اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی وہب بن راشد رَقِّی بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، حدث بأحاديث بواطيل‘‘[173]. یہ منکر الحدیث ہے، اس نے باطل احادیث بیان کی ہیں۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[174]میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[175]میں فرماتے ہیں: ’’عن ثابت، ومالك بن دينار، وفَرْقَد السبخي، ليست روايته عنهم بالمستقيمة‘‘. یہ ثابت، مالک بن دینار اور فَرْقَد سَبَخِی کے انتساب سے روایت کرتا ہے، ان سے اس کی روایت درست نہیں ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن عدی l ، وہب کی چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولوهب غير ما ذكرت، وأحاديثه كلها فيها نظر‘‘[176]. اور وہب کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور اس کی تمام احادیث میں نظر ہے۔
امام دارقطنی l نے اسے ’’متروك‘‘کہا ہے[177]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[178]میں فرماتے ہیں: ’’شيخ، يروي عن مالك بن دينار العجائب، لا يحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به‘‘. یہ شیخ ہے، مالک بن دینار lکے انتساب سے عجائبات نقل کرتا ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی احتجاج کرنا حلال ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[179] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[180] میں حافظ ابن عدی l ، امام دارقطنی l اور حافظ ابن حبان l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[181] میں حافظ ذہبی l کی عبارت ذکر کرنے کے بعد حافظ ابو حاتم l اور حافظ عقیلی l کے کلام کو نقل کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[182] میں وہب بن راشد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کرکے حافظ ابو حاتم l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حوالہ جات
[173] الجرح والتعديل:9/27،رقم:121،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .
[174]الضعفاء الكبير:4/322،رقم:1924،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[175] الكامل في الضعفاء:8/339،رقم:1992،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[176] الكامل في الضعفاء:8/341،رقم:1992،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[177] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[178] المجروحين:3/75،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[179] تذكرة الحفاظ:ص:۳09،رقم:775،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[180] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[181] لسان الميزان:8/397،رقم:8391 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[182] تنزيه الشريعة:1/125،رقم:15،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .