التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو خالد یوسف بن خالد بن عمیر سَمْتِی قرشی اموی

المتوفی 189ھایک روایت میں تذکرہ

ابو خالد یوسف بن خالد بن عمیر سَمْتِی قرشی اموی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو خالد یوسف بن خالد بن عمیر سَمْتِی قرشی اموی (المتوفی 189ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[142] میں فرماتے ہیں: ’’سكتوا عنه‘‘.

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[143] میں فرماتے ہیں: ’’غير ثقة‘‘.

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’  كذاب خبيث، عدو الله، رجل سوء، رأيته بالبصرة ما لا أحصي، لا يحدث عنه أحد فيه خير‘‘[144]. جھوٹا ہے، خبیث ہے، اللہ کا دشمن ہے، برا آدمی ہے، میں نے اسے بصرہ میں کئی مرتبہ دیکھا ہے، اس سے کوئی ایسا شخص  روایت نہیں کرتا جس میں بھلائی ہو۔

نیز حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ كذاب زنديق، لا يكتب حديثه‘‘[145]. جھوٹا ہے، زندیق ہے، اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔

حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[146] میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے یوسف بن خالد کے متعلق پوچھا، تو فرمایا: ’’ أنكرت قول يحيى بن معين فيه: إنه زنديق، حتى حمل إلي كتاب قد وضعه في التجهم بابا بابا، ينكر الميزان في القيامة، فعلمت أن يحيى بن معين لا يتكلم إلاعلى بصيرة وفهم، قلت: ما حاله؟ قال: ذاهب الحديث‘‘.

میں اس کے بارے میں یحیی بن معینl کے اس قول ’’یہ زندیق ہے‘‘ کو اچھا نہیں سمجھتا تھا، یہاں تک کہ وہ ایک کتاب میرے پاس لایا  جسے اس نے فرقہ جہمیہ کے حق میں بصورت باب باب گھڑا تھا،وہ روزِ  قیامت میزان  کا منکر تھا، میں سمجھ گیا کہ یحیی بن معین l کسی کے بارے میں بصیرت اور فہم کے بغیر کلام نہیں کرتے، میں نے سوال کیا کہ اس کی کیا حالت ہے؟ تو جواب دیا کہ ’’ذاہب الحدیث‘‘ ہے۔

حافظ ابو زرعہ l فرماتے ہیں: ’’ذاهب الحديث، ضعيف الحديث، اضرب على حديثه، كان يحيى بن معين يقول: كان يكذب‘‘[147] . وہ ذاہب الحدیث ، ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث کو ترک کردو، یحیی بن معین l فرماتے تھے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’يوسف يكذب‘‘[148] . یوسف جھوٹ بولتا تھا۔

امام مسلم l نے ’’الكنى والأسماء‘‘[149] میں اور حافط عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[150]میں حافط یحیی بن معین l اور حافظ عمرو بن علی فلاس l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابو عبید آجری l کہتے ہیں: ’’قلت لأبي داود: يوسف السَمْتِي كذاب؟ قال: بلغني عن يحيى كلام شديد، قال أبو داود: كان طويل الصلاة‘‘[151] . میں نے ابو داود l سے کہا: کیا یوسف سَمْتِی کذاب ہے؟ ابو داود l نے فرمایا: مجھے یحیی l کے واسطہ سے ان کے بارے میں شدید کلام پہنچا ہے، ابو داؤد l نے کہا کہ وہ لمبی نماز پڑھتا تھا ۔

حافظ ابو یوسف یعقوب بن سفیان فَسَوِی l ’’المعرفة والتاريخ‘‘[152] میں فرماتے ہیں: ’’ويوسف بن خالد السَمْتِي لا يكتب حديثه، ولا يروي عنه أهل الديانة والعقل والمعرفة‘‘. اور یوسف بن خالد سَمْتِی کی حدیث نہ لکھی جائے، اور دیانت، عقل اور معرفت والے اس سے روایت نہیں کرتے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[153] میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع الحديث على الشيوخ ويقرأ عليهم، ثم يرويها عنهم، لا تحل الرواية عنه بحيلة، ولا الاحتجاج به بحال‘‘. اور یہ مشایخ پر حدیث گھڑ کر ان پر پڑھتا تھا، پھر ان کے انتساب سے روایت کرتا تھا، اس سے کسی بھی طرح میں روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی کسی حال میں اس سے احتجاج جائز ہے۔

حافظ ابو الحسین احمد بن سلیمان رَہَاوِی l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا جعفر بن نفيل قلت: حدثتنا زمانا عن يوسف السَمْتِي، ثم تركته، وعن إبراهيم بن أبي يحيى، فلم تحدثنا عنه بشيء؟ قال: بلغني أنهما كانا يضعان الحديث وضعا‘‘[154] . میں نے ابو جعفر بن نفیل سے پوچھا: آپ ہمیں ایک زمانے تک یوسف سَمْتِی سے حدیث بیان کرتے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کردیا، اور اسی طرح ابراہیم بن ابی یحیی کے واسطہ سے بیان کرتے تھے، اب ہمیں ان کے واسطے سے کوئی چیز  کیوں بیان نہیں کرتے؟ جواب میں فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ دونوں خوب حدیث گھڑتے تھے۔

امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث‘‘[155].

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[156] میں فرماتے ہیں: ’’وليوسف غير ما ذكرت من الحديث، ورواياته فيها نظر، وكان من أصحاب أبي حنيفة، وقد أجمع على كذبه أهل بلده‘‘. اور میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی یوسف کی احادیث ہیں، اور اس کی روایات میں نظر ہے، اور یہ ابو حنیفہ l کے اصحاب میں سے تھا، اور اس کے شہر والوں نے  اس کے جھوٹا ہونے پر اتفاق کیا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l نے اسے ’’متروك الحديث‘‘[157] کہا ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’الضعفاء‘‘[158] میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه مناكير‘‘. اس کی حدیث میں مناکیر ہیں۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[159] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن زياد بن سعد وغيره من الثقات المناكير‘‘. زیاد بن سعد اور دوسرے ثقات سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[160] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘.محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تهذيب التهذيب‘‘[161] میں حافظ عجلی l  کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ليس بثقة، وقال مرة: متروك الحديث‘‘. ثقہ نہیں ہے، اور ایک مرتبہ فرمایا: متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابن حجر l ’’تقريب‘‘[162]میں فرماتے ہیں: ’’تركوه، وكذبه ابن معين، وكان من فقهاء الحنفية‘‘. محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے، اور ابن معین l نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، اور یہ حنفیہ کے فقہاء میں سے تھا۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[163] میں یوسف بن خالد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ یحیی بن معین l کے کلام کو نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[142] التاريخ الكبير:8/263،رقم:12764،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .

[143] أحوال الرجال:ص:178،رقم:168،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .

[144] الجرح والتعديل:9/221،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱3۷۱هـ .

[145] الجرح والتعديل:9/221،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱3۷۱هـ .

[146] الجرح والتعديل:9/222،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱3۷۱هـ .

[147] الجرح والتعديل:9/222،رقم:925،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱3۷۱هـ .

[148] الكامل في الضعفاء:8/491،رقم:2067،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[149] الكنى والأسماء لمسلم:1/283،رقم:998،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .

[150] الضعفاء الكبير:4/453،رقم:2082،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[151] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/62،رقم:1135،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[152] المعرفة والتاريخ:2/665،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[153] المجروحين:3/131،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[154] المجروحين:3/131،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[155] الكامل في الضعفاء:8/491،رقم:2067،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[156] الكامل في الضعفاء:8/497،رقم:2067،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت .

[157] الأسامي والكنى:3/118،رقم:2148،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[158] الضعفاء لأبي نعيم:ص:163،رقم:280،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .

[159] المدخل إلى الصحيح:ص:230،رقم:228،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة  ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[160] الكاشف:2/399،رقم:6432،ت:محمد عوامة،أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة ـ جده .

[161] تهذيب التهذيب:7/237،رقم:9194،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[162] التقريب:ص:610،رقم:7862،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱1هـ .

[163] تنزيه الشريعة:1/130،رقم:69،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ