التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو اشرس کوفی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو اشرس کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو اشرس کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[89] میں فرماتے ہیں: ’’شيخ، يروي عن شريك الأشياء الموضوعة التي ما حدث بها شريك فقط [ كذا في الأصل]، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل الإنباء عنه‘‘.

یہ شیخ ہے، شریک کے انتساب سے ایسی من گھڑت اشیاء روایت کرتا ہے جن کو شریک نے کبھی بیان نہیں کیا، اس کا کتب میں  ذکر کرنا  حلال نہیں ہے سوائے اس پر خبر دار کرنے کے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[90] میں، حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[91] میں، حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[92] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان المیزان‘‘[93]میں، حافظ سخاوی l نے ’’الأجوبة المرضية‘‘[94]میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[95] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ديوان‘‘[96] میں فرماتے ہیں: ’’متهم، لا يوثق به‘‘. متہم ہے، اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

اور حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[97] میں زیر بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ أبو الأشرس الكوفي كذاب، عن شريك، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن آبائه‘‘. ابو اشرس کوفی جھوٹا ہے، شریک، عن جعفر بن محمد، عن ابیہ، عن آبائہ کے طریق سے روایت کرتا ہے۔

حوالہ جات

[89] المجروحين:3/154،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[90] تذكرة الحفاظ:ص:۳77،رقم:964،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[91] الضعفاء والمتروكين:3/226،رقم:3882،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .

[92] ميزان الاعتدال:4/492،رقم:9966،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[93] لسان الميزان:9/14،رقم:8747 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[94] الأجوبة المرضية:2/495،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[95] تنزيه الشريعة:1/131،رقم:2،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

[96] ديوان الضعفاء:ص:452،رقم:4857،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مکتبة النهضة الحديثة ـ مکة المکرمة، الطبعة۱۳۸۷هـ .

[97] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:242،رقم:623،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱9هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ