التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن علی بن بُشری بن عبد اللہ دمشقی عطار

المتوفی ۴۱۴ھایک روایت میں تذکرہ

ابو الحسن علی بن بُشری بن عبد اللہ دمشقی عطار کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

حافظ ابن عساکر l کی سند میں موجود راوی ابو الحسن علی بن بُشری بن عبد اللہ دمشقی عطار (المتوفی ۴۱۴ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ عبد العزیز بن احمد کتانی l اپنی ’’ذيل‘‘[178] میں فرماتے ہیں: ’’اتهم في خيثمة‘‘. یہ خیثمہ کے بارے میں متہم ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ الإسلام‘‘[179] اور ’’ميزان الاعتدال‘‘[180] میں حافظ عبد العزیز بن احمد کتانی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[181] میں علی بن بشری عطار کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ عبد العزیز بن احمد کتانی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حوالہ جات

[178] ذيل تاريخ مولد العلماء ووفياتهم:ص:147،رقم:۱50،ت:عبد الله أحمد سليمان الحمد،دار العاصمة ـ رياض،الطبعة الأولى۱۴09هـ .

[179] تاريخ الإسلام:۹/۲۳۷،رقم:۱۴۴،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[180] ميزان الاعتدال:۳/۱۱۵،رقم:۷۵۹۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .                        

[181] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۸۶ ،رقم:۲۸۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ