التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی اموی ہَکَّاری الملقب بشیخ الاسلام

المتوفی 486ھایک روایت میں تذکرہ

ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی اموی ہَکَّاری الملقب بشیخ الاسلام کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی اموی ہَکَّاری الملقب بشیخ الاسلام (المتوفی 486ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن عساکرl فرماتے ہیں:’’ لم یکن موثقا فی روایته‘‘[109]. وہ اپنی روایت میں ثقہ نہیں ہے۔

حافظ ابن نجار l ’’ذیل تاریخ بغداد‘‘[110] میں ابو الحسن ہَکَّاری کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:’’وكان الغالب على حديثه الغرائب والمنكرات، ولم يكن حديثه يشبه حديث أهل الصدق، وفي حديثه متون موضوعة مركبة على أسانيد صحيحة، وقد رأيت بخط بعض أصحاب الحديث  بأصبهان  أنه كان  يضع الأحاديث‘‘.

ابو الحسن کی روایات میں غرائب اور منکرات غالب ہیں ،اور اس کی حدیث اہل صدق کی احادیث کی طرح نہیں ہے، ان سے منقول احادیث کے الفاظ من گھڑت ہیں ، جنہیں صحیح سندوں کے ساتھ چسپاں کیا گیا ہے، (ابن نجار l  فرماتے ہیں کہ) میں نے اصبہان کے بعض محدثین کی تحریرات میں دیکھا  کہ یہ ابو الحسن ہَکَّاری  حدیثیں گھڑتا تھا۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[111] میں ابو الحسن ہَکَّاری کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: ’’وقال ابن النجار: متهم بوضع الحديث وتركيب الأسانيد، قاله في ترجمة عبد السلام بن محمد‘‘. ابن نجار l نے اس پر حدیث گھڑنے اور (متون کے ساتھ)سندیں جوڑنے کا اتہام کیا ہے،یہ بات انہوں نے عبد السلام بن محمد کے ترجمہ میں کہی ہے۔

واضح رہے کہ راقم الحروف کو ابو الحسن ہَکَّاری پر حافظ ابن نجار l  کا کلام ’’ذیل تاریخ بغداد‘‘[112] میں   ابو الحسن ہَکَّاری کے ترجمہ میں ملا ہے،واللہ اعلم۔ 

حافظ ذہبی l ہی ’’تاریخ الإسلام‘‘[113] میں ابو بکر  دِیْنَوَرِی کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: ’’قال ابن النجار ... روى شیخ الإسلام أبوالحسن الهَكَّاری عن أبی بکر الدِیْنَوَرِی أربعین حدیثا لسلمان الفارسی رضی الله عنه، قلت: موضوعة  هي‘‘.

’’ابن نجارl کاکہناہے  ۔۔۔ شیخ الاسلام ابو الحسن ہَکَّاری نے ابو بکر دِیْنَوَرِی سے حضرت سلمان فارسیr  کی طرف منسوب کرکےچالیس روایا ت ذکر کی ہیں، میں ( یعنی حافظ ذہبیl) کہتا ہوں کہ یہ روایات من گھڑت ہیں‘‘۔

حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[114] میں لکھتے ہیں: ’’تفرد مدة بطاعة الله في الجبال، وابتنى أربطة ومواضع يأوي إليها الفقراء والصالحون، وكان كثير الخير والعبادة، مقبولا وقورا ‘‘.

ابو الحسن ہَکَّاری نےمدت تک پہاڑوں میں تنہا اللہ کی عبادت کی ہے، جہاں ان کے بنائے ہوئے رِباط اور ٹھکانے پر فقراء وصالحین آتے رہتے تھے،ابو الحسن ہَکَّاری بہت نیک،عبادت گزار،مقبول اور باوقارشخص تھا۔ 

حافظ ابن حجرl نے ’’لسان المیزان‘‘[115] میں ابو الحسن  ہَکَّاری کے بارے میں حافظ ابن نجار l ، حافظ ذہبیl اورحافظ سمعانی l کے کلام پر اکتفاء کیاہے۔

علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[116] کے مقدمہ میں اور علامہ سبط ابن العجمیl نے ’’الكشف الحثيث‘‘[117] میں ابو الحسن  ہَکَّاری کے بارےمیں ابن نجارl کے کلام پراکتفاء کیاہے۔

علامہ مرتضی زَبِیْدِی l ’’إتحاف السادة المتقين‘‘[118] میں ایک دوسری حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’ورأيت طُرَّة بخط الإمام شمس الدين الحرير ابن خال الخَيْضِرِي على هامش نسخة الإحياء ما نصه: قد صنف الشيخ أبو الحسن علي بن يوسف الهَكَّارِي المعروف بشيخ الإسلام كتابا سماه بفضائل الأعمال وأوراد العُمَّال، ذكر فيه عجائب وغرائب من هذه الأحاديث ومن غيرها مرتبة على الليالي والأيام بأسانيد مظلمة، إذا نظر العارف فيها قضى العجب، وساقها بأسانيد له، وقد ذكره الذهبي في ميزانه وذكر عن ابن عساكر أنه لم يكن موثوقا به، وذكره ابن السمعاني في الأنساب وذكر شيوخه ووفاته بعد الثمانين وأربعمائة، فلعل الغزالي نقل عنه اهـ‘‘.

میں نے ’’احیاء‘‘ پر شمس الدین حریرابن خال خَیْضِرِی کےحاشیہ میں موصوف کی تحریر دیکھی ہے،جس میں لکھا ہے کہ شیخ ابو الحسن علی بن یوسف ہَکَّاری جو شیخ الاسلام سے مشہور ہیں،انہوں نے ایک کتاب بنام ’’فضائل الاعمال واوراد العُمَّال‘‘ تصنیف کی ہے،جس میں انھوں نے یہی اوران کے علاوہ عجیب وغریب احادیث مظلم سندوں کے ساتھ ذکر کی ہیں،جو شب وروز پر مرتب کی گئی ہیں، جب کوئی پہچان رکھنے والا شخص اسے دیکھتا ہے تو تعجب کرتا ہے،اور یہ اپنی سند سے ان احادیث کو لاتے ہیں،ان کا تذکرہ ذہبی l نے ’’میزان‘‘ میں کیا ہے، اور کہا ہے کہ ابن عساکرl  کا کہنا ہے کہ یہ شخص ثقہ نہیں ہے،نیز ابن سمعانی l نے ’’انساب‘‘ میں ان کا اور ان کے شیوخ کا  تذکرہ کیا ہے،اور ۴۸۰ھ کے بعد ان کی وفات ذکر کی ہے،شاید کہ غزالی lنے یہ روایتیں ان سے لی ہوں اھ۔

حوالہ جات

[109] سير أعلام النبلاء:19/68،رقم:۳۷،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۰۵هـ .

[110] ذيل تاريخ بغداد:18/119،رقم:۶۵۱،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴25هـ .

[111] ميزان الاعتدال:3/112،رقم:۵۷۷۴،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[112] ذيل تاريخ بغداد:18/119،رقم:۶۵۱،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴25هـ .

[113] تاريخ الإسلام:29/297،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۴هـ .

[114] الأنساب للسمعانی:5/645،ت:عبد الله عمر البارودی،دار الجنان ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[115] لسان الميزان:5/483،رقم:5309،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[116] تنزيه الشريعة:1/86 ،رقم:۲۸۳،ت:عبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[117] الكشف الحثيث:1/184،رقم:۴۹۷،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۷هـ .

[118] إتحاف السادة المتقین:3/621،دار الکتب العلمية ـ  بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ