اس روایت کی تحقیق سے3 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو حفص عمر بن حفص عبدی بصری (المتوفی ۱۹۸ھ او بعدہ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[18] میں فرتے ہیں: ’’ كان ضعيفا عندهم في الحديث، كتبوا عنه ثم تركوه ‘‘. یہ محدثین کے نزدیک حدیث میں ضعیف تھا، محدثین نے اس سے لکھا تھا، پھر اسے ترک کردیا تھا۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’أبو الحفص العبدي لم يكن ثقة‘‘[19]. ابو حفص عبدی ثقہ نہیں ہے۔
نیز حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر ابو حفص عبدی کو ’’لیس بشیء‘‘ کہا ہے[20]۔
امام علی بن مدینیl نے اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[21]۔
امام احمد بن حنبل lفرماتے ہیں: ’’تركنا حديثه وخرقناه‘‘[22]. ہم نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے، اور اسے پھاڑ دیا ہے۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[23] میں اسے ’’وليس بقوي‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’أبو حفص العبدي قريب منه، وهو صاحبه، فيرفض حديثهما‘‘. ابو حفص عبدی اس (یعنی ابو ہارون عبدی) کے قریب ہے، اور وہ اس کا ساتھی ہے، اور ان دونوں کی حدیث کو ترک کیا گیا ہے۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[25] میں عمر بن حفص کو ’’ضعيف الحديث‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ابو حاتمl عمر بن حفص کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، ليس بقوي، هو على يدي عدل‘‘[26]. ضعیف الحدیث، لیس بقوی ہے، وہ ’’علی یدی عدل‘‘[27] ہے۔
حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، لا أعلم حدث عنه كبير أحد إلا من لا يدري الحديث‘‘[28]. واہی الحدیث ہے، میں کسی ایسے بڑے شخص کو نہیں جانتا جس نے اس سے روایت کی ہو، مگر ایسا شخص جو حدیث نہیں جانتا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[29]میں عمر بن حفص ابو حفص کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[30]۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l ، عمر بن حفص کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن ثابت، متروك الحديث، يقال: كان قدم بغداد، فحدثهم عن ثابت، ومالك بن دينار، ويزيد الرقاشي، وكان يحيى بن معين يوما عند أبي سلمة التَبُوْذَكِي، فجعل يحدث عنه، فأقبل عليه يحيى، فقال: لعله الذي قدم علينا بغداد؟ فتبسم أبو سلمة، فأخذ يحيى القلم، فضرب على حديثه، وقال: صرت تدلس علينا يا أبا سلمة؟ فقال أبو سلمة: إنما كنا نعرفه عندنا بأحاديث، فلما قدم عليكم بغداد، رأى الزحام، فحدث بما ليس من حديثه‘‘[31]. یہ ثابت سے روایت کرتا ہے، متروک الحدیث ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ بغداد آیا، سو یہ بغداد والوں کو ثابت، مالک بن دینار اور یزید رقاشی کے انتساب سے حدیث بیان کرنے لگا، اور ایک دن یحیی بن معینl ، ابو سلمہ تَبُوْذَکِی کے پاس تھے، ابو سلمہ تَبُوْذَکِی ، عمر بن حفص کے انتساب سے روایت کر رہے تھے، تو یحیی l ان کے پاس آئے، کہا: شاید یہ وہی ہے جو ہمارے پاس بغداد آیا ہے؟ ابو سلمہ مسکرائے، پھر یحیی l نے قلم لے کر اس کی حدیث پر پھیر دیا، اور کہا: اے ابو سلمہ! آپ ہم پر تدلیس کرنے لگے ہیں؟ ابو سلمہ نے کہا: ہم اپنے ہاں اس کو احادیث سے پہچانتے تھے، پھر جب یہ تمہارے پاس بغداد آیا، مجمع دیکھا تو اس نے ایسی حدیث بیان کرنا شروع کردی جو اس کی حدیث میں سے نہیں ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[32]میں عمر بن حفص کے بارے میں فر ماتے ہیں: ’’ كان ممن يشتري الكتب ويحدث بها من غير سماع، ويجيب فيما يسأل، وإن لم يكن مما يحدث به‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیث کی کتب خرید کر بغیر سماع کے ان میں سے احادیث بیان کرتے تھے، اور جس امر کے بارے میں اس سے سوال کیا جاتا تھا وہ اس کا جواب دیتا تھا، اگر چہ وہ اس نے بیان نہ کی ہو۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[33] میں حفص بن عمر عبدی کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’وأبو حفص العبدي له أحاديث غير ما ذكرت، والضعف بين على رواياته‘‘. اور ابو حفص عبدی کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی روایات میں ضعف واضح ہے۔
حافظ دار قطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[34] میں ابو حفص عبدی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
امام ابو احمد حاکمl فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘[35]. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[36] میں عمر بن حفص کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن ثابت البناني وغيره أحاديث مناكير، رواها عنه الثقات‘‘. اس نے ثابت بنانی وغیرہ کے انتساب سے منکر احادیث روایت کی ہیں، جن کو ثقات نے اس سے روایت کیا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[37]میں فرماتے ہیں: ’’روى عن ثابت المناكير‘‘. اس نے ثابت سے مناکیر روایت کی ہیں۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[38] میں ایک روایت کے تحت عمر بن حفص کو ’’ليس بشيء في الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ابو حفص عبدی کو ’’المغني‘‘[39] اور ’’المقتنى‘‘[40] میں ’’واه‘‘ اور’’میزان الاعتدال‘‘[41] میں ’’واه بمرة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[42] میں ایک روایت کے تحت عمر بن حفص عبدی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[18] الطبقات الكبرى:۷/247،رقم:3530،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[19] سؤالات ابن الجنيد:ص:340،رقم:283،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1408هـ .
[20] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/205،رقم:1333،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[21] تاريخ بغداد:۱۳/۲۲،رقم:۵۸۴۵،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[22] العلل ومعرفة الرجال:۳/300،رقم:5333،ت:وصي الله بن محمدعباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .
[23] التاریخ الکبیر:6/۱۳،رقم:۸۰۶۴ ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[24] أحوال الرجال:ص:160،رقم:146،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[25] الكنى والأسماء:1/209،رقم:۶۵۹،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .
[26] الجرح والتعدیل:۶/۱۰۳،رقم:۵۴۲،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[27] حافظ ابن حجر عسقلانی l’’تہذیب التہذیب‘‘میں فرماتے ہیں: ’’وقوله: على يدي عدل، معناه قرب من الهلاك، وهذا مثل للعرب، كان لبعض الملوك شرطي اسمه عدل، فإذا دفع إليه من جنى جناية جزموا بهلاكه غالبا، ذكره ابن قتيبة وغيره، وظن بعضهم أنها من ألفاظ التوثيق، فلم يصب‘‘. (تهذيب التهذيب:9/142،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى132۷هـ ).
[28] سؤالات البرذعی:ص:158،رقم:219،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .
[29] الضعفاء والمتروكين:ص:221،رقم:461،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[30] الكامل في ضعفاء الرجال:۶/۹۹،رقم:۱۲۲۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[31] تاريخ بغداد:۱۳/۲۳،رقم:۵۸۷۴،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[32] المجروحين:2/84،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[33] الکامل في ضعفاء الرجال:6/10۲،رقم:1220،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[34] الضعفاء والمتروکون:ص:412،رقم:۶23،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[35] الأسامي والكنى:۲/۲۵۸،رقم:۱۴۷۸،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[36] المدخل إلى الصحيح:ص:۱6۲،رقم:112،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[37] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۳،رقم:۱۵۰،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[38] تذكرة الحفاظ:ص:۱۳۱،رقم:۳۰۵،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[39] المغني في الضعفاء:۲/۵۷۹،رقم:۷۴۱۱،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[40] المقتنى في سرد الكنى:1/۱۹۲،رقم:۱۶۵۹،ت:محمد صالح عبد العزيز،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[41] ميزان الاعتدال:۴/5۱۶،رقم:۱۰۱۱۱ ،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[42] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۲۳۷،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .