اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)حافظ ابو طاہر سلفی l اور حافظ ابن جوزی l کی سند میں موجود راوی ابو طاہر قاسم بن عبد اللہ بن مہدی اِخْمِیْمِی (المتوفی ۳۰۴ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن یونس مصری lفرماتے ہیں: ’’ولم أسمع منه غير حديث واحد، وكانت كتبه جيادا‘‘[192]. میں نے اس سے صرف ایک ہی حدیث سنی ہے، اور اس کی کتب عمدہ تھیں۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[193] میں فرماتے ہیں: ’’ كتبت عنه بإخْمِيْم وبِبُلَيْنا في صعيد مصر، روى عن عمه محمد بن مهدي، عن يزيد بن يونس بن يزيد، عن أبيه، عن الزهري نسخة طويلة، ويزيد هذا حدث عنه ابن وهب شيئا يسيرا [ كذا في الأصل]، وقالوا: عمه لم ير يزيد ولم يلحقه‘‘. میں نے اس سے صعید مصر میں اِخْمِیْم اور بُلَیْنا میں لکھا ہے، اس نے اپنے چچا محمد بن مہدی سے یزید بن یونس بن یزید، عن ابیہ، عن الزہری کے طریق سے ایک طویل نسخہ روایت کیا ہے، اور اس یزید سے ابن وہب نے بہت کم روایت کیا ہے، اور محدثین فرماتے ہیں: اس کے چچا نے نہ یزید کو دیکھا ہے اور نہ ہی اس سے ملا ہے۔
چند سطر بعد حافظ ابن عدیl فرماتے ہیں: ’’وكان بعض شيوخ مصر يضعفه‘‘. مصر کے بعض شیوخ اس کی تضعیف کرتے تھے۔
اس کے بعد حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[194] میں قاسم کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولم أر له حديثا منكرا فأذكره، وهو عندي لا بأس به‘‘. اور میں نے اس کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی جسے میں ذکر کروں، اور وہ میرے نزدیک ’’لا بأس بہ‘‘ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[195] میں قاسم بن عبد اللہ بن مہدی کے ترجمہ میں حافظ ابن عدیl کی عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’قد ذكرت له حديثا باطلا، فيكفيه، [وروى له الدار قطني حديث النضح، فقال: متهم بوضع الحديث] ‘‘. آپ نے اس کی ایک باطل حدیث ذکر کی ہے، سو یہ اس کےلئے کافی ہے، اور دارقطنی l نے اس کی ’’حدیث نضح‘‘ روایت کی، پھر فرماتے ہیں: یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔
اہم نوٹ:امام دارقطنی l کا ’’اتہام بالوضع‘‘ کا قول ان کی کتب میں نہیں مل سکا، واللہ اعلم۔
حافظ بدر الدین عینی l ’’مغاني الأخيار‘‘[196] میں فرماتے ہیں: ’’قلت: كلام الدارقطني فيه تحامل، لأنه لو كان متهما بالوضع ما كان يرحل إليه ابن عدي إلى إِخْمِيْم، مع طول لسانه فى الرجال، وشدة تفحصه عن أحوالهم، ولما كان مثل الطحاوي يرضى أن يروي عنه، ولا ابن يونس يحدث عنه، ولولا علمهم بدينه وأمانته وتوثيقه لما رضوه، ولا قبلوه، والله أعلم‘‘.
میں کہتا ہوں: دارقطنی l کے اس کلام میں زیادتی ہے، کیونکہ اگر یہ متہم بالوضع ہوتا تو ابن عدی l اِخْمِیْم تک سفر کرکے اس کے پاس نہ جاتے، اس کے ساتھ ساتھ کہ ابن عدی l رجال کے بارے میں طول لسان ہیں، اور ان کے احوال کی خوب تحقیق کرتے ہیں، نیز طحاوی l جیسا شخص اس سے روایت کرنے پر راضی نہ ہوتا، اور نہ ابن یونس l اس سے روایت کرتے، اور اگر ان کو اس کے دین، امانت اور اس کے ثقہ ہونے کا علم نہ ہوتا تو یہ اس سے راضی نہ ہوتے، اور نہ اسے قبول کرتے، واللہ اعلم۔
حافظ ابو القاسم حمزہ بن یوسف سہمی l فرماتے ہیں: ’’سألت الدارقطني عن أبي الطاهر القاسم بن عبد الله بن مهدي الإخْمِيْمِي، روى نسخة ليزيد بن يونس بن يزيد الأيلي ثقة؟ قال: كان (لينا)، قال: وله أحاديث منكرة غير النسخة، وقال: ليس هو بشيء‘‘[197]. میں نے دارقطنی l سے ابو طاہر قاسم بن عبد اللہ بن مہدی اِخْمِیْمِی جو یزید بن یونس بن یزید ایلی کا نسخہ روایت کرتا ہے، کے بارے میں پوچھا کہ وہ ثقہ ہے؟ دارقطنی l نے فرمایا: وہ لین ہے، اور دارقطنی l نے فرمایا: اس کی نسخہ کے علاوہ منکر احادیث ہیں، اور دارقطنی l نے فرمایا: وہ لیس بشیء ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[198] میں قاسم بن عبد اللہ بن مہدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’شيخ ابن عدي، ضعف‘‘. ابن عدی l کے شیخ ہیں، ان کی تضعیف کی گئی ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l نے اس کے ترجمہ میں ایک روایت ذکر کرکے اسے من گھڑت کہا ہے۔
حوالہ جات
[192] انظر لسان الميزان:6/374،رقم:6117،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[193] الكامل في ضعفاء الرجال:7/155،رقم:1585،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[194] الكامل في ضعفاء الرجال:7/156،رقم:1585،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[195] ميزان الاعتدال:۳/۳۷۳،رقم:۶۸۱۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[196] مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار:2/466،رقم:2118،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[197] سؤالات حمزة بن يوسف السهمي للدار قطني وغيره من المشايخ في الجرح والتعديل:ص:2۴۹،رقم:۳۵۶، ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر، مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[198] المغني في الضعفاء:۲/۲۰۶،رقم:۴۹۹۴،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .