التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سلیمان داؤد بن سلیمان جرجانی غازی مولی قریش

2 روایات میں تذکرہ

ابو سلیمان داؤد بن سلیمان جرجانی غازی مولی قریش کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو سلیمان داؤد بن سلیمان جرجانی غازی مولی قریش کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ أبو سليمان الجرجاني كذاب، يشتري الكتب‘‘[25] . ابو سلیمان جرجانی جھوٹا ہے، کتابیں خریدتا تھا۔

مراد یہ ہے کہ کتابیں خرید کر ان سے لوگوں کو احادیث بیان کرتا تھا۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو مجهول‘‘[26]. وہ مجہول ہے۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[27] میں حافظ یحیی بن معین l اور حافظ ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘[28] . محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                       

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’عن علي بن موسى الرضا وغيره،كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب، له نسخة موضوعة على الرضا، رواها علي بن محمد بن مهرويه القزويني الصدوق عنه‘‘.

علی بن موسی الرضا وغیرہ سے روایت کرتا ہے، یحیی بن معین l  نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ابو حاتم l نے اسے نہیں پہچانا، بہر حال  وہ جھوٹا شیخ ہے، اس کے پاس ایک ایسا نسخہ ہے جو علی الرضا پر  گھڑا ہوا ہے، اس نسخہ کو  علی بن محمد بن مہرویہ قزوینی صدوق نے ان سے روایت کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  l نے ’’لسان المیزان‘‘[30]  میں حافظ ذہبی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[31] اور ’’ذيل دیوان‘‘[32] میں داؤد بن سلیمان کے بارے میں ’’ لا شيء‘‘ اور ’’المقتنى‘‘[33] میں ’’واه‘‘کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[34] میں داؤد بن سلیمان جرجانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن معين: كذاب، له نسخة موضوعة على ابن أبي موسى الرضى‘‘. ابن معین l  کا کہنا ہے کہ یہ کذاب ہے، اس کے پاس علی بن موسی الرضا پر گھڑا ہوا نسخہ ہے۔

حوالہ جات

[25] تاريخ بغداد:9/337،رقم:4418،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[26] الجرح والتعديل:3/413،رقم:1891،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .

[27] الضعفاءوالمتروكين:1/263،رقم:1145،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[28] الأسامي والكنى:4/71،رقم:3002،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[29] ميزان الاعتدال:۲/8 ،رقم:2608،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[30] لسان الميزان:3/397،رقم:3025،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

[31] المغني في الضعفاء:۱/۳۳۰،رقم:۱۹۹۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[32]  ذيل ديوان:ص:32،رقم:134،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مکتبة النهضةالحديثة ـ مکة المکرمة .

[33] المقتنى في سرد الكنى:1/۲۹۰،رقم:۲۸۵۶،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .

[34] تنزيه الشريعة:1/58،رقم:7،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو سلیمان داؤد بن سلیمان جرجانی غازی مولی قریش کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’هو مجهول‘‘[58]. وہ مجہول ہے۔

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ أبو سليمان الجرجاني كذاب، يشتري الكتب‘‘[59]. ابو سلیمان جرجانی جھوٹا ہے، کتابیں خریدتا تھا۔

مراد یہ ہے کہ کتابیں خرید کر ان سے لوگوں کو احادیث بیان کرتا تھا، حالانکہ اس نے وہ احادیث شیوخ سے خود نہیں سنی ہوتی تھیں۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[60] میں حافظ یحیی بن معین l اور امام ابو حاتم l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

امام ابو احمد حاکم l فرماتے ہیں: ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘[61] . محدثین کے نزدیک لیس بالقوی ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[62] میں فرماتے ہیں: ’’عن علي بن موسى الرضا وغيره،كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب، له نسخة موضوعة على الرضا، رواها علي بن محمد بن مهرويه القزويني الصدوق عنه‘‘.

علی بن موسی الرضا وغیرہ سے روایت کرتا ہے، یحیی بن معین l  نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور ابو حاتم l کو اس کی معرفت نہیں، بہر حال  وہ جھوٹا شیخ ہے، اس کے پاس ایک ایسا نسخہ ہے جو علی الرضا پر  گھڑا ہوا ہے، اس نسخہ کو  علی بن محمد بن مہرویہ قزوینی جو کہ صدوق ہے، نے اس سے روایت کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی  l نے ’’ لسان المیزان‘‘[63]  میں حافظ ذہبی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[64]میں داؤد بن سلیمان جرجانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن معين: كذاب، له نسخة موضوعة على ابن أبي موسى الرضى‘‘. ابن معین l  کا کہنا ہے کہ یہ کذاب ہے، اس کے پاس علی بن موسی الرضا پر گھڑا ہوا نسخہ ہے۔

حوالہ جات

[58]  الجرح والتعديل3/413،رقم:1891،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة۱3۷۱هـ .

[59] تاريخ بغداد:9/337،رقم:4418،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[60] الضعفاءوالمتروكين:1/263،رقم:1145،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[61] الأسامي والكنى:4/71،رقم:3002،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[62] ميزان الاعتدال:2/8 ،رقم:2608،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[63] لسان الميزان:3/397،رقم:3025،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[64] تنزيه الشريعة:1/85 ،رقم:7،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ