التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو القاسم اسماعیل بن علی بن علی بن رزین خزاعی

المتوفی 352ھایک روایت میں تذکرہ

ابو القاسم اسماعیل بن علی بن علی بن رزین خزاعی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو القاسم اسماعیل بن علی بن علی بن رزین  خزاعی (المتوفی 352ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[99] میں اسماعیل بن علی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان غير ثقة‘‘. اور یہ ثقہ نہیں تھا۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[100]میں اور حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[101] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l نے ایک دوسرے مقام پر ایک حدیث تخریج کرنے کے بعد اسے ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا، پھر فرماتےہیں: ’’والحمل فيه عندي: على إسماعيل بن علي، والله أعلم‘‘[102] . اور اس میں ذمہ داری اسماعیل بن علی پر ہے، واللہ اعلم۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[103] میں فرماتے ہیں: ’’متهم، يأتي بأوابد‘‘. متہم ہے، ’’اوابد‘‘ لاتا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[104]میں اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[105] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

امام دارقطنی l فرماتے ہیں: ’’ لم يكن مرضيا‘‘[106]. وہ پسندیدہ نہیں تھا۔

علامہ سبط ابن العجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[107]میں حافظ ذہبی l  کا کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’فقوله: متهم مع قوله يأتي بأوابد ما يقتضي أن يكون هو واضعها‘‘. ذہبی l  کا یہ قول کہ ’’یہ متہم ہے اور  اوابد  لاتا ہے‘‘ یہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ وہ ان کا گھڑنے والا ہے۔

حوالہ جات

[99] تاريخ بغداد:7/307،رقم:3302،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[100] الضعفاءوالمتروكين:1/117،رقم:399،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[101] المغني في الضعفاء:1/127،رقم:691،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى ۱۴18هـ .

[102] تاريخ بغداد:15/20،رقم:6940،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[103] ميزان الاعتدال:1/238،رقم:917،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[104] لسان الميزان:2/149،رقم:1204،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[105] تنزيه الشريعة:1/39،رقم:296،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

[106] لسان الميزان2/149،رقم:1204،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الاسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[107] الكشف الحثيث:ص:70،رقم:144،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ