التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

احمد بن علی بن صدقہ رَقِّی

ایک روایت میں تذکرہ

احمد بن علی بن صدقہ رَقِّی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

 سند میں موجود راوی احمد بن علی بن صدقہ رَقِّی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[4] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن أبيه، عن علي بن موسى نسخة موضوعة، وفيها أحاديث سرقها، قالها [كذا في الأصل] ابن طاهر‘‘. احمد بن علی نے عن ابیہ، عن علی بن موسی کے طریق سے من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، اس نسخہ میں ایسی احادیث ہیں جن کا اس نے سرقہ کیا ہے، یہ بات ابن طاہر l نے کہی ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[5] میں احمد بن علی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، عن علي بن موسى الرضا، وتلك نسخة مكذوبة‘‘. وہ عن ابیہ، عن علی بن موسی الرضا کے طریق سے روایت کرتا ہے، اور (اس کا) یہ جھوٹا نسخہ ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[6]میں اور حافظ سبط  ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[7]میں حافظ ذہبی l کےاس  قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’ اتهمه الدار قطني بوضع الحديث‘‘. دارقطنی l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ المغني في الضعفاء‘‘[9] میں فرماتے ہیں:  ’’عن علي الرضا بخبر كذب‘‘. علی بن رضا سے جھوٹی خبر روایت کرتا ہے۔

حوالہ جات

[4] الضعفاءوالمتروكين:1/81 ،رقم:222،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴۰۶هـ .

[5] ميزان الاعتدال:1/120،رقم:471،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[6] لسان الميزان:1/539،رقم:638،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[7] الكشف الحثيث:ص:50،رقم:67،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[8] ميزان الاعتدال:1/120،رقم:471،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[9] المغني في الضعفاء:1/90،رقم:374،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ