التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو بکر محمد بن احمد بن محمد جَرْجَرَائی مُفِید

المتوفی ۳۷۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابو بکر محمد بن احمد بن محمد جَرْجَرَائی مُفِید کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو بکر محمد بن احمد بن محمد جَرْجَرَائی مُفِید (المتوفی ۳۷۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلا م

حافظ ابو بکر برقانی l نے اسے ’’ليس بحجة‘‘ کہا ہے[120]۔

علامہ ابو منصور محمد بن احمد بن شعیب رویانی l فرماتے ہیں: ’’لم أر أحفظ من أبي بكر المُفِيد‘‘[121]. میں نے ابو بکر مُفِید سے زیادہ احفظ کسی کو نہیں دیکھا۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[122] میں مُفِید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ذكر لي أبو نعيم الحافظ: أنه بغدادي الأصل، سكن جرجرايا، ووصفه بالحفظ‘‘. مجھے حافظ ابو نعیم l نے ذکر کیا کہ یہ اصل بغدادی ہے، جَرْجَرِائی میں رہائش پذیر تھا، اور ابو نعیم l نے اسے حفظ کے ساتھ موصوف کیا۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[123] میں مُفِید کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: ’’فإنه كان سافر الكثير، وكتب عن الغرباء، وروى مناكير، وعن مشايخ مجهولين...‘‘. ’’یہ کثرت سے سفر کرتا تھا، اور غرباء سے لکھتا تھا، اور اس نے مناکیر روایت کی ہیں، اور مجہول مشایخ سے روایت کرتا ہے۔۔۔‘‘۔

حافظ ابو الولید باجیl فرماتے ہیں: ’’أبو بكر المُفِيد شيخ أنكرت عليه أسانيد ادعاها‘‘[124]. ابو بکر مُفِید شیخ ہے، اس پر ان اسانید کی وجہ سے انکار ہوا ہے جن کا اس نے دعوی کیا تھا۔

حافظ ابن ماکولاl ’’الإكمال‘‘[125] میں فرماتے ہیں:’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ سمعانیl’’الأنساب‘‘[126] میں جَرْجَرَائی مُفِید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان رحل وجمع، ولكن كانوا لا يحتجون به‘‘. اس نے سفر کیا، اور (احادیث) جمع کیں، لیکن محدثین اس سے احتجاج نہیں کرتے تھے۔

حافظ ابن نجار l ، مُفِید جَرْجَرَائی کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’سمعت ما لم يسمعوا، وأدركت ما لم يدركوا، فحسدوني وتكلموا في، الله بيني وبينهم‘‘[127]. میں نے جو سنا ہے، دوسرے نہیں سن سکے، اور میں نے جو پایا، لوگ نہیں پا سکے، چنانچہ وہ مجھ سے حسد کرکے میرے بارے میں کلام کرنے لگ گئے، میرے اور ان کے درمیان اللہ ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[128] میں فرماتے ہیں: ’’وروى المناكير عن المجاهيل‘‘. یہ مجہول راویوں سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[129] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[130] میں فرماتے ہیں: ’’مجمع على ضعفه واتهم‘‘. اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے، اور اسے متہم قرار دیا گیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے مُفِید کے بارے میں ’’سير أعلام‘‘[131] میں ’’تالف‘‘، ’’تاريخ الإسلام‘‘[132] میں ’’الضعيف الواهي‘‘، ’’تلخيص العلل‘‘[133] میں ’’ كذاب‘‘ اور ’’ميزان‘‘[134] میں ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط ابن عجمی l ’’الکشف الحثیث‘‘[135] میں حافظ ذہبیl کا کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’قال الذهبي: قلت: هو متهم، فقوله بعد كلام الباجي هو متهم: يحتمل أن يريد بالكذب، ويحتمل بالوضع‘‘. ذہبی l فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ یہ متہم ہے، سو ذہبی l کا باجی l کے کلام کے بعد کہنا کہ وہ متہم ہے، اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ذہبی l کی مراد متہم بالکذب ہو، اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کی مراد متہم بالوضع ہو۔

حافظ سیوطی l نے ’’اللآلئ‘‘[136] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[137] میں محمد بن احمد بن محمد جَرْجَرَائی مُفِید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الذهبي: متهم‘‘. ذہبی l فرماتے ہیں: یہ متہم ہے۔

حوالہ جات

[120]  انظر تاريخ مدينة السلام:2/20۶،رقم:219،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[121]  انظر تاريخ مدينة السلام:2/204،رقم:219،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[122] تاريخ مدينة السلام:2/204،رقم:219،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[123] تاريخ مدينة السلام:2/204،رقم:219،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[124] انظر تاريخ دمشق:5۱/۱۲۱،رقم:۵۹۶۷،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[125] الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب:7/۲۸۲،الفاروق الحديثة ـ القاهرة .

[126] الأنساب:۳/2۴۱،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1397هـ .

[127] كتاب المقفى الكبير:5/278،رقم:1844،ت:محمد اليعلاوي،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1411هـ .

[128] ميزان الاعتدال:۳/۴۶۱،رقم:۷۱۵۸،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .                        

[129] ديوان الضعفاء:ص:۳۳۹،رقم:۳۵۷۰،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[130] المغني في الضعفاء:۲/۲۶۰،رقم:۵۲۶۱،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[131]  سير أعلام النبلاء:14/187،ت:شعيب الأرنؤوط ومحمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1403هـ .

[132] تاريخ الإسلام:۷/۱۵۴،رقم:۴۵۹،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .

[133] تلخيص العلل المتناهية:1/176،ت:أبو عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة1400هـ .

[134] ميزان الاعتدال:۳/۴۶۱،رقم:۷۱۵۸،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .                        

[135]  الكشف الحثيث:ص:۲۱۶،رقم:۶۱۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[136]  اللآلئ المصنوعة:۱/۹۶،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1417هـ .

[137] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/1۰۰،رقم:۲۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ