التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی احمد بن علی اصبہانی انصاری

المتوفی 318ھایک روایت میں تذکرہ

ابو علی احمد بن علی اصبہانی انصاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی احمد بن علی اصبہانی انصاری (المتوفی 318ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[40] میں امام حاکم l  کا قول نقل کرتے ہیں: ’’غريب، طير طرأ علينا، يضعفه بذلك‘‘. یہ غریب ہے، ایسا پرندہ ہے جو ہمارے اوپر اڑ کر آیا ہے، اس جملے سے  حاکم l نے ان کی تضعیف کی ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[41] میں اسے ’’واه‘‘ قرار دیا ہے۔

علامہ یوسف بن حسن ابن مبرد صالحی l (المتوفی 909ھ) ’’بحر الدم‘‘[42] میں لکھتے ہیں: ’’قال أحمد: واه‘‘. احمد بن حنبل l نے ابو علی انصاری کو ’’واہی‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[40] تاريخ الإسلام:7/336،رقم:346،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .

[41] المغني في الضغفاء:1/80 ،رقم:3694،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار  الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴18هـ .

[42] بحر الدم فيمن تكلم فيه الإمام أحمد بمدح أو ذم:ص:11،رقم:10،ت:روحية عبد الرحمن،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ