التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو القاسم عبداللہ بن احمد بن عامر طائی

المتوفی ۳۲۴ھ2 روایات میں تذکرہ

ابو القاسم عبداللہ بن احمد بن عامر طائی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو القاسم عبداللہ بن احمد بن عامر طائی (المتوفی ۳۲۴ھ ) کے بارے میں  ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[48]میں عبداللہ بن احمد بن عامر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن أبيه، عن علي بن موسى الرضا، عن آبائه نسخة‘‘. اس نے عن ابیہ، عن علی بن موسی الرضا، عن آبائہ کے طریق سے نسخہ روایت کیا ہے۔

حافظ ابن غلام زہری l ، عبداللہ بن احمد بن عامر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان أميا، لم يكن بالمرضي، روى عن أبيه، عن علي بن موسى الرضا‘‘[49]. ان پڑھ تھا، پسندیدہ نہیں تھا، عن ابیہ، عن علی بن موسی الرضا کے طریق سے روایت کیا ہے۔

حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[50]میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أهل البيت نسخة باطلة‘‘. عبداللہ بن احمد بن عامر نے  اہل بیت کے انتساب سے باطل نسخہ نقل کیا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’عبدالله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ماتنفك عن وضعه، أو وضع أبيه‘‘. عبداللہ نے اپنے والد سے، ان کے والد نے علی الرضا سے، انہوں نے اپنے آباء سے اس باطل نسخہ کو نقل کیا ہے، یہ من گھڑت نسخہ یا تو عبداللہ بن احمد بن عامر نے گھڑا ہے، یا ان کے والد احمد بن عامر نے گھڑا ہے۔

حافظ ذہبی l کے کلام پر حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان‘‘[52] میں اور علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[53] میں اکتفاء کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاریخ الإسلام‘‘[54] میں عبداللہ بن احمد بن عامر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وأحسبه واضع تلك النسخة‘‘. میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس عبداللہ بن احمد نے یہ نسخہ گھڑا ہے ۔

علامہ سیوطی l نے بھی ایک دوسرے مقام پر حافظ ذہبی l   کا قول (یعنی میزان والا)نقل  کرکے لکھا ہے: ’’فما أتهم إلا الابن دون الأب...‘‘[55]. میں تو صرف بیٹے یعنی عبداللہ بن احمد بن عامر ہی کو متہم سمجھتا ہوں نہ کہ ان کے والد کو۔۔۔‘‘۔

حوالہ جات

[48] تاريخ بغداد:11/27،رقم:4924،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[49] تاريخ بغداد:11/27،رقم:4924،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[50] الضعفاءوالمتروكين:2/115،رقم:۱۹۸۴،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة  الأولى۱۴۰۶هـ .

[51] ميزان الاعتدال:2/115،رقم:۳۹۹۲،ت:محمد رضوان،الرسالة العالمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۰هـ .

[52] لسان الميزان:4/425،رقم:۴۱۴۳،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[53] الكشف الحثيث:۴۶،رقم:۴۶،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .

[54] تاريخ الإسلام:24/149،رقم:۱۷۳،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[55] جمع الجوامع:18/529،دار السعاده ـ الأزهر،الطبعة۱۴۲۶هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو القاسم عبداللہ بن احمد بن عامر طائی (المتوفی ۳۲۴ھ ) کے بارے ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘ [4] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أهل البيت نسخة باطلة‘‘. عبداللہ بن احمد بن عامر نے اہل بیت کے انتساب سے باطل نسخہ نقل کیا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘ [5] میں فرماتے ہیں: ’’عبدالله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ماتنفك عن وضعه، أو وضع أبيه‘‘.

عبداللہ نے اپنے والد سے، ان کے والد نے علی رضا سے، انہوں نے اپنے آباء سے اس باطل نسخہ کو نقل کیا ہے، یہ من گھڑت نسخہ یا تو عبداللہ بن احمد بن عامر نے گھڑا ہے، یا ان کے والد احمد بن عامر نے گھڑا ہے۔

حافظ ذہبی l کے کلام پر حافظ ابن حجر عسقلانی l نے’’لسان الميزان‘‘[6] میں، علامہ ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[7] میں اکتفاء کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاریخ الإسلام‘‘[8] میں عبداللہ بن احمد بن عامر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وأحسبه واضع تلك النسخة‘‘. میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس عبداللہ بن احمد نے یہ نسخہ گھڑا ہے ۔

علامہ سیوطی l نے بھی ایک دوسرے مقام پر حافظ ذہبی l کا قول (یعنی میزان والا)نقل کرکے لکھا ہے: ’’فما أتهم إلا الابن دون الأب...‘‘[9].’’میں تو صرف بیٹے یعنی عبداللہ بن احمد بن عامر ہی کو متہم سمجھتا ہوں نہ کہ ان کے والد کو۔۔۔‘‘ ۔

حوالہ جات

[4] الضعفاءوالمتروكين:۲/۱۱۵،رقم:۱۹۸۴،ت:أبو الفداءعبد الله القاضي،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة  الأولى۱۴۰۶هـ .

[5] ميزان الاعتدال:۲/۳۵۳،رقم:۳۹۹۲،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العالميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۰هـ .

[6] لسان الميزان:۴/۴۲۵،رقم:۴۱۴۳،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[7] الكشف الحثيث:۴۶،رقم:۴۶،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .

[8] تاريخ الإسلام:۲۴/۱۴۹،رقم:۱۷۳،ت:عمر عبد السلام تدمري،دارالكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .

[9] كنزالعمال:۱۳/۱۵۳،رقم:۳۶۴۷۸ ،ت:الشيخ بكري حياني،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الخامسة ۱۴۰۵هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ