التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی حسین بن عبد الغفار مصری ازدی عطار ویقال حسن بن غُفَیر

المتوفی بضع وثلاثمائۃایک روایت میں تذکرہ

ابو علی حسین بن عبد الغفار مصری ازدی عطار ویقال حسن بن غُفَیر کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

امام طبرانی l کی سند میں موجود راوی ابو علی حسین بن عبد الغفار مصری ازدی عطار ویقال حسن بن غُفَیر (المتوفی بضع وثلاثمائۃ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو سعید بن یونس l فرماتے ہیں: ’’ كذاب يضع الحديث‘‘[157]. کذاب ہے، حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[158] میں فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه بمصر في الرحلتين جميعا إلى مصر، حدثنا عن سعيد بن عُفَير، وعبد العزيز بن مِقْلاص، وغيرهما من كبار شيوخ مصر، ولم يكن سنه يحتمل لقاءهم، وقد حدث بأحاديث مناكير‘‘. میں نے اس سے مصر کی جانب دونوں سفر میں، مصر میں لکھا ہے، اس نے ہمیں سعید بن عُفَیر، اور عبد العزیز بن مِقْلاص وغیرہ مصر کے کبار شیوخ کے انتساب سے بیان کیا، اور اس کی عمر، ان سے لقاء کا احتمال نہیں رکھتی، اور اس نے منکر احادیث بیان کیں۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[159] میں حافظ ابن عدیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ دار قطنی l نے ’’المؤتلف والمختلف‘‘[160] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ دار قطنی l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’هذا آية، متروك، كان بلية‘‘[161]. یہ ایک نشانی ہے، متروک ہے، ’’بلیہ‘‘ہے۔

حافظ عبد الغنی بن سعید ازدی l ’’المؤتلف‘‘[162] میں فرماتے ہیں: ’’الحسن بن غفير مصري، وما كان ثقة ولا مأمونا، ترك حمزة بن محمد الرواية عنه‘‘. حسن بن غُفَیر مصری ہے، ’’ثقہ ومامون نہ تھا‘‘، حمزہ بن محمد (یعنی حافظ ابو القاسم حمزہ بن محمد کنانی مصری) نے اس سے روایت کو ترک کردیا تھا۔

حافظ ذہبی l نے اسے ’’تاريخ الإسلام‘‘[163] میں ’’متروك، واه‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[164] میں ’’متهم‘‘ اور ’’المغني‘‘[165] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[166] میں ایک مقام پر حسن بن غُفَیر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’قد اختلقها هذا المدبر نحو سبع ورقات‘‘. اس مُدبر نے سات اوراق پر مشتمل اس قصہ کو گھڑا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمیl نے حسن بن غُفَیر کو ’’الكشف الحثيث‘‘[167] میں ذکر کرکے حافظ ذہبی l کے اس کلام کو نقل کیا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[168] میں زیر بحث روایت کے تحت اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[169] میں حسین بن عبد الغفار مصری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’متهم‘‘. متہم ہے۔

حوالہ جات

[157] انظر ميزان الاعتدال:۱/۵۱۷،رقم:۱۹۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .               

[158] الكامل في ضعفاء الرجال:3/۲44،رقم:497،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[159] الضعفاء والمتروکین:۱/۲۱۴،رقم:۸۹۱ ،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .

[160] المؤتلف والمختلف:ص:1718،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[161] سؤالات حمزة بن يوسف السهمي للدار قطني وغيره من المشايخ في الجرح والتعديل:ص:205،رقم:271، ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر، مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴04هـ .

[162] المؤتلف والمختلف في أسماء نقلة الحديث وأسماء آبائهم وأجدادهم:2/563،رقم:1662،ت:مثنى محمد حميد الشمري وقيس عبد إسماعيل التميمي،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى1428هـ .

[163] تاريخ الإسلام:۷/۸۷ ،رقم:۲۲۳،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[164] ديوان الضعفاء:ص:89 ،رقم:995،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[165] المغني في الضعفاء:1/۲۵۵،رقم:۱۴۶۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[166] ميزان الاعتدال:۱/۵۱۷،رقم:۱۹۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[167] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۹۳،رقم:۲۲۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[168] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۴/۱۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[169] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۵۳،رقم:۱۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ