اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)حافظ ابن جوزی lکی سند میں موجود راوی ابو المظفر ہنَّاد بن ابراہیم بن محمد بن نصر بن اسماعیل بن عِصْمہ نَسَفِی (المتوفی ۴۶۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو الفضل ابن خیرون l نے ہنَّاد بن ابراہیم نَسَفِی کے بارے میں ’’فيه بعض الشيء‘‘ کہا ہے[182]۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[183] میں ہنَّاد نَسَفِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لما أردت الخروج إلى نيسابور دفع إلي هنَّاد كتابه، وفيه أحاديث عن شيخ ذكر أنه حي بالنهروان، يعرف بابن كردي، عن جعفر الخُلْدي، وأحمد بن سلمان النجاد، فعلقت بعضها، فلما صرت بالنهروان اجتمعت مع ذلك الشيخ وأردت قراءة تلك الأحاديث عليه، فأنكر أن يكون يعرف الخُلْدي والنجاد، وقال: إنما حدثني عبد الملك بن بكران المقرئ بهذه الأحاديث عمن سميت من المشايخ‘‘.
جب میں نے نیشاپور جانے کا ارادہ کیا تو ہنَّاد نے مجھے جعفر خُلدی اور احمد بن سلمان نجاد کے طریق سے اپنی کتاب دی، اس میں شیخ کے انتساب سے احادیث تھیں، اس ہنَّاد نے ذکر کیا کہ وہ شیخ نہروان میں باحیات ہیں، ابن کردی سے معروف ہیں، میں نے ان احادیث میں سے بعض تعلیقاً روایت کیں، سو جب میں نہروان پہنچا تو میری اس شیخ سے ملاقات ہوگئی، اور میں نے وہ احادیث اس پر قراءت کرنے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے خُلدی اور نجاد کو پہچاننے سے انکار کیا، اور کہا: یہ احادیث مجھے صرف عبد الملک بن بکران مقری نے بیان کی ہیں، ان مشایخ سے جن کا آپ نے نام لیا ہے۔
حافظ سمعانی l فرماتے ہیں: ’’ كنت أقول متعجبا: لعله ما روى في مجموعاته حديثا صحيحا، إلا ما شاء الله‘‘[184]. میں تعجب کے ساتھ کہتا ہوں کہ شاید اس نے اپنے مجموعہ میں کوئی صحیح حدیث روایت نہیں کی الا ماشاء اللہ۔
حافظ ابن جوزیl ’’المنتظم‘‘[185] میں ہنَّاد بن ابراہیم نسفی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سمع منه شيوخنا، وحدثونا عنه، وكانوا يتهمونه، لأن الغالب على حديثه المناكير‘‘. اس سے ہمارے شیوخ نے سماعت کی ہے، اور ہمیں اس کے انتساب سے بیان کیا ہے، اور وہ شیوخ اسے متہم قرار دیتے تھے، اس لئے کہ اس کی حدیث میں مناکیر کا غلبہ ہے۔
نیز حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[186] میں ایک روایت کے تحت ہنَّاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وأنا أتهم به هنَّادا، فإنه لم يكن بثقة‘‘. اور میں اس میں ہنَّاد کو متہم سمجھتا ہوں، اس لئے کہ وہ ثقہ نہیں ہے۔
حافظ ذہبیl ’’تاريخ الإسلام‘‘[187] میں ہنَّاد بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’الغالب على روايته الغرائب والمناكير‘‘. اس کی روایت پر غرائب اور مناکیر کا غلبہ ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[188] میں ہنَّاد بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’راوية للموضوعات، ضعف‘‘. من گھڑت احادیث راویت کرتا ہے، اس کی تضعیف کی گئی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[189] میں ہنَّاد بن ابراہیم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى الكثير بعد الخمسين وأربعمائة، إلا أنه راوية للموضوعات والبلايا، وقد تكلم فيه‘‘. اس نے چار سو پچاس کے بعد کثرت سے روایت کی ہے، مگر یہ کہ یہ من گھڑت احادیث اور بلایا روایت کرتا ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[190] میں حافظ ذہبی l اور حافظ ابن جوزی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[191] میں ہنَّاد بن ابراہیم کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’راوية للموضوعات والبلايا‘‘. یہ من گھڑت احادیث اور بلایا روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[182] انظر تاريخ الإسلام:۱۰/۲۲۹،رقم:۱۵۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .
[183] تاريخ مدينة السلام:۱۶/۱۴۹،رقم:۷۳۹۲،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[184] انظر تاريخ الإسلام:۱۰/۲۲۹،رقم:۱۵۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .
[185] المنتظم في تاريخ الملوك والأمم:16/153،رقم:3432،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[186] الموضوعات:2/۲۸۶،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفيةـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[187] تاريخ الإسلام:۱۰/۲۲۹،رقم:۱۵۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴24هـ .
[188] المغني في الضعفاء:2/481،رقم:6770،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[189] ميزان الاعتدال:۴/۳۱۰،رقم:۹۲۵۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[190] الكشف الحثيث:ص:۲۷۳،رقم:۸۲۰ ،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[191] تنزيه الشريعة:1/۱۲۳،رقم:۱۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .