رجال کی بحثیں ماہرین کی سرپرستی، وسیع مطالعہ اور طویل ممارست سے منقّح ہوگئی ہوں، بصورتِ دیگر اِن تحقیقات سے کما حقہ فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا، بہر حال دورانِ تحقیق جن اُمور کو ملحوظ رکھا گیا ہے، اگر قارئین اِن امور کو سامنے رکھیں تو بہت سے مشکل مقامات کو سمجھنا آسان ہو جائے گا، بلکہ کافی حد تک ان تحقیقات میں بصیرت بھی حاصل ہو جائے گی، ملاحظہ ہو:

- تقریباًہر حدیث کی ابتدا میں ایک تمہیدی مضمون ذکر کیا گیا ہے،یہ اِقتباس دراصل متعلقہ بحث کی تسہیل اور مرکزی نکتے کی حیثیت رکھتا ہے،اور اِس عبارت سے کئی مقاصد پورے ہوتے ہیں،مثلاً:

۱- اِس مضمون میں زیرِتحقیق روایت کی ضروری اُصولی بحث ذکر کر دی جاتی ہے تاکہ دورانِ تحقیق فنی بحث سے اُلجھائو پیدا نہ ہو،اور اس فنی بحث کی طرف دورانِ تحقیق صرف اشارہ کر دیا جاتا ہے،جس کی تفصیل اس ابتدائی مضمون میں گزرچکی ہوتی ہے۔

۲- کئی احادیث کی مرکزی اور فنی وضاحت مشترک ہوتی ہے، اس لئے اِن اِبتدائی مضامین میں آپ تکراربھی پائیں گے،خاص طور پر حافظ شمس الدین سخاویl کا وہ اقتباس جس میں موصوف نے حافظ ابن حجرl کے حوالے سے ضعیف حدیث کے ردّ وقبول کی تین اہم شرائط لکھی ہیں، ان شرائط کی تفصیل آگے آرہی ہے، ان شاء اللہ۔

۳- اِن نِکات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اس ابتدائی مضمون کا متعلقہ تحقیقِ حدیث سے گہرا تعلق ہوتا ہے،بالفاظِ دیگریہ اقتباس تحقیقِ حدیث کے تابع اور اس کے سمجھنے میں انتہا ئی معاون ہوگا؛ اس لئے اسے محض مقدمہ ہرگز نہ سمجھا جائے۔

- تمام احادیث کی ابتدا میں پوری تحقیق کا خلاصہ لکھا جاتا ہے، تاکہ اجمالی نقشہ ذہن میں مستحضر رکھ کر تفصیلات سمجھنا آسان ہو جائے،یہ خلاصہ عام طور پر چار بنیادی اُمور پر مشتمل ہوتا ہے:

۱- روایت اور اس کے بنیادی مصادِر

۲- نفسِ روایت پر ائمہ حدیث کا کلام اور اس کا خلاصہ

۳- روایت کے متَکَلّم فیہ راوی کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال اور ان کا خلاصہ

۴- روایت کا فنی حکم

-  ہم نے اپنی جستجو کے مطابق زیرِ بحث روایت کے مصادر ومراجع ذکر کیے ہیں،اور روایت کا فنی حکم انہی طرق اور ان کے بارے میں ائمہ حدیث کے کلام کو سامنے رکھ کر قائم کیا ہے؛ لہذا اگر کوئی معتبر طریق ہمیں یا کسی بھی فرد کو مل جائے تو وہ اس تحقیق کے لئے ہرگز مضر نہیں، البتہ متنِ حدیث کا حکم بلاشبہ ایسی صورت میں بدل جاتا ہے، احبابِ فن اس سے بخوبی واقف ہیں کہ محدثینِ کرام کا کسی روایت پر فنی حکم لگانا، ان کی ملحوظہ روایات کی روشنی میں ہوتا ہے،اس میں اس بات کا امکان بہر حال باقی رہتا ہے کہ اس ساقط الاعتبار روایت کا کوئی معتبر طریق مل جائے،چنانچہ کسی معتبر طریق ملنے کے بعد اب متنِ حدیث کا حکم اس معتبر سند کی حیثیت سے بدل سکتا ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ کسی سند کا معتبر یا غیر معتبر ہونا اصولِ حدیث کی روشنی میں ہی ہوسکتا ہے، اس لئے کسی ممکنہ معتبر سند کا محض تصور یا کسی غیر معتبر سند کاموجود ہونا، ان تحقیقات میں ذکر کردہ فنی حکم کے معارض نہیں بن سکتا۔

یہ بھی واضح رہے کہ ہم نے اپنی جستجو کے مطابق تحقیقاتِ سلف کو جمع کرکے نتائج نقل کیے ہیں،قارئینِ کرام سے درخواست ہے کہ آپ فن حدیث کے مطابق اسے خوب پرکھیں، اگر آپ کے نزدیک ان نتائج کے علاوہ کوئی دوسرا حکم قرینِ قیاس ہے، تو اس بارے میں احقر کو ضرور مطلع فرمائیں، آپ کا فنی تبصرہ ماہرین ِ فن کے نزدیک راجح ہونے کی صورت میں احقر کو رجوع سے ہر گز تأمل نہیں ہوگا،اور احتیاج کے اظہار کے ساتھ آپ کی اصلاحات پر ممنون رہوں گا۔

- واضح رہے کہ ہر روایت کا فنی مقام سمجھنے کےلئے جہاں نفسِ روایت کے بارے میں ائمہ حدیث کے اقوال کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، وہاںروایت میں زیرِ بحث راوی کے بارے میں ائمہ حدیث کے تفصیلی اقوال کا سمجھنا بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے،اسی لئے دورانِ تحقیق ان دونوں امور کو علیحدہ عنوان سے لکھا گیا ہے،اور تسہیل کےلئے ہر عنوان کے آخر میں خلاصہ بھی مذکور ہے۔

- نفسِ حدیث کے بارے میں متقدمین ومتاخرین دونوں کے اقوال لکھے گئے ہیں، جن میں آپ اکثر اس بات کا مشاہدہ کریں گے کہ متاخرین علماء کرام، متقدمین محدثین کی متابعت اختیار فرماتے ہیں، ہم نے اکثر مقامات پر اِن متاخرین محدثینِ کرام کی مکمل عبارتیں نقل کی ہیں، اورمحض اس پر اکتفاء نہیں کیا کہ متابعت کی صورت میں متاخرین کے صرف ناموں کو ذکر کر دیا جائے۔

- متکلم فیہ راوی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال لکھتے ہوئے اس کا اہتمام کیا گیا ہے کہ حسبِ ضرورت توضیحی عبارتوں سے مفہومِ کلام کو آسان تر بنایا جائے۔

-  اگر زیرِ بحث تحقیق مختلف الفاظ سے مروی ہو، تو ان تمام عبارتوں کو لکھا گیا ہے۔

-  اردو زبان کا دامن عربی زبان کے مقابلے میں انتہائی تنگ ہے، اس لئے ایسا نہیں کیا گیا کہ عربی عبارتوں کو حذف رکھ کر ان کا صرف ترجمہ کر دیا جائے، بلکہ اکثر عربی عبارتیں ذکر کر کے ان کا ترجمہ لکھا گیا ہے، اس لئے اہل ِعلم حضرات تو عربی متن کو خصوصیت سے ملحوظ رکھیں،اور ترجمہ میں حتی الامکان بامحاورہ ترجمہ کے ساتھ ساتھ عبارت کے الفاظ کی رعایت بھی کی گئی ہے،اور اگر کہیں عربی عبارت میں کوئی لفظ پیچیدہ تھا ،تو ’’لِسان العرب‘‘ یا ’’النِهایة في غریب الأثر‘‘ کے محاورات کی روشنی میں اردو میں اس لفظ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

-  بعض مقامات پر طویل احادیث کا پورا متن نہیں لکھا گیا بلکہ اس کا خلاصہ لکھا گیا ہے،البتہ حسب موقع اِن طویل احادیث میں بھی عربی متن لاتے رہے ہیں۔

- بعض اوقات ایک روایت میں مروّجہ مضمون اختصار کے ساتھ لکھا گیا ہوتا ہے،جس کی تلافی دیگر متعلقہ مفصّل روایات سے کی جاتی ہے۔

- اصطلاحی الفاظ ایک خاص پسِ منظر رکھتے ہیں؛ اس لئے ان کو ترجمہ میں ڈھالنے کے بجائے بعینہ لکھا جاتا ہے، خصوصاًائمہ کرام کے اَقوالِ جرح وتعدیل اکثر اصطلاحی ہوتے ہیں (جو بظاہر غیر اصطلاحی معلوم ہوتے ہیں) جو در اصل متکلم فیہ راوی کے ایک خاص فنی مقام کی طرف مشیر ہوتے ہیں، جسے اَصحابِ فن بخوبی جانتے ہیں،اِن الفاظ کا اردو یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا ایک سنگین غلطی ہے؛ اس لئے ایسے الفاظ کے بعد قوسین میں ’’کلمۂ جرح‘‘ اور ’’کلمۂ تعدیل‘‘ کے الفاظ لکھے گئے ہیں، اور حسبِ ضرورت ائمہ کے اقوال کا عام فہم خلاصہ بھی لکھا گیا ہے تاکہ نتائج سمجھنے میں آسانی ہو، البتہ جہاں اِن اقوال میں ایسی فنی پیچیدگی نہ تھی، وہاں اِن اقوال کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے، لیکن یہ ترجمہ بھی محض تسہیلِ فہم کےلئے ہے، اسے تعریف نہ سمجھا جائے۔

- اردو عبارتوں میں بھی عمومی طور پر مشکل الفاظ کا آسان ترجمہ قوسین میں لکھا گیا ہے۔

- بعض اوقات ایک حدیث ضمناً مذکور ہوتی ہے،جس کی مختصر تخریج حسبِ ضرورت لکھی جاتی ہے۔

- اسی طرح بعض اوقات ایک ایسی ساقط الاعتبارروایت کو بھی ضمناً نقل کر دیا جاتا ہے،جو اگرچہ تحقیق کا موضوع نہیں ہوتی،لیکن زیرِ بحث روایت کے موضوع پر مشتمل ہوتی ہے۔

-  اگر زیرِ بحث ساقط الاعتبار روایت کے مضمون پر مشتمل معتبر روایت موجود ہو،تو بعض اوقات حسبِ موقع ان معتبر روایتوں کو بھی لکھا جاتا ہے۔

- حسب ضرورت سند میں مذکور راویوں کی تصحیف (تبدیلی) اور سَقَطَات (سند میں رُواۃ یا دیگر الفاظ کا حذف)کی تعیین بھی کی گئی ہے۔

- آپ مختلف مقامات پر (.....) کا مشاہدہ کریں گے،یہ خاص علامت حسبِ مقام مختلف مقاصد کےلئے استعمال کی گئی ہے،جیسے:

۱- عبارت کے شروع اس علامت کا یہ مطلب ہوگا کہ یہ کلام ماقبل بحث سے منسلک ہے، اور یہاں یہ عبارت حسبِ ضرورت نقل کی گئی ہے۔

۲- عبارت کے اختتام پر اس علامت سے یہ اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ابھی عبارت مزید باقی ہے،لیکن ہم نے صرف موضوع سے متعلقہ عبارت نقل کی ہے۔

۳- بعض اوقات متعلقہ مضمون ایک لمبی عبارت میں منتشر ہوتا ہے، اس لئے اس مکمل عبارت کو لکھنے کے بجائے صرف متعلقہ عبارت نقل کی جاتی ہے اور زائد عبارت حذف کرکے یہ علامتِ حذف (.....) ذکر کر دی جاتی ہے۔

۴- البتہ بعض مقامات پر حذف کی یہ علامت صاحبِ کتاب کی جانب سے ہوتی ہے؛ اس لئے التباس سے بچنے کےلئے عربی عبارت دیکھ لینی چاہیے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ حذف صاحبِ کتاب کی جانب سے ہے، یا محقِّق نے حسبِ ضرورت یہاں عبارت حذف کی ہے۔

-  اِس کا اہتمام کیا گیا ہے کہ جن کتابوں کی عبارتیں نقل کی جائیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی ہر گز نہ کی جائے،اگرچہ اس عبارت کا اُسلوب تحریر مروّجہ اسلوب کے موافق نہ ہو،اور اگر کہیں کسی تصحیف (تبدیلی) وغیرہ کی نشاندہی مطلوب ہو، تو اصل عبارت کو بعینہ نقل کرکے تصحیف وغیرہ کی وضاحت کر دی جاتی ہے۔

- حسبِ ضرورت محدثینِ کرام اور روایانِ حدیث کے ناموں میں صحیح تلفظ کےلئے اعراب لگائیں گئے ہیں۔

-  مذکورہ نِکات سے واضح ہو گیا ہوگا کہ ہر تحقیق میں تسہیل وتفہیم کی خاص رعایت کی گئی ہے،جس کا لازمی نتیجہ طوالت ِ تحقیق ہے،اسی مقصود کے پیشِ نظر تمام تحقیقات میں طوالت کا تحمل کیا گیا ہے۔

آخر میں جامعہ فاروقیہ کے منتظمین،بالخصوص استادِ محترم مولانا محمد انور صاحب، مولانا نور البشر صاحب،اور مولانا ساجد احمدصدوی صاحب کا شکر گزار ہوں، جن کی قدم بقدم رہنمائی سے یہ تحقیق پایۂ تکمیل تک پہنچی، ’’جزاهم اﷲ في الدارین أحسن الجزاء‘‘ .

راقم الحروف

طارق امیر خان

متخصص فی علوم الحدیث

جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل ٹاؤن کراچی

sarwarshoukat4350@gmail.com

رابطہ نمبر: 03423210056

حوالہ جات

[1] الجامع الصحيح للبخاري:باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم:1/33،رقم الحديث:107، ت:محمد زهير بن ناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[2] اللآلئ المصنوعة:ص:35،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .

[3] الدرر الملتقظ:بحواله مجله ’’فكر ونظر‘‘،ص:76،خصوصي اشاعت،ربيع الأول ـ شعبان 1426هـ ، إداره تحقيقات إسلامي بين الأقوامي، إسلامي يونيورستي، إسلام آباد ـ باكستان .

[4] الآثار المرفوعة:ص:12،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[5] كوثر النبي وزلال حوضة الروي (فن معرفة الموضوعات):ص:108،المخطوط،نسخة العلامة عبد الله الولهاري (1283هـ) .

[6] الآثار المرفوعة:ص:19،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[7] مقالات الكوثري:ص:67،دار السلام ـ مصر،الطبعة الثانية1428هـ .

[8] بغية الكامل السامي في شرح المحصول والحاصل للجامي:ص:227،مكتبة مدينة ـ لاهور،باكستان، الطبعة الخامسة1414هـ .

[9] بہشتی زیور:ص:۷۰۴،حصہ دوم،دار الاشاعت،ایم اے جناح روڈ، اردو بازار کراچی ۔

اوپر جائیں ↑

آگے پڑھیں

تعارف