التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی

المتوفی 387ھ5 روایات میں تذکرہ

ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی (المتوفی 387ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[30] فرماتے ہیں: ’’وكان يروي غرائب الحديث، وسؤالات الشيوخ، فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه، فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة، ويملي في مسجد الشرقية‘‘.

اور یہ غریب احادیث اور شیوخ کے سوالات روایت کرتا ہے، لوگوں نے دار قطنی l کے انتخاب کی بناء پر اس سے احادیث کو لکھا، پھر ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی احادیث کو پھاڑ دیا، اور اس کی روایات کو باطل قرار دیا، اور اس کے بعد یہ رافضیوں کےلئے احادیث گھڑکر شرقیہ مسجد میں لکھواتا تھا۔

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[31] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[32] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[33] میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقال الأزهري: كان يحفظ، وأساء الثناء عليه، وقال: كان دجالا كذابا، ما رأيت له أصلا قط، واتهمه الدارقطني بالتركيب، وقال العتيقي: كان كثير التخليط‘‘.

 اور ازہری l کہتے ہیں کہ یہ حافظ تھا، اور اس کی برائی بیان کی، اور پھر فرمایا: یہ دجال اور جھوٹا تھا، میں نے کبھی بھی اس کی اصل نہیں دیکھی، اور دارقطنی l نے ترکیب کی وجہ سے اس کومتہم قرار دیا، اور عتیقیl نے کہا: یہ ’’ کثیر التخلیط‘‘ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[34] میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں: ’’وكان حافظا عارفا بالفن، أخباريا مصنفا، لكن لحقه الإدبار‘‘. اور یہ حافظ اور فن کو جاننے والا تھا، اخباری اور مصنف تھا، لیکن اس کو پلٹنا لاحق ہوگیا۔

حافظ حمزہ بن محمد بن طاہر دقاق l کہتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وقد كتبت عنه، وكان له سمت ووقار‘‘[35]. وہ حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس سے احادیث کو لکھا ہے، اور یہ سنجیدہ اور وقار والا تھا۔

حافظ ابو ذر ہروی l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه في المعجم للمعرفة، ولم أخرج عنه في تصانيفي شيئا، وتركت الرواية عنه، لأني سمعت الدارقطني يقول: كنت أتوهمه من رهبان هذه الأمة، وسألته الدعاء لي، فنعوذ بالله من الحور بعد الكور، وقال أبو ذر: يعني سبب ذلك، أنه قعد للرافضة، وأملى عليهم أحاديث ذكر فيها مثالب الصحابة، وكانوا يتهمونه بالقلب والوضع....‘‘[36].

’’میں نے ’’معجم‘‘ میں معرفت کےلئے اس کی روایات کو لکھا ہے، اور میں نے اپنی تصانیف میں اس کی کوئی حدیث بھی تخریج نہیں کی، اور میں نے اس سے روایت لینا ترک کردیا تھا، اس لئے کہ میں نے دار قطنی l سے سنا وہ فرما رہے تھے: میں گمان کرتا تھا کہ یہ اس امت کے راہبوں میں سے ہے، اور میں نے اسے اپنے لئے دعا کا بھی کہا تھا، ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اور ابو ذر l فرماتے ہیں، یعنی اس کی وجہ یہ بنی کہ یہ رافضیوں کے واسطہ بیٹھ کر انھیں صحابہ pکے عیوب پر مشتمل احادیث لکھواتا تھا،اور محدثین اس کو قلب اور وضع کی وجہ سے متہم قرار دیتے ہیں۔۔۔ ‘‘۔

حوالہ جات

[30] تاريخ بغداد:3/499،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[31] تاريخ دمشق:54/16،رقم:6565،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[32] ميزان الاعتدال:3/608،رقم:7802،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .

[33] لسان الميزان:7/254،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[34] تاريخ الإسلام:8/624،رقم:275،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[35] تاريخ بغداد:3/500،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[36] لسان الميزان:7/255،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی (المتوفی 387ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[2] فرماتے ہیں: ’’وكان يروي غرائب الحديث، وسؤالات الشيوخ، فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه، فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة، ويملي في مسجد الشرقية‘‘.

اور یہ غریب احادیث اور شیوخ کے سوالات روایت کرتا ہے، لوگوں نے دار قطنی l کے انتخاب کی بناء پر اس سے احادیث کو لکھا، پھر ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی احادیث کو پھاڑ دیا، اور اس کی روایات کو باطل قرار دیا، اور اس کے بعد یہ رافضیوں کےلئے احادیث گھڑکر شرقیہ مسجد میں لکھواتا تھا۔

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[3] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[4] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[5] میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقال الأزهري: كان يحفظ، وأساء الثناء عليه، وقال: كان دجالا كذابا، ما رأيت له أصلا قط، واتهمه الدارقطني بالتركيب، وقال العتيقي: كان كثير التخليط‘‘.

 اور ازہری l کہتے ہیں کہ یہ حافظ تھا، اور اس کی برائی بیان کی، اور پھر فرمایا: یہ دجال اور جھوٹا تھا، میں نے کبھی بھی اس کی اصل نہیں دیکھی، اور دارقطنی l نے ترکیب کی وجہ سے اس کومتہم قرار دیا، اور عتیقیl نے کہا: یہ ’’ کثیر التخلیط‘‘ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[6] میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں: ’’وكان حافظا عارفا بالفن، أخباريا مصنفا، لكن لحقه الإدبار‘‘. اور یہ حافظ اور فن کو جاننے والا تھا، اخباری اور مصنف تھا، لیکن اس کو پلٹنا لاحق ہوگیا۔

حافظ حمزہ بن محمد بن طاہر دقاق l کہتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وقد كتبت عنه، وكان له سمت ووقار‘‘[7]. وہ حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس سے احادیث کو لکھا ہے، اور یہ سنجیدہ اور وقار والا تھا۔

حافظ ابو ذر ہروی l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه في المعجم للمعرفة، ولم أخرج عنه في تصانيفي شيئا، وتركت الرواية عنه، لأني سمعت الدارقطني يقول: كنت أتوهمه من رهبان هذه الأمة، وسألته الدعاء لي، فنعوذ بالله من الحور بعد الكور، وقال أبو ذر: يعني سبب ذلك، أنه قعد للرافضة، وأملى عليهم أحاديث ذكر فيها مثالب الصحابة، وكانوا يتهمونه بالقلب والوضع....‘‘[8].

’’میں نے ’’معجم‘‘ میں معرفت کےلئے اس کی روایات کو لکھا ہے، اور میں نے اپنی تصانیف میں اس کی کوئی حدیث بھی تخریج نہیں کی، اور میں نے اس سے روایت لینا ترک کردیا تھا، اس لئے کہ میں نے دار قطنی l کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں گمان کرتا تھا کہ یہ اس امت کے راہبوں میں سے ہے، اور میں نے اسے اپنے لئے دعا کا بھی کہا تھا، ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اور ابو ذر l فرماتے ہیں، یعنی اس کی وجہ یہ بنی کہ یہ رافضیوں کے واسطہ بیٹھ کر انھیں صحابہ p کے عیوب پر مشتمل احادیث لکھواتا تھا،اور محدثین اس کو قلب اور وضع کی وجہ سے متہم قرار دیتے ہیں۔۔۔ ‘‘۔

حوالہ جات

[2] تاريخ بغداد:3/499،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[3] تاريخ دمشق:54/16،رقم:6565،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[4] ميزان الاعتدال:3/608،رقم:7802،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .

[5] لسان الميزان:7/254،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[6] تاريخ الإسلام:8/624،رقم:275،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[7] تاريخ بغداد:3/500،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[8] لسان الميزان:7/255،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی (المتوفی 387ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[122] فرماتے ہیں: ’’وكان يروي غرائب الحديث، وسؤالات الشيوخ، فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه، فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة، ويملي في مسجد الشرقية‘‘.

اور یہ غریب احادیث اور شیوخ کے سوالات روایت کرتا ہے، لوگوں نے دار قطنی l کے انتخاب کی بناء پر اس سے احادیث کو لکھا، پھر ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی احادیث کو پھاڑ دیا، اور اس کی روایات کو باطل قرار دیا، اور اس کے بعد یہ رافضیوں کےلئے احادیث گھڑکر شرقیہ مسجد میں لکھواتا تھا۔

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[123] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[124] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[125] میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقال الأزهري: كان يحفظ، وأساء الثناء عليه، وقال: كان دجالا كذابا، ما رأيت له أصلا قط، واتهمه الدارقطني بالتركيب، وقال العتيقي: كان كثير التخليط‘‘.

 اور ازہری l کہتے ہیں کہ یہ حافظ تھا، اور اس کی برائی بیان کی، اور پھر فرمایا: یہ دجال، جھوٹا تھا، میں نے کبھی بھی اس کی اصل نہیں دیکھی، اور دارقطنی l نے ترکیب کی وجہ سے اس کومتہم قرار دیا، اور عتیقیl نے کہا: یہ ’’ کثیر التخلیط‘‘ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[126] میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں: ’’وكان حافظا عارفا بالفن، أخباريا مصنفا، لكن لحقه الإدبار‘‘. اور یہ حافظ اور فن کو جاننے والا تھا، اخباری اور مصنف تھا، لیکن اس کو پلٹنا لاحق ہوگیا۔

حافظ حمزہ بن محمد بن طاہر دقاق l کہتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وقد كتبت عنه، وكان له سمت ووقار‘‘[127]. وہ حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس سے احادیث کو لکھا ہے، اور یہ سنجیدہ اور وقار والا تھا۔

حافظ ابو ذر ہروی l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه في المعجم للمعرفة، ولم أخرج عنه في تصانيفي شيئا، وتركت الرواية عنه، لأني سمعت الدارقطني يقول: كنت أتوهمه من رهبان هذه الأمة، وسألته الدعاء لي، فنعوذ بالله من الحور بعد الكور، وقال أبو ذر: يعني سبب ذلك، أنه قعد للرافضة، وأملى عليهم أحاديث ذكر فيها مثالب الصحابة، وكانوا يتهمونه بالقلب والوضع....‘‘[128].

’’میں نے ’’معجم‘‘ میں معرفت کےلئے اس کی روایات کو لکھا ہے، اور میں نے اپنی تصانیف میں اس کی کوئی حدیث بھی تخریج نہیں کی، اور میں نے اس سے روایت لینا ترک کردیا تھا، اس لئے کہ میں نے دار قطنی l کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں گمان کرتا تھا کہ یہ اس امت کے راہبوں میں سے ہے، اور میں نے اسے اپنے لئے دعا کا بھی کہا تھا، ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اور ابو ذر l فرماتے ہیں، یعنی اس کی وجہ یہ بنی کہ یہ رافضیوں کے واسطہ بیٹھ کر انھیں صحابہ p کے عیوب پر مشتمل احادیث لکھواتا تھا،اور محدثین اس کو قلب اور وضع کی وجہ سے متہم قرار دیتے تھے۔۔۔ ‘‘۔

حوالہ جات

[122] تاريخ بغداد:3/499،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[123] تاريخ دمشق:54/16،رقم:6565،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[124] ميزان الاعتدال:3/608،رقم:7802،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .

[125] لسان الميزان:7/254،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[126] تاريخ الإسلام:8/624،رقم:275،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[127] تاريخ بغداد:3/500،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[128] لسان الميزان:7/255،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

حافظ ابو محمد حسن بن محمد خلال l کی سند میں موجود راوی ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی (المتوفی 387ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[170] فرماتے ہیں: ’’وكان يروي غرائب الحديث، وسؤالات الشيوخ، فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه، فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة، ويملي في مسجد الشرقية‘‘.

اور یہ غریب احادیث اور شیوخ کے سوالات روایت کرتا تھا، لوگوں نے دار قطنی l کے انتخاب کی بناء پر اس سے احادیث کو لکھا، پھر ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی احادیث کو پھاڑ دیا، اور اس کی روایات کو باطل قرار دیا، اور اس کے بعد یہ رافضیوں کےلئے احادیث گھڑکر شرقیہ مسجد میں لکھواتا تھا۔

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[171] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[172] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[173] میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقال الأزهري: كان يحفظ، وأساء الثناء عليه، وقال: كان دجالا كذابا، ما رأيت له أصلا قط، واتهمه الدارقطني بالتركيب، وقال العتيقي: كان كثير التخليط‘‘.

 اور ازہری l کہتے ہیں کہ یہ حافظ تھا، اور اس کی برائی بیان کی، اور پھر فرمایا: یہ دجال، جھوٹا تھا، میں نے کبھی بھی اس کی اصل نہیں دیکھی، اور دارقطنی l نے ترکیب کی وجہ سے اس کومتہم قرار دیا، اور عتیقیl نے کہا: یہ ’’ کثیر التخلیط‘‘ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[174] میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں: ’’وكان حافظا عارفا بالفن، أخباريا مصنفا، لكن لحقه الإدبار‘‘. اور یہ حافظ، فن کو جاننے والا تھا، اَخباری اور مصنف تھا، لیکن اس کو پلٹنا لاحق ہوگیا۔

حافظ حمزہ بن محمد بن طاہر دقاق l کہتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وقد كتبت عنه، وكان له سمت ووقار‘‘[175]. وہ حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس سے احادیث کو لکھا ہے، اور یہ سنجیدہ اور وقار والا تھا۔

حافظ ابو ذر ہروی l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه في المعجم للمعرفة، ولم أخرج عنه في تصانيفي شيئا، وتركت الرواية عنه، لأني سمعت الدارقطني يقول: كنت أتوهمه من رهبان هذه الأمة، وسألته الدعاء لي، فنعوذ بالله من الحور بعد الكور، وقال أبو ذر: يعني: سبب ذلك أنه قعد للرافضة، وأملى عليهم أحاديث ذكر فيها مثالب الصحابة، وكانوا يتهمونه بالقلب والوضع....‘‘[176].

’’میں نے ’’معجم‘‘ میں معرفت کےلئے اس کی روایات کو لکھا ہے، اور میں نے اپنی تصانیف میں اس کی کوئی حدیث بھی تخریج نہیں کی، اور میں نے اس سے روایت لینا ترک کردیا تھا، اس لئے کہ میں نے دار قطنی l کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں گمان کرتا تھا کہ یہ اس امت کے راہبوں میں سے ہے، اور میں نے اسے اپنے لئے دعا کا بھی کہا تھا، ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اور ابو ذر l فرماتے ہیں، یعنی اس کی وجہ یہ بنی کہ یہ رافضیوں کے واسطہ بیٹھ کر انھیں صحابہ p کے عیوب پر مشتمل احادیث لکھواتا تھا،اور محدثین اس کو قلب اور وضع کی وجہ سے متہم قرار دیتے تھے۔۔۔ ‘‘۔

حوالہ جات

[170] تاريخ بغداد:3/499،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[171] تاريخ دمشق:54/16،رقم:6565،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[172] ميزان الاعتدال:3/608،رقم:7802،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .

[173] لسان الميزان:7/254،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[174] تاريخ الإسلام:8/624،رقم:275،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[175] تاريخ بغداد:3/500،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[176] لسان الميزان:7/255،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو المفضل محمد بن عبد اللہ بن محمد شیبانی (المتوفی 387ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ خطیب بغدادی l فرماتے ہیں: ’’وكان يروي غرائب الحديث، وسؤالات الشيوخ، فكتب الناس عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بان كذبه، فمزقوا حديثه، وأبطلوا روايته، وكان بعد يضع الأحاديث للرافضة، ويملي في مسجد الشرقية‘‘[41].

 اور یہ غریب احادیث اور شیوخ کے سوالات روایت کرتا ہے، لوگوں نے دار قطنی l کے انتخاب کی بناء پر اس سے احادیث کو لکھا، پھر ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی احادیث کو پھاڑ دیا، اور اس کی روایات کو باطل قرار دیا، اور اس کے بعد یہ رافضیوں کےلئے احادیث گھڑکر شرقیہ مسجد میں لکھواتا تھا۔

حافظ ابن عساکر l نے ’’تاريخ دمشق‘‘[42] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[43] میں حافظ خطیب بغدادی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[44] میں حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’وقال الأزهري: كان يحفظ، وأساء الثناء عليه، وقال: كان دجالا كذابا، ما رأيت له أصلا قط، واتهمه الدارقطني بالتركيب، وقال العتيقي: كان كثير التخليط‘‘.

 اور ازہری l کہتے ہیں کہ یہ حافظ تھا، اور اس کی برائی بیان کی، اور پھر فرمایا: یہ دجال اور جھوٹا تھا، میں نے کبھی بھی اس کی اصل نہیں دیکھی، اور دارقطنی l نے ترکیب کی وجہ سے اس کومتہم قرار دیا، اور عتیقی l نے کہا: کہ یہ ’’ کثیر التخلیط‘‘ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[45] میں مزید یہ بھی فرماتے ہیں: ’’وكان حافظا عارفا بالفن، أخباريا مصنفا، لكن لحقه الإدبار‘‘. اور یہ حافظ اور فن کو جاننے والا تھا، اخباری اور مصنف تھا، لیکن اس کو پلٹنا لاحق ہوگیا۔

حافظ حمزہ بن محمد بن طاہر دقاق l کہتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وقد كتبت عنه، وكان له سمت ووقار‘‘[46]. وہ حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس سے احادیث کو لکھا ہے، اور یہ سنجیدہ اور وقار والا تھا۔

حافظ ابو ذر ہروی l فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه في المعجم للمعرفة، ولم أخرج عنه في تصانيفي شيئا، وتركت الرواية عنه، لأني سمعت الدارقطني يقول: كنت أتوهمه من رهبان هذه الأمة، وسألته الدعاء لي، فنعوذ بالله من الحور بعد الكور، وقال أبو ذر: يعني سبب ذلك، أنه قعد للرافضة، وأملى عليهم أحاديث ذكر فيها مثالب الصحابة، وكانوا يتهمونه بالقلب والوضع....‘‘[47].

’’میں نے ’’معجم‘‘ میں معرفت کےلئے اس کی روایات کو لکھا ہے، اور میں نے اپنی تصانیف میں اس کی کوئی حدیث بھی تخریج نہیں کی، اور میں نے اس سے روایت لینا ترک کردیا تھا، اس لئے کہ میں نے دار قطنی l سے سنا وہ فرما رہے تھے: میں گمان کرتا ہوں کہ یہ اس امت کے راہبوں میں سے ہے، اور میں نے اسے اپنے لئے دعا کا بھی کہا تھا، ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اور ابو ذر l فرماتے ہیں، یعنی اس کی وجہ یہ بنی کہ یہ رافضیوں کے واسطہ بیٹھ کر انھیں صحابہ کے عیوب پر مشتمل احادیث لکھواتا تھا،اور محدثین l اس کو قلب اور وضع کی وجہ سے متہم قرار دیتے ہیں۔۔۔ ‘‘۔

حوالہ جات

[41] تاريخ بغداد:3/499،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[42] تاريخ دمشق:54/16،رقم:6565،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[43] ميزان الاعتدال:3/608،رقم:7802،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .

[44] لسان الميزان:7/254،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[45] تاريخ الإسلام:8/624،رقم:275،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .

[46] تاريخ بغداد:3/500،رقم:1030،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[47] لسان الميزان:7/255،رقم:7018،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ