اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج إلى مكة، ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبروتان‘‘. جو شخص حج کےلئے مکہ جائے پھر میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے، اس کےلئے دو مقبول حج لکھے جاتے ہیں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو الحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبد اللہ بندار عسکری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبی l’’میزان الاعتدال‘‘[8] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن إسحاق بن سيار النصيبي بخبر موضوع، هو آفته‘‘. اس نے اسحاق بن سیار نصیبی کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی آفت ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[9] میں، علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[10] میں، علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں اور علامہ محمد بن یوسف شامیl نے ’’سبل الهدى‘‘[12] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ہی ’’المغني‘‘[13] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن اسحاق بن سيار النصيبي بموضوع، فهو المتهم به‘‘. اس نے اسحاق بن سیار نصیبی کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی متہم ہے۔
حوالہ جات
[8] ميزان الاعتدال:1/۴۴۷،رقم:۱۶۷۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[9] لسان الميزان:۲/۵۳۷،رقم:2088،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .
[10] الكشف الحثيث:ص:۸۸،رقم:206،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[11] تنزيه الشريعة:1/۴۷،رقم:8،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[12] سبل الهدى والرشاد:1/414،ت:عادل أحمد عبد الموجود،علي محمد معوض،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۴هـ.
[13] المغني في الضعفاء:۱/۲۲۹،رقم:۱۲۷۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .