اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی جعفر بن نسطور رومی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ صغانی l نے اپنی ’’موضوعات‘‘[122] میں نسطور رومی کی احادیث کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’میزان الا عتدال‘‘[123] میں فرماتے ہیں: ’’ لم أر له ذكرا في كتب الضعفاء، هو أسقط من أن يشتغل بكذبه‘‘. میں نے ضعفاء کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں دیکھا، وہ اس لائق بھی نہیں ہے کہ اس کے جھوٹ کا ذکر کیا جائے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’تجريد أسماء الصحابة‘‘[124] میں جعفر بن نسطور کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’الإسناد إليه ظلمات، والمتون باطلة،وهو دجال، أو لا وجود له‘‘. اس تک کی اسناد تاریک ہے، اور متون باطل ہیں، اور وہ دجال ہے، یا اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان المیزان‘‘[125] میں حافظ ذہبی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’الإصابة‘‘[126] میں فرماتے ہیں: ’’ أحد الكذابين الذين ادعوا الصحبة بعد النبي صلى الله عليه وسلم بمئين من السنين‘‘. یہ ان جھوٹوں میں سے ایک ہے جنہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے دو سو سال کےبعد صحابی ہونے کا دعوی کیا ہے۔
حافظ ابن کثیر l ’’التكميل‘‘[127] میں فرماتے ہیں: ’’ نسطور الرومي، ويقال جعفر بن نسطور، ادعى هذا الشخص الصحابة [ كذا في الأصل] بعد الثلاثمائة، فكذبه أئمة الحديث الذين بلغهم ذلك، ومنهم من ينكر وجوده بالكلية ويطعن في الإسناد إليه‘‘. نسطور رومی اسے جعفر بن نسطور بھی کہا جاتا ہے، اس شخص نے تین سو سال بعد صحابی ہونے کا دعوی کیا ہے، چنانچہ جن ائمہ کو یہ بات پہنچی ہے انہوں نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، بعض محدثین تو بالکل اس کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں اور اس تک پہنچنے والی سند پر طعن کرتے ہیں۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[128] میں جعفر بن نسطور رومی کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کر کے حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ پٹنی l نے ’’تذكرة الموضوعات‘‘[129] میں جعفر بن نسطور رومی کی روایات کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔
اسی طرح ملا علی قاری l نے ’’الأسرار المرفوعة‘‘[130] اور ’’المصنوع‘‘[131] میں، علامہ عجلونی l نے ’’ كشف الخفاء‘‘[132] میں، علامہ شوکانی l نے ’’الفوائد المجموعة‘‘[133] میں اور علامہ قاوقجی l نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘[134] میں جعفر بن نسطور رومی اور بعض دیگر راویوں کی روایات کو من گھڑت روایات میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[122] الموضوعات للصغاني:ص:30،رقم:17،ت:نجم عبد الرحمن خلف،دار نافع،الطبعة الأولى1401هـ .
[123] ميزان الاعتدال:1/419،رقم:1540،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[124] تجريد أسماء الصحابة:1/85 ،رقم:805 ،دار المعرفة ـ بيروت .
[125] لسان الميزان:2/478،رقم:1927،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[126] الإصابة:1/648،رقم:1345،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلى محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى14۱۵هـ .
[127] التكميل في الجرح والتعديل:1/341،رقم:565،ت:شادي بن محمد بن سالم آل نعمان،مكتبة ابن عباس ـ مصر،الطبعةالأولى1432هـ .
[128] تنزيه الشريعة:1/46،رقم:32،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[129] تذكرة الموضوعات:ص:9،احياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعةالثانية۱۳99هـ .
[130] الأسرارالمرفوعة:ص:406،ت:محمد الصباغ،دار الأمانة ـ بيروت،الطبعة۱۳۹۱هـ .
[131] المصنوع:ص:240،رقم:4۴۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الثانية۱۳۹۸هـ .
[132] كشف الخفاء:2/415،مكتبة القدسي ـ القاهرة، الطبعة۱۳۵۱هـ .
[133] الفوائدالمجموعة:ص:424،ت:عبدالرحمن بن يحيى المعلمي،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[134] اللؤلؤ المرصوع:ص:238،ت: فواز أحمد زمرلي،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .