التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

محمد بن حسن مُنْتَظَر

ایک روایت میں تذکرہ

محمد بن حسن مُنْتَظَر کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی محمد بن حسن مُنْتَظَر کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن تیمیہ l ’’مجموع الفتاوى‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’وأما محمد بن الحسن المنتظر، والغوث المقيم بمكة، ونحو هذا: فإنه باطل، ليس له وجود‘‘. محمد بن حسن مُنْتَظَرنیز غَوْث  جوکہ مکہ میں مقیم ہے اور اس جیسی  باتیں  باطل ہیں،  ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔

نیز حافظ ابن تیمیہl ’’جامع الرسائل‘‘[82]  میں فرماتے ہیں: ’’منهم الإثنا عشرية الذين يقولون: بأن الإمامة انتقلت بالنص من واحد إلى واحد إلى المنتظر محمد بن الحسن الذي يزعمون أنه دخل سِرْدَاب سامراء سنة ستين ومائتين وهو طفل، له سنتان أو ثلاث، وأكثر ما قيل: خمس، ويزعمون مع ذلك: أنه إمام معصوم، يعلم كل شيء من أمر الدين، ويجب الإيمان به على كل أحد، ولا يصح إيمان أحد إلا بالإيمان به، ومع هذا فله اليوم أكثر من أربعمئة وأربعين سنة لم يعرف له عين، ولا أثر، ولا سمع له أحد بما يعتمد عليه من الخبر، وأهل المعرفة بالنسب يقولون: إن الحسن بن علي العسكري والده لم يكن له نسل ولا عقب، واتفق العقلاء على أنه لم يدخل السِرْدَاب أحد ....‘‘.

’’ان میں سے اثنا عشریہ کے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ امامت بالنص ایک سے ایک کی طرف منتقل ہوتے ہوئے محمد بن حسن منتظر تک پہنچی ہے،جس کے بارےمیں ان کا کہنا ہے کہ محمد بن حسن سامراءکے تہہ خانہ میں سنہ 260ھ میں دو یا تین اور اکثر کے قول کے مطابق پانچ سال کی عمر میں داخل ہوا تھا، اور ساتھ ساتھ وہ یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ وہ امام معصوم ہے، وہ تمام دینی امور سے واقف ہے، ہر ایک کےلئے اس پر ایمان لانا واجب ہے، کسی کا ایمان اس پہ ایمان لائے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا، اس کے باوجود چار سو چالیس سے زیادہ سال گزر چکے ہیں، نہ اسے کسی آنکھ نے دیکھا، نہ اس کے کوئی آثار ہیں، اور جو اس خبر پر اعتماد کرتے ہیں ان میں سے کسی نے اسے نہیں سنا، اور نسب کی معرفت رکھنے والے کہتے ہیں کہ  ہے کہ حسن بن علی جو کہ مُنْتَظَرکے والد ہیں ان کی کوئی نسل اور اولاد نہیں تھی، اور اہل عقل کا اتفاق  ہے کہ تہہ خانے میں کوئی بھی داخل نہیں ہوا ہے۔۔۔‘‘۔

حافظ ذہبیl ’’سیر أعلام النبلاء‘‘[83] میں فرماتے ہیں:

’’فأما محمد بن الحسن هذا: فنقل أبو محمد بن حزم، أن الحسن مات عن غير عقب، قال: وثبت جمهور الرافضة على أن للحسن ابنا أخفاه، وقيل: بل ولد له بعد موته، من أمة اسمها: نرجس، أو سوسن، والأظهر عندهم أنها صقيل، وادعت الحمل بعد سيدها، فأوقف ميراثه لذلك سبع سنين، ونازعها في ذلك أخوه جعفر بن علي، فتعصب لها جماعة، وله آخرون، ثم انفش ذلك الحمل، وبطل، فأخذ ميراث الحسن أخوه جعفر، وأخ له، وكان موت الحسن: سنة ستين ومائتين.... [كذا في الأصل] إلى أن قال: وزادت فتنة الرافضة بصقيل وبدعواها، إلى أن حبسها المعتضد بعد نيف وعشرين سنة من موت سيدها، وجعلت في قصره إلى أن ماتت في دولة المقتدر.

قلت: ويزعمون أن محمدا دخل سردابا في بيت أبيه، وأمه تنظر إليه، فلم يخرج إلى الساعة منه، وكان ابن تسع سنين، وقيل دون ذلك، قال ابن خلكان: وقيل: بل دخل وله سبع عشرة سنة، في سنة خمس وسبعين ومائتين، وقيل: بل في سنة خمس وستين، وأنه حي.

نعوذ بالله من زوال العقل، فلو فرضنا وقوع ذلك في سالف الدهر، فمن الذي رآه، ومن الذي نعتمد عليه في إخباره بحياته، ومن الذي نص لنا على عصمته، وأنه يعلم كل شيء؟ هذا هوس بين، إن سلطناه على العقول ضلت وتحيرت، بل جوزت كل باطل، أعاذنا الله وإياكم من الاحتجاج بالمحال والكذب، أو رد الحق الصحيح كما هو ديدن الإمامية.

وممن قال إن الحسن العسكري لم يعقب: محمد بن جرير الطبري، ويحيى بن صاعد، وناهيك بهما معرفة وثقة‘‘.

محمد بن حسن کے بارے میں ابو محمد بن حزمl نے نقل کیا ہے کہ حسن اولاد چھوڑےبغیر وفات پاگئےتھے،جبکہ  جمہور رافضہ  کے نزدیک حسن کا ایک بیٹا تھا، جسےاس نے چھپارکھا تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفا ت کے بعد ان کا  بیٹا اس باندی سے پیدا ہوا  جس باندی کا نام نرجس یا سوسن تھا، ان کے ہاں زیادہ ظاہر یہ  ہے کہ اس باندی کا نام صقیل تھا، اس نے اپنے آقا کی وفات کے بعد حاملہ ہونے کا دعوی کیا،اسی وجہ سے حسن کی میراث کو سات سال تک روکا گیا،اس باندی کے ساتھ حسن کے بھائی جعفر بن علی نے جھگڑا کیا، ایک جماعت باندی کی طرفدار ہو گئی اور دوسرے لوگوں نے حسن کے بھائی کی طرفدار ی کی، پھر اس  حمل کی تحقیق کی گئی تو باندی کا دعوی باطل ثابت ہوا، اور حسن کی میراث کو ان کے بھائی جعفر اور اس کے بھائی نے لے لیا، حسن کی وفات۲۶۰ھ میں ہوئی۔۔۔  اس کے بعد رافضیوں کافتنہ صقیل اوراس کے دعوی کےبارےمیں بڑھ گیا،  یہاں تک کہ معتضد نے اس باندی کو اس کے آقا کی وفات کے۲۰سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک اپنے محل میں بند رکھا ،  اور اسی حال میں مقتدر کےزمانۂ حکومت میں باندی کی وفات ہوگئی۔

میں (حافظ ذہبیl ) کہتاہوں کہ رافضیوں کاخیال ہےکہ محمد(یعنی مُنْتَظَر) اپنے والد کےگھرکے تہہ خانہ میں داخل  ہوا، ماں اس کے انتظار میں تھی،مگر وہ ابھی تک وہاں سے نہیں نکلا ہے ، جب وہ داخل ہوا تھا تواس کی عمر ۹سال تھی، عمر اس سے کم بھی بتائی گئی ہے،ابن خَلِّکَانl کہتے ہیں : کہا گیا ہے کہ جب وہ داخل ہوا تھا تو اس وقت اس کی عمر ۱۷سال تھی، اور سن۲۷۵ھ تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سن 265ھ تھا، اوراس وقت تک وہ زندہ ہے ۔

(حافظ ذہبی l فرماتے ہیں کہ)ہم اللہ کی پناہ  میں آناچاہتےہیں  عقل کے زائل ہونےسے ،اگرہم مان لیں کہ یہ واقعہ پہلے زمانہ میں واقع ہواہے تو اس کا دیکھنے والا کون تھا، اور ایساکون سا شخص ہے کہ ہم  اس کی اس خبر  پر اعتماد کریں کہ وہ ابھی تک زندہ ہے، اور ایساکون سا شخص ہے کہ جو ہمارے سامنےاس کے معصوم ہونے کی صراحت  کرے، اور اس بات کی صراحت کرے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے؟

یہ ایک واضح خواہش پرستی ہے، اگر ہم اسے عقلوں پرمسلط کر دیں  تووہ حیران اور گمراہ ہوجائیں، بلکہ پھر تو عقل ہر باطل چیز کو صحیح قرار دینے لگے گی، اللہ تعالی ہم سب کو محال اور جھوٹی باتوں سے استدلال کرنے  اورواضح حق کو ٹھکرانے سے بچا ئے، جوکہ فرقہ امامیہ کی عادت ہے۔

 جنہوں نے یہ کہاہےکہ حسن عسکریl کی کوئی اولاد نہیں تھی وہ محمد بن جریرطبریl اور یحیی بن صاعدl ہیں، ان دونوں کی آگا ہی اور معتمد ہونا آپ کےلئے کافی ہے۔

حوالہ جات

[81]  مجموع الفتاوى:17/99،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة، الطبعة1415هـ .

[82] جامع الرسائل:1/263،ت:محمد رشاد سالم،دار العطاء ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ .

[83]  سير أعلام النبلاء:13/121،رقم:60،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۲هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ