اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابو الصَلْت عبد السلام بن صالح ہروی(المتوفی 236ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابراہیم بن یعقوب جُوْزَجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’ كان زائغا عن الحق، مائلا عن القصد، سمعت من حدثني عن بعض الأئمة أنه قال فيه: هو أكذب من روث حمار الدجال، وكان قديما متلوثا في الأقذار‘‘. حق سے روگرداں، اعتدال سے اعراض کرنے والا تھا، میں نے ان لوگوں سے سنا جنہوں نے مجھے بعض ائمہ کے واسطہ سے بیان کیا، وہ بعض ائمہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ دجال کے گدھے کی لید سے زیادہ جھوٹا ہے، اور وہ پہلے سے ہی گندگیوں میں ملوث ہے۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ ليس ممن يكذب‘‘[21]. یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو جھوٹ بولتے ہیں۔
حافظ حاتم بن یونس جرجانی l فرماتے ہیں: ’’سألت ابن معين عنه، فقال: صدوق، أحمق‘‘[22] . میں نے ابو الصلت کے بارے میں ابن معین l کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ صدوق ، احمق ہے۔
حافظ عباس دُوْرِیl کہتے ہیں: ’’سمعت يحيى يوثق أبا الصلت‘‘[23]. میں نے یحیی بن معین l سے سنا: وہ ابو الصلت کی توثیق کرتے تھے۔
لیکن حافظ ذہبیl ’’سیر أعلام النبلاء‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’قلت: جبلت القلوب على حب من أحسن إليها، وكان هذا بارا بيحيى، ونحن نسمع من يحيى دائما، ونحتج بقوله في الرجال، ما لم يتبرهن لنا وهن رجل انفرد بتقويته، أو قوة من وهاه‘‘.
میں (حافظ ذہبی l)کہتا ہوں کہ دلوں میں راسخ کی گئی ہے اس شخص کی محبت جو اس کے ساتھ بھلائی کرے، اور یہ شخص یحیی بن معین l سے اچھا سلوک رکھتا تھا، اور ہم یحیی l کے کلام کو ہمیشہ ہی سنتے ہیں، اور ہم رجال میں ان کے قول سے احتجاج کرتے ہیں، جب تک ہمیں دلیل سے معلوم نہ ہوجائے کہ یہ اکیلے ایسے شخص کی توثیق کررہے ہیں جو کہ ضعیف ہے، یا اس راوی کا قوی ہونا دلیل سے معلوم ہو جائےجس کو یحیی بن معین l نے ضعیف کہا ہے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[25] میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے ابو الصلت ہروی کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: ’’ لم يكن عندي بصدوق، وهو ضعيف، ولم يحدثني عنه‘‘. وہ میرے نزدیک صدوق نہیں ہے، وہ ضعیف ہے، اور والد نے مجھے ان کی کوئی روایت بیان نہیں کی۔
حافظ ابن ابی حاتمl ، حافظ ابو زرعہ l کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وأما أبو زرعة: فأمر أن يضرب على حديث أبي الصلت، وقال: لا أحدث عنه، ولا أرضاه‘‘[26]. ابو زرعہl نے ابو الصلت کی حدیث کو ترک کرنے کا حکم دیاہے، اور فرمایاہےکہ میں اس سے حدیث بیان نہیں کرتا، اور نہ ہی میں اس سے راضی ہوں۔
امام نسائی l ’’تسمية مشايخ‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’رافضي خبيث، ليس بثقة ولا مأمون‘‘.
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[28]میں فرماتے ہیں: ’’ كان رافضيا خبيثا‘‘.رافضی خبیث تھا۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن حماد بن زيد، وأهل العراق العجائب في فضائل علي وأهل بيته، لا يجوز الاحتجاج به إذا انفرد‘‘. حماد بن زید اور اہل عراق سے علیr اور اہل بیت کے فضائل میں عجائبات روایت کرتا تھا، اکیلے ہونے کی صورت میں اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔
حافظ ابن حبان l ایک دوسرے مقام پر علی بن موسی الرضا کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’يجب أن يعتبر حديثه إذا روى عنه غير أولاده وشيعته وأبى الصلت خاصة، فإن الأخبار التي رويت عنه وبين بواطيل [كذا في الأصل]، إنما الذنب فيها لأبي الصلت ولأولاده وشيعته، لأنه في نفسه كان أجل من أن يكذب‘‘[30].
ضروری ہے کہ علی بن موسی الرضا کی احادیث کا ’’اعتبار‘‘ کیا جائے، جبکہ ان سے ان کی اولاد اور ان کے شیعہ خصوصاً ابو الصلت کے علاوہ دوسرے لوگ روایت کررہے ہوں، کیونکہ علی بن موسی الرضا سے منقول واضح باطل روایات میں گناہ صرف ابو الصلت، علی بن موسی کی اولاد اور ان کے شیعہ کا ہے، کیونکہ علی بن موسی الرضا بذاتِ خود اس سے بلند مقام کے حامل ہیں کہ وہ جھوٹ بولیں۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[31] میں چند احادیث میں ابو الصلت کو متہم قرار دے کر فرماتے ہیں: ’’ويروي عن علي بن موسى الرضا حديث: الإيمان معرفة بالقلب، وهو متهم في هذه الأحاديث‘‘.اور یہ علی بن موسی الرضا سے حدیث ’’الایمان معرفۃ القلب‘‘ کو روایت کرتا ہے، اور وہ ان احادیث میں متہم ہے۔
امام دار قطنی l فرماتے ہیں: ’’رافضي خبيث، متهم بوضع حديث: الإيمان إقرار بالقلب‘‘[32].رافضی خبیث ہے، حدیث: ’’الایمان اقرار بالقلب‘‘ کے گھڑنے میں متہم ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’الضعفاء‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن حماد بن زيد، وأبي معاوية، وعباد بن العوام، وغيرهم أحاديث منكرة‘‘. حماد بن زید، ابو معاویہ اور عباد بن عوام وغیرہ سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابویعلی خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[34] میں لکھتے ہیں: ’’وليس بقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[35]میں لکھتے ہیں: ’’واه، شيعي، متهم مع صلاحه‘‘. یہ واہی، شیعی ہے، صلاح کے باوجود متہم ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’ اتهمه بالكذب غير واحد، قال أبو زرعة: لم يكن بثقة، وقال ابن عدي: متهم، وقال غيره: رافضي، ق‘‘. کئی لوگوں نے اسے جھوٹ بولنے میں متہم قرار دیا ہے، ابو زرعہ l کہتے ہیں کہ ثقہ نہیں ہے، اور ابن عدی l نے متہم کہا ہے، اور ان کے علاوہ نے اسے رافضی کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب‘‘[37]میں فرماتے ہیں: ’’صدوق، له مناكير، وكان يتشيع، وأفرط العقيلي فقال: كذاب‘‘. صدوق ہے، اس کے پاس مناکیر ہیں، اور یہ شیعہ تھا، اور عقیلی l نے افراط سے کام لیا اور اسے کذاب کہہ دیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی lہی ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ’’وقد كذبوه‘‘[38]. محدثین نے ابو الصلت کو جھوٹا کہا ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی lایک دوسری حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’فيه أبو الصلت، وهو ضعيف يسرق الحديث‘‘[39]. اس میں ابو الصلت ہے، یہ ضعیف ہے، حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔
حوالہ جات
[20] أحوال الرجال:ص:348،رقم:384،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[21] ميزان الاعتدال:2/616،رقم:5051،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[22] سير أعلام النبلاء:11/447،رقم:103،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۲هـ .
[23] ميزان الاعتدال:2/616،رقم:5051،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[24] سير أعلام النبلاء:11/447،رقم:103،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۲هـ .
[25] الجرح والتعديل:6/48،رقم:257،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .
[26] الجرح والتعديل:6/48،رقم:257،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .
[27] تسمية مشايخ أبي عبد الرحمن النسائي:1/63،رقم:112،ت:الشريف حاتم العوني،دار عالم الفوئد ـ مكة المكرمة،الطبعةالأولى۱۴23هـ .
[28] الضعفاء الكبير:3/70،رقم:1036،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[29] المجروحين:2/151،ت:محمودإبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[30] الثقات لابن حبان:8/456،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة ۱۳۹۳هـ .
[31] الكامل في الضعفاء:7/25،رقم:1486،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[32] ميزان الاعتدال:2/616،رقم:5051،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[33] الضعفاء لأبي نعيم:ص:108،رقم:140،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .
[34] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:3/873 ،رقم:788،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .
[35] الكاشف:1/653،رقم:3368،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة الأولى1413هـ .
[36] ديوان الضعفاء:ص:249،رقم:2528،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[37] التقريب:ص:355،رقم:4070،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱1هـ .
[38] الإصابة:8/307،ت:عادل أحمد عبد الموجود،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى14۱۵هـ .
[39] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:1/133،عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .