اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو سالم علاء بن مسلمہ بن عثمان رَوَّاس مولی بنو تمیم کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[43]میں علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن العراقيين المقلوبات، وعن الثقات الموضوعات، لا يحل الاحتجاج به بحال‘‘. علاء بن مسلمہ عراقیوں کے انتساب سے مقلوب اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے، اس سے احتجاج کسی بھی حالت میں حلال نہیں ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l نے ’’تاريخ بغداد‘‘[44] میں علاء بن مسلمہ کے ترجمہ میں زیر بحث روایت تخریج کی، پھر حافظ ابو الفتح ازدی l کا یہ قول نقل فرماتے ہیں: ’’ كان رجل سوء، لا يبالي ما روى، وعلى ما أقدم؟ لا يحل لمن عرفه أن يروي عنه‘‘. برا آدمی ہے، اسے اس کی پرواہ نہیں کہ کیا روایت کر رہا ہے، اور کیا پیش کر رہا ہے؟ جو شخص اسے جانتا ہے اس کےلئے حلال نہیں ہے کہ وہ اس سے روایت کرے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[45] میں ایک روایت کے تحت علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والعلاء هذا يضع الحديث‘‘. اور یہ علاء حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ذہبیl ’’ الكاشف‘‘[46] میں علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اتهم‘‘. اسے متہم قرار دیا گیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[47] میں علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متهم بوضع الحديث‘‘. حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’دیوان الضعفاء‘‘[48] میں فرماتے ہیں: ’’متهم، لا يوثق به‘‘ متہم ہے، اس کی توثیق نہیں ہوئی۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’الإصابة‘‘[49]میں ایک حدیث کے تحت علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[50] میں علاء بن مسلمہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ورماه ابن حبان بالوضع‘‘. یہ متروک ہے، اور ابن حبان lنے اسے متہم بالوضع قرار دیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[51] میں علاء بن مسلمہ کو درج کرکے حافظ ازدی l ، حافظ ابن قیسرانی l اور حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[52] میں علاء بن مسلمہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن طاهر: كان يضع الحديث‘‘. ابن طاہر l فرماتے ہیں کہ یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حوالہ جات
[43] المجروحين:2/185،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[44] تاريخ بغداد:۱4/162،رقم:6644،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[45] تذكرة الحفاظ:ص:۱۸،رقم:۲۳،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[46] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:۲/۱۰۶،رقم:۴۳۴۳،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[47] المغني في الضعفاء:2/71،رقم:4190،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[48] ديوان الضعفاء:ص:280،رقم:289۱،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة .
[49] الإصابة في تمييز الصحابة:1/۱۷۴،رقم:۱۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[50] تقريب التهذيب:ص:436،رقم:5256،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[51] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:182،رقم:492،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[52] تنزيه الشريعة:1/۸5 ،رقم:۲۷۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .