اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابو علی احمد بن علی اصبہانی انصاری (المتوفی 318ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[40] میں امام حاکم l کا قول نقل کرتے ہیں: ’’غريب، طير طرأ علينا، يضعفه بذلك‘‘. یہ غریب ہے، ایسا پرندہ ہے جو ہمارے اوپر اڑ کر آیا ہے، اس جملے سے حاکم l نے ان کی تضعیف کی ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[41] میں اسے ’’واه‘‘ قرار دیا ہے۔
علامہ یوسف بن حسن ابن مبرد صالحی l (المتوفی 909ھ) ’’بحر الدم‘‘[42] میں لکھتے ہیں: ’’قال أحمد: واه‘‘. احمد بن حنبل l نے ابو علی انصاری کو ’’واہی‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[40] تاريخ الإسلام:7/336،رقم:346،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .
[41] المغني في الضغفاء:1/80 ،رقم:3694،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴18هـ .
[42] بحر الدم فيمن تكلم فيه الإمام أحمد بمدح أو ذم:ص:11،رقم:10،ت:روحية عبد الرحمن،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .