التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبد اللہ بندار عسکری

2 روایات میں تذکرہ

ابو الحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبد اللہ بندار عسکری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبد اللہ بندار عسکری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ذہبی l’’میزان الاعتدال‘‘[8] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن إسحاق بن سيار النصيبي بخبر موضوع، هو آفته‘‘. اس نے اسحاق بن سیار نصیبی کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی آفت ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[9] میں، علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[10] میں، علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں اور علامہ محمد بن یوسف شامیl نے ’’سبل الهدى‘‘[12] میں حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ذہبیl ہی ’’المغني‘‘[13] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن اسحاق بن سيار النصيبي بموضوع، فهو المتهم به‘‘. اس نے اسحاق بن سیار نصیبی کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی متہم ہے۔

حوالہ جات

[8] ميزان الاعتدال:1/۴۴۷،رقم:۱۶۷۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[9] لسان الميزان:۲/۵۳۷،رقم:2088،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[10] الكشف الحثيث:ص:۸۸،رقم:206،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[11] تنزيه الشريعة:1/۴۷،رقم:8،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

[12] سبل الهدى والرشاد:1/414،ت:عادل أحمد عبد الموجود،علي محمد معوض،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۴هـ.

[13] المغني في الضعفاء:۱/۲۲۹،رقم:۱۲۷۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو الحسن حامد بن حماد بن مبارک بن عبد اللہ بندار عسکری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ذہبی l’’میزان الاعتدال‘‘[21] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن إسحاق بن سيار النصيبى بخبر موضوع، هو آفته‘‘. اس نے اسحاق بن سیار سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی آفت ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’لسان‘‘[22] میں، علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[23] میں، علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[24] میں اور علامہ محمد بن یوسف شامیl نے ’’سبل الهدى‘‘[25] میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[26] میں حامد بن حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن اسحاق بن سيار النصيبي بموضوع، فهو المتهم به‘‘. اس نے اسحاق بن سیار نصیبی کے انتساب سے ایک من گھڑت روایت بیان کی ہے، اس میں یہی متہم ہے۔

حوالہ جات

[21] ميزان الاعتدال:1/۴۴۷،رقم:۱۶۷۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[22] لسان الميزان:۲/۵۳۷،رقم:2088،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[23] الكشف الحثيث:ص:۸۸،رقم:206،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[24] تنزيه الشريعة:1/۴۷،رقم:8،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

[25] سبل الهدی والرشاد:1/414،ت:عادل أحمد عبد الموجود،علي محمد معوض،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة۱۴۱۴هـ.

[26] المغني في الضعفاء:۱/۲۲۹،رقم:۱۲۷۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ