اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی احمد بن علی بن صدقہ رَقِّی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[4] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن أبيه، عن علي بن موسى نسخة موضوعة، وفيها أحاديث سرقها، قالها [كذا في الأصل] ابن طاهر‘‘. احمد بن علی نے عن ابیہ، عن علی بن موسی کے طریق سے من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، اس نسخہ میں ایسی احادیث ہیں جن کا اس نے سرقہ کیا ہے، یہ بات ابن طاہر l نے کہی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[5] میں احمد بن علی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، عن علي بن موسى الرضا، وتلك نسخة مكذوبة‘‘. وہ عن ابیہ، عن علی بن موسی الرضا کے طریق سے روایت کرتا ہے، اور (اس کا) یہ جھوٹا نسخہ ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[6]میں اور حافظ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[7]میں حافظ ذہبی l کےاس قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان‘‘[8] میں فرماتے ہیں: ’’ اتهمه الدار قطني بوضع الحديث‘‘. دارقطنی l نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ المغني في الضعفاء‘‘[9] میں فرماتے ہیں: ’’عن علي الرضا بخبر كذب‘‘. علی بن رضا سے جھوٹی خبر روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[4] الضعفاءوالمتروكين:1/81 ،رقم:222،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[5] ميزان الاعتدال:1/120،رقم:471،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[6] لسان الميزان:1/539،رقم:638،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[7] الكشف الحثيث:ص:50،رقم:67،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[8] ميزان الاعتدال:1/120،رقم:471،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[9] المغني في الضعفاء:1/90،رقم:374،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .