التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو ہمدان قاضی ہیت قاسم بن بہرام بن عطاء

ایک روایت میں تذکرہ

ابو ہمدان قاضی ہیت قاسم بن بہرام بن عطاء کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو ہمدان قاضی ہیت قاسم بن بہرام بن عطاء کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین lفرماتے ہیں: ’’أبو همدان كذاب، منزله هيت‘‘[2]. ابو ہمدان کذاب ہے، اس کی جائے قیام ہیت ہے۔

حافظ ابن کثیرl نے ’’البداية والنهاية‘‘[3] میں اور علامہ صلاح الدین خلیل بن ابیک صفدی l نے ’’الوافي بالوفيات‘‘[4] میں حافظ یحیی بن معین l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[5] میں اسے ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[6]  میں فرماتے ہیں: ’’القاسم بن بهرام أبو همدان، شيخ، كان على القضاء بهيت، يروي عن أبي الزبير العجائب، لا يجوز الاحتجاج به بحال، روى عن أبي الزبير، عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى معاوية سهما، وقال: هاك حتى تلقاني به في الجنة، أخبرناه الحسن بن إسحاق الأصبهاني بالكرج، قال: حدثنا الحسين بن عبد الله بن حمدان الرقي، قال: حدثنا القاسم بن بهرام، عن أبي الزبير، عن جابر‘‘.

قاسم بن بہرام ابو ہمدان شیخ ہے، اور ہیت نامی جگہ کا قاضی ہے، یہ ابو زبیر سے عجائب نقل کرتا ہے، اس سے کسی طرح بھی احتجاج درست نہیں ہے، اس نے ابو زبیر عن جابر r کے طریق سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاویہ r کو ایک تیر عنایت کیا، اور فرمایا: اسے تھام کے رکھنا، یہاں تک کہ جنت میں تمہاری مجھ سے ملاقات ہو، (حافظ ابن حبانl فرماتے ہیں) ہمیں یہ روایت حسین بن اسحاق اصبہانی نے کرخ مقام پر حسین بن عبد اللہ بن حمدان رقی، حدثنا قاسم بن بہرام، عن ابی الزبیر، عن جابر r کے طریق سے بیان کی ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[7] میں حافظ ابن حبانl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن  عدیl نے ’’الکامل‘‘[8] میں اسے ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[9] اور ’’المغني‘‘[10] میں حافظ ابن  عدیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

امام دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[11] میں اسے ’’متروك‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن جوزیl نے ’’الموضوعات‘‘[12] میں ’’حدیث سہم‘‘  کے تحت قاسم بن بہرام کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’له عجائب، عن ابن المنكدر، وهاه ابن حبان وغيره، وكان على قضاء هيت، قال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به بحال، روى عن أبي الزبير، عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم أعطى معاوية سهما، وقال: هاك حتى تلقاني به في الجنة‘‘. اس کے عجائب ہیں، ابن منکدر سے روایت کرتا ہے، اور ابن حبان l وغیرہ نے اسے واہی قرار دیا ہے، اور ابن حبان l فرماتے ہیں: اس سے کسی طرح بھی احتجاج درست نہیں ہے، اس نے ابو زبیر عن جابر rکے طریق سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاویہ r کو ایک تیر عنایت کیا، اور فرمایا: یہ لو، یہاں تک کہ اس کے ساتھ مجھ سے جنت میں مل لینا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[14] میں حافظ ذہبی l کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهو صاحب الحديث الطويل في نزول قوله تعالى: ’’يوفون بالنذر‘‘. أورده الحكيم الترمذي في أصوله وقال: إنه مفتعل، وهو في تفسير الثعلبي، وقرأت بخط الحسيني: أن الذهبي كناه أبا همدان، ثم قال الحسيني: الصواب أنه القاسم بن مهران أبو حمدان، وسيأتي في الكنى النقل عن ابن عدي أنه كذاب، وكناه ابن حبان‘‘.

یہ ایک طویل حدیث کا گھڑنے والا ہے جو اللہ تعالی کے فرمان ’’يوفون بالنذر‘‘ سے متعلق ہے، اسے حکیم ترمذی l اپنی کتاب ’’اصول‘‘ میں لائے ہیں، اور فرمایا ہے: یہ گھڑی ہوئی روایت ہے، اور یہ ’’تفسیر ثعلبی‘‘ میں بھی ہے، اور میں (یعنی حافظ ابن حجر عسقلانی l) نے حسینی کی تحریر میں پڑھا ہے کہ ذہبی l نے اس کی کنیت ابو ہمدان بیان کی ہے، پھر حسینی فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ یہ (قاسم بن بہرام) قاسم بن مہران ابو حمدان ہے، اور عنقریب ’’کنی‘‘ میں آئے گا کہ ابن عدی l سے منقول ہے کہ یہ کذاب ہے، اور ابن حبان l نے اس کی کنیت بیان کی ہے۔

علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[15] میں اللہ تعالی کے فرمان ’’يوفون بالنذر‘‘سے متعلق طویل حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجر l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے’’تقریب التهذيب‘‘[16] میں قاسم بن بہرام کو ’’مقبول‘‘ اور ’’لسان الميزان‘‘[17] میں حسین بن عبد اللہ رقی کے ترجمہ کے تحت ’’ضعيف‘‘ کہاہے۔

حافظ ابن حجر l کے کلام میں موجود تناقض کو علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[18]میں ایک دوسری حدیث کے تحت تفصیل سے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو:

’’وأما القاسم بن مهران فوقع فيه في كلام الحافظ ابن حجر تناقض، ففي اللسان في ترجمة القاسم بن بهرام أبي حمدان عن الحافظ الحسيني أن الصواب أنه: القاسم بن مهران أبو حمدان، وأن ابن عدي قال: إنه كذاب، ولم يتعقبه، بل اتهمه الحافظ ابن حجر الشافعي نفسه بالحديث الطويل في نزول قوله تعالى ’’يوفون بالنذر‘‘ كما مر في مناقب الخلفاء الأربعة، وفي التقريب: القاسم بن مهران أبو حمدان قاضي هيت مقبول، انتهى، وذكره للتمييز، وذكر في مقدمة التقريب أن من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وأنه توبع على جميع حديثه، يعبر عنه بمقبول حيث يتابع وإلا فلين الحديث، وقضية هذا أن ابن مهران قاضي هيت لم يثبت أنه كذاب، وأنه لا يترك حديثه، وأنه توبع على جميع حديثه، والله أعلم‘‘.

اور قاسم بن مہران سے متعلق حافظ ابن حجر lکے کلام میں تناقض واقع ہوا ہے، چنانچہ ’’لسان‘‘ میں قاسم بن مہران ابو حمدان کے ترجمہ میں ہے کہ حافظ حسینیl سے منقول ہے: درست بات یہ ہے کہ یہ (قاسم بن بہرام) قاسم بن مہران ابو حمدان ہے، اور ابن عدیl نے فرمایا ہے کہ یہ کذاب ہے، اور ابن عدیl کے قول پر ابن حجرl نے تعاقب نہیں کیا، بلکہ خود حافظ ابن حجر شافعیl نے اللہ تعالی کے فرمان ’’ویوفون بالنذر‘‘ کے نزول سے متعلق حدیث طویل میں قاسم بن مہران کو متہم قرار دیا ہے، جیسا کہ خلفائے اربعہ کے مناقب میں گزر چکا ہے، جبکہ ’’تقریب‘‘ میں ہے: قاسم بن مہران ابو حمدان قاضی ہیت مقبول ہے انتہی، اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے اسے تمییز کےلئے ذکر کیا ہے، اور ’’تقریب‘‘ کے مقدمہ میں ہے: وہ شخص جس سے حدیث قلیل تعداد میں مروی ہو، اور اس میں ایسی کوئی بات ثابت نہ ہوجس کی بناء پر اس کی حدیث ترک کردی جائے، اور اس کی تمام احادیث پر متابعت بھی ہو، تو اس کو مقبول کہا جائے گا جہاں پر اس کی متابعت کی گئی ہوگی، بصورت دیگر وہ لین الحدیث ہوگا،اس ساری تفصیل کا تقاضہ یہ ہے کہ ابن مہران قاضی ہیت کا کذاب ہونا ثابت نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کی حدیث متروک ہوگی، اور مزید یہ کہ ان کی تمام احادیث پر متابعت کی گئی ہے، واللہ اعلم۔

علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[19] میں قاسم بن بہرام کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن النجار: قال ابن معين: كذاب، وقال في الميزان: له عجائب، وهاه ابن حبان وغيره، قال ابن عدي: كذاب، قال الحافظ الحسيني: وصوابه ابن مهران أبو حمدان‘‘. ابن نجار l فرماتے ہیں: ابن معین l نے اسے کذاب کہا ہے، اور ذہبی l نے ’’میزان‘‘ میں فرمایا ہے: اس کے عجائب ہیں، اور ابن حبان l وغیرہ نے اسے واہی قرار دیا ہے، ابن عدی l نے اسے کذاب کہا ہے، حافظ حسینی l کہتے ہیں: اور درست بات یہ ہے کہ ابن مہران، ابو حمدان ہے۔

حوالہ جات

[2] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/۳۴۴،رقم:۵۲۲۶،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[3] البدايةوالنهاية:۸/۳۵۵،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر للطباعة والنشر،الطبعة الأولى 1417هـ .

[4] الوافي بالوفيات:۲۴/۸۶ ،رقم:۱۶،ت:أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت، الطبعة الأولى1420هـ .

[5] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/3۷8،رقم:۱۰۱۹،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .

[6]  المجروحين:2/214،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[7] تذكرة الحفاظ:ص:۱۰۵،رقم:۲۳۶،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[8]  الكامل في ضعفاء الرجال:9/196،رقم:2196،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[9] ديوان الضعفاء:ص:۴۷۱،رقم:۵۰۶۱،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[10] المغني في الضعفاء:۲/۶۱۷،رقم:۷۷۹۶،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[11] الضعفاء والمتركون:ص:411،رقم:619،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[12] كتاب الموضوعات:2/22،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1386هـ .

[13] ميزان الاعتدال:۳/۳۶۹،رقم:۶۷۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[14] لسان المیزان:۶/۳۶۹،رقم:۶۱۰۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى 1423هـ .

[15] تنزيه الشريعة:1/۳۶۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

[16]  تقريب التهذيب:452،رقم:5500،ت:محمد عوامة،دار الرشد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[17]  لسان المیزان:3/175،رقم:2548،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1423هـ .

[18]  تنزيه الشريعة:2/5،رقم:7،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

[19] تنزيه الشريعة:1/9۷،رقم:۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ