التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

وہب بن راشد رَقِّی بصری

2 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: وہب بن راشد رقّی

وہب بن راشد رَقِّی بصری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی وہب بن راشد رَقِّی بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، حدث بأحاديث بواطيل‘‘[173]. یہ منکر الحدیث ہے، اس نے باطل احادیث بیان کی ہیں۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[174]میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[175]میں فرماتے ہیں: ’’عن ثابت، ومالك بن دينار، وفَرْقَد السبخي، ليست روايته عنهم بالمستقيمة‘‘. یہ ثابت، مالک بن دینار اور فَرْقَد سَبَخِی کے انتساب سے روایت کرتا ہے، ان سے اس کی روایت درست نہیں ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدی l ، وہب کی چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولوهب غير ما ذكرت، وأحاديثه كلها فيها نظر‘‘[176]. اور وہب کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور اس کی تمام احادیث میں نظر ہے۔

امام دارقطنی l نے اسے ’’متروك‘‘کہا ہے[177]۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[178]میں فرماتے ہیں: ’’شيخ، يروي عن مالك بن دينار العجائب، لا يحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به‘‘. یہ شیخ ہے، مالک بن دینار lکے انتساب سے عجائبات نقل کرتا ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی احتجاج کرنا حلال ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[179] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[180] میں حافظ ابن عدی l ، امام دارقطنی l اور حافظ ابن حبان l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  l نے ’’لسان المیزان‘‘[181]  میں حافظ ذہبی l کی عبارت ذکر کرنے کے بعد حافظ ابو حاتم l اور حافظ عقیلی l کے کلام کو نقل کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[182] میں وہب بن راشد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کرکے حافظ ابو حاتم l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حوالہ جات

[173] الجرح والتعديل:9/27،رقم:121،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .

[174]الضعفاء الكبير:4/322،رقم:1924،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[175] الكامل في الضعفاء:8/339،رقم:1992،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[176] الكامل في الضعفاء:8/341،رقم:1992،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[177] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[178] المجروحين:3/75،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[179] تذكرة الحفاظ:ص:۳09،رقم:775،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[180] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[181] لسان الميزان:8/397،رقم:8391 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[182] تنزيه الشريعة:1/125،رقم:15،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

وہب بن راشد رقّی کے بارے میں ائمہ کے اقوال:

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[8] میں لکھتے ہیں:

’’قال ابن عدي: لیس حدیثه بالمستقیم، أحادیثه کلّها فیها نظر، وقال الدَارَ قُطْنِي: متروک، وقال ابن حِبّان: لایحلّ الاحتجاج به بحال‘‘.

ابن عدیl کا کہنا ہے کہ ’’وہب‘‘ کی احادیث مستقیم نہیں ہیں (جرح)، ان کی تمام روایات میں نظر ہے، اور امام دار قطنیl نے’’ وہب‘‘ کو متروک (شدید جرح) کہا ہے ،اور ابن حبانl کہتے ہیں کہ بہر صورت وہب کی احادیث سے احتجاج درست نہیں ہے۔

حافظ ابن حجرl ’’لسان المیزان‘‘ (۸/ ۳۹۸) میں حافظ ذہبیl کا کلام نقل کرکے کہتے ہیں:

’’وسئل عنه أبو حاتم فقال: منکر الحدیث، حدَّثَ بأحادیث بواطیل، وقال العقیلي: منکر الحدیث...‘‘.

’’ابو حاتمl سے وہب کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ منکر الحدیث ہے، باطل روایتیں بیان کرتا ہے، اور عقیلیl نے بھی وہب کو ’’منکر الحدیث‘‘ (جرح) کہا ہے۔۔۔‘‘۔

حوالہ جات

[8] ميزان الاعتدال:4/352،رقم:9428،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ