اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو محمد سلیمان بن ربیع بن ہشام نہدی کوفی (المتوفی ۲۷۴ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام دار قطنی lفرماتے ہیں: ’’ضعيف، متروك، غير أسماء مشايخ، وروى عنهم مناكير‘‘[93]. ضعیف، متروک ہے، مشایخ کے نام تبدیل کرتا ہے، اور ان کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن جوزی lنے ’’الضعفاء‘‘[94] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[95] میں امام دار قطنی lکے اس کلام پر اعتماد کیا ہے۔
امام دار قطنیl نے ’’العلل الواردة‘‘[96] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ربیع نہدی اور ہمام بن مسلم کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عبد الہادی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[97] میں امام دارقطنی l کے اس کلام پر اعتماد کیا ہے۔
نیز امام دار قطنی l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’يقال: كادح بن رحمة له اسم كان يعرف به، فغيره سليمان بن الربيع، فسماه كادحا، ذهب إلى قول الله تعالى: ’’يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ‘‘، قال: وقد روى سليمان بن الربيع هذا أحاديث مناكير عن شيخ آخر، فغير اسمه سماه همام بن مسلم، وأظنه ذهب إلى قول النبي صلى الله عليه وسلم: كل بني آدم همام، قال أبو الحسن: أراد منهم من يهم بالخير، ومنهم من يهم بالشر، وذهب إلى أن أباه كان مسلما، فقال: همام بن مسلم‘‘[98].
کہا جاتا ہے کہ کادح بن رحمہ کا کوئی نام تھا جس سے اس کی معرفت تھی، پھر سلیمان بن ربیع نے اس کا نام بدل کر کادح (یعنی کام میں کوشش کرنے والا) رکھ دیا، اللہ تعالی کے اس ارشاد سے: ’’اے انسان! تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کام میں کوشش کر رہا ہے‘‘، دارقطنی l فرماتے ہیں: اس سلیمان بن ربیع نے ایک دوسرے شیخ سے منکر احادیث روایت کی ہیں، پھر اپنے شیخ کا نام بدل کر ہمام بن مسلم رکھ دیا، اور میرا گمان ہے، نبی ﷺ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ’’ہر بنی آدم ہمام (ارادہ کرنے والا) ہے‘‘، ابو الحسن (دارقطنی l) فرماتے ہیں: بعض خیر کا ارادہ کرتے ہیں، اور بعض شر کا ارادہ کرتے ہیں، اور اس وجہ سے کہ اس کا والد مسلمان تھا، سو اسے ہمام بن مسلم کہہ دیا۔
حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص العلل‘‘[99] میں زیر بحث روایت کے تحت سلیمان بن ربیع اور ہمام بن مسلم کو ’’لیس بشیء‘‘کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[100] میں کادح بن رحمہ زاہد کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ربیع کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[93] انظر الضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:2/19،رقم:1520،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[94] الضعفاء والمتروکین:2/19،رقم:1520،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[95] ميزان الاعتدال:۲/۲۰۷،رقم:۳۴۵۹،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[96] العلل الواردة:۸/۱۰۴،رقم:۱۴۲۸،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبةـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۲هـ .
[97] تنقیح التحقیق في أحاديث التعليق:۱/۱۹۱،ت:سامي بن محمد وعبد العزيز بن ناصر،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1428هـ .
[98] تاريخ بغداد:۱۰/۷۴،رقم:۴۵۹۰،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[99] تلخيص العلل المتناهية:1/179،ت:أبو عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة1400هـ .
[100] ميزان الاعتدال:۳/۳۹۹،رقم:۶۹۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .