اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)حسن بن علی بن محمد بن علی الرضا بن موسی بن جعفر صادق ہاشمی عسکری(المتوفی ۲۶۰ ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
واضح رہے کہ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک حافظ بَلَاذُرِی سے متن تک کے راوی ثقہ ہیں، البتہ سند میں مذکور راوی حسن بن علی کو حافظ ابن جوزی l نے ’’ الموضوعات‘‘[75] میں ایک من گھڑت حدیث کے تحت ’’لیس بشیء‘‘ کہا ہے۔
تاہم حافظ ذہبیl نے ’’موضوعات‘‘ کی اس من گھڑت حدیث میں حسن بن علی کے علاوہ دیگر راویوں کو علت قرار دیا ہے[76]، اور بذات خود حسن بن علی کو ایک دوسرے مقام پر ’’من سادة قومه، لم يبلغ رتبة آبائه في العلم والفقه‘‘. (اپنی قوم کا سردارہے، البتہ علم و فقہ میں اپنے آباء کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکے) قرار دیا ہے[77] ۔
نیزحافظ ابن حجر عسقلانی l ’’موافقة الخبر الخبر‘‘[78] میں ایک حدیث کے تحت سند پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وأما الحسن بن علي وآباؤه: فهم فضلاء ثقات، وهم الأئمة عند الإمامية الإثني عشرية، يضيفون إليهم محمد بن الحسن هذا الذي يدعون أنه المنتظر، والحسن بن علي بن أبي طالب‘‘. اور بہرحال حسن بن علی اور اس کے آباء: تو وہ فضلاء ثقات ہیں، اور وہ اثنا عشریہ امامیہ فرقہ کے نزدیک ائمہ ہیں، وہ ان کے ساتھ اس محمد بن حسن کو بھی شامل کرتے ہیں جن کے بارے میں دعوی کرتے ہیں کہ وہ مُنْتَظَر ہے، اور حسن بن علی بن ابی طالب کو بھی۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ہی ’’لسان المیزان‘‘[79] میں حسن بن علی بن محمد کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’ أحد من يعتقد الإمامية إمامته، ضعفه ابن الجوزي في الموضوعات‘‘. یہ ان میں سے ایک ہے جن کے بارے میں فرقہ امامیہ امامت کا عقیدہ رکھتا ہے، اسے ابن جوزی l نے موضوعات میں ضعیف قرار دیا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ علی بن موسی الرضا کے بارے میں ائمہ کے اقوال ایک دوسری روایت کے تحت پہلے گزر چکے ہیں[80]۔
حوالہ جات
[75] كتاب الموضوعات:ص:293،،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1429هـ .
[76] انظر: ميزان الاعتدال2/496،رقم:4568ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[77] سير أعلام النبلاء:13/121،ت:شعيب الأرنوؤط،موسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .
[78] موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر:1/357،ت:حمدي عبدالمجيد السلفي،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الثانية۱۴14هـ .
[79] لسان الميزان:3/97،رقم:2350،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الاسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[80] علی بن موسی الرضا کے بارے میں اقوال ملاحظہ ہوں: