اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت:ساتھیوں سے ملاقات کےلئے جاتے وقت آپ ﷺ کا پانی میں دیکھ کر اپنی داڑھی اور سر کے بالوں کو سنوارنا ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابوسعید عبدالقدوس بن حبیب کَلَاعی وُحَاظی شامی دمشقی (المتوفی مابین 170 – 180ھ[70])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام عبد اللہ بن المبارک l فرماتے ہیں: ’’ لأن أقطع الطريق أحب إلي من أن أروي عن عبد القدوس الشامي‘‘[71]. میں ڈاکہ ڈالوں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں عبد القدوس شامی سے روایت کروں۔
حافظ یحیی بن معین l نےعبدالقدوس کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[72]۔
نیز ایک دوسرے مقام پر حافظ یحیی بن معین l نے عبدالقدوس کو ’’مطروح الحدیث‘‘ کہا ہے[73]۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عبد القدوس، عن نافع، عن مجاهد، والشعبي، ومكحول، وعطاء أحاديث مقلوبة‘‘. عبد القدوس یہ نافعl ، مجاہدl ، مکحول l اور عطاء l سے مقلوب حدیثیں نقل کرتا ہے۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[75] میں عبدالقدوس کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔
نیز امام مسلم l ہی اپنی ’’صحيح‘‘[76] کے مقدمہ میں فرماتے ہیں: ’’فأما ما كان منها عن قوم هم عند أهل الحديث متهمون، أو عند الأكثر منهم، فلسنا نتشاغل بتخريج حديثهم، كعبد الله بن مسور أبي جعفر المدائني، وعمرو بن خالد، وعبد القدوس الشامي، ومحمد بن سعيد المصلوب، وغياث بن إبراهيم، وسليمان بن عمرو أبي داود النخعي، وأشباههم ممن اتهم بوضع الأحاديث، وتوليد الأخبار‘‘.
وہ لوگ جو بعض محدثین کے نزدیک یا ان میں سے اکثر کے نزدیک متہم ہیں ہم ان کی حدیث کو لانے میں مشغول نہیں ہوئے ،جیسا کہ ابو جعفر عبداللہ بن مسور مدائنی ،عمرو بن خالد ،عبدالقدوس شامی،محمد بن سعید مصلوب، غیاث بن ابراہیم،ابوداوود نخعی سلیمان بن عمرو ،اور ان جیسے لوگ جن کو احادیث گھڑنے میں اور روایات ایجاد کرنے میں متہم قرار دیا گیاہے۔
امام نووی l ’’المنهاج‘‘[77] میں امام مسلم l کی عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’هؤلاء الجماعة المذكورون كلهم متهمون، متروكون، لا يتشاغل بأحد منهم، لشدة ضعفهم، وشهرتهم بوضع الأحاديث‘‘. یہ مذکورہ جماعت تمام تر متہم، متروک ہیں، ان کے ضعف شدید اور وضع حدیث میں مشہور ہونے کی وجہ سے ان میں سے کسی کے ساتھ اشتغال نہیں کیا جائے گا۔
امام ابوداؤد l فرماتے ہیں: ’’ ليس بشيء، وابنه شر منه‘‘[78]. یہ عبد القدوس لیس بشی ہے،اور اس کا بیٹا اس سے بھی بد تر ہے۔
حافظ ابو زرعہ l نےعبدالقدوس کو ’’ضعیف الحدیث‘‘ کہا ہے[79]۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، كان لا يصدق‘‘[80]. یہ متروک الحدیث ہے،یہ سچ نہیں بولتا تھا۔
امام نسائی l عبدالقدوس کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة ولا مأمون، سكتوا عنه‘‘[81].
نیز امام نسائی l نے ایک دوسرے مقام پر اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[82]۔
حافظ ابو بشر دولابی l ’’الكنى والأسماء‘‘[83] میں فرماتے ہیں: ’’وأبو سعيد عبد القدوس بن حبيب الدمشقي، متروك الحديث‘‘. ابو سعید عبد القدوس بن حبیب دمشقی متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابو حفص عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’ أجمع أهل العلم على ترك حديثه‘‘[84] اہل علم کا ان کی احادیث کے ترک پر اجماع ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[85] میں فرماتے ہیں: ’’ لا يقنع الناس بحديثه‘‘. لوگ ان کی احادیث سے مطمئن نہیں تھے۔
حافظ اسماعیل بن عیاش l فرماتے ہیں: ’’ لا أشهد على أحد بالكذب إلا على عبد القدوس بن حبيب، وعمر بن موسى الوجيهي ...‘‘[86].
’’میں کسی کے بارے میں جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیتا سوائے عبد القدوس بن حبیب اور عمر بن موسی وجیہی کے۔۔۔‘‘۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[87] میں لکھتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث على الثقات، لا يحل كتابة حديثه ولا الرواية عنه، وكان ابن المبارك يقول: لأن أقطع الطريق أحب إلي من أن أروي عن عبد القدوس الشامي‘‘. یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے حدیث گھڑتا تھا،اس کی حدیثوں کو لکھنا اور روایت کرنا حلال نہیں،اور ابن مبارک l فرماتے تھےکہ میں ڈاکہ ڈالوں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں عبد القدوس شامی سے روایت کروں۔
حافظ عبد الرزاق صنعانی l فرماتے ہیں: ’’ما رأيت ابن المبارك يفصح بقوله كذاب إلا لعبد القدوس، فإني سمعته يقول له: كذاب‘‘[88]. میں نے ابن مبارک l کو کسی کے بارے میں صاف طور پر کذاب کہتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے عبد القدوس کے، میں نے ابن مبارک l کو سنا کہ انہوں نے عبد القدوس کو کذاب کہا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[89] میں فرماتے ہیں: ’’وعبد القدوس له أحاديث غير محفوظة، وهو منكر الحديث إسنادا ومتنا‘‘. عبد القدوس کی احادیث محفوظ نہیں ہیں، وہ سند ومتن کی حیثیت سے منکر الحدیث ہے۔
حافظ ذہبی l زیرِ بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’فيه عبد القدوس بن حبيب متهم‘‘[90]. اس میں عبد القدوس بن حبیب متہم راوی ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تاريخ الإسلام‘‘[91] میں عبد القدوس بن حبیب کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں: ’’عبد القدوس شديد الضعف، وكذبه بعض الأئمة، والله أعلم‘‘[92] عبد القدوس شدید ضعیف راوی ہے، اور بعض ائمہ نے اس کو جھوٹا کہا ہے، واللہ اعلم۔
علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[93] میں عبد القدوس کو لاکر امام مسلم l ، حافظ ابن حبان l ، حافظ ابن جوزی l اور امام نووی l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[94] میں عبد القدوس بن حبیب کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کرکے لکھتے ہیں: ’’قال ابن المبارك: كذاب،,وقال ابن حبان:كان يضع الحديث‘‘. ابن المبارک l نے ان کو کذاب کہا ہے،اور ابن حبان l فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے حدیث گھڑتا تھا۔
حوالہ جات
[70] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘ میں موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 170 اور 180 کے درمیان ہوا ہے (التاريخ الصغير:2/173،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[71] الضعفاء الكبير:3/96،رقم:1069،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1404هـ .
[72] تاريخ يحيي بن معين رواية أبي الفضل العباس بن محمد الدوري:2/308،رقم:4976،دار القلم ـ بيروت .
[73] تاريخ بغداد: ۱۲/۴۳۵،رقم:۵۷۷4،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[74] التاريخ الكبير:5/381،رقم:7969،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[75] الكنى و الأسماء:ص:367،رقم:1348،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[76] الصحيح لمسلم:1/7،رقم:147،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
[77] المنهاج شرح صحيح مسلم:۱/55،المطبعة المصرية ـ الأزهر،الطبعة الأولى۱۳۴۷هـ .
[78] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:192،رقم:205،ت:محمد علي قاسم العمري،الجامعة الإسلامیة ـ المدينة المنورة،الطبعة۱399هـ .
[79] الجرح والتعديل: ۶/56،رقم:۲۹۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[80] الجرح والتعديل: ۶/56،رقم:۲۹۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى137۲ هـ .
[81] تاريخ دمشق:36/۴19،ت:محب الدين أبي سعيد عمربن غرامة العمروي،دار الفکرـ بيروت،الطبعة ۱۴۱6هـ .
[82] الضعفاء والمتروكين:ص:۱64،رقم:۴۵۷،ت:بوران الضناوي،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[83] الكنى والأسماء:ص:580،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى4121هـ .
[84] الجرح والتعديل: ۶/56،رقم:۲۹۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى137۲هـ .
[85] أحوال الرجال:ص:279،رقم:293،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[86] تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين:ص:137،رقم:435،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى 1409هـ .
[87] المجروحين:۲/۱۳۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[88] تاريخ دمشق:36/۴22،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفکرـ بيروت،الطبعة۱۴۱6هـ .
[89] الكامل: ۷/۴۶،رقم:۱۴۹۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلميةـ بيروت .
[90] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:62،رقم:131،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱9هـ .
[91] تاريخ الإسلام:4/443،رقم:245،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴24هـ .
[92] نتائج الأفكار:5/170،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴29هـ .
[93] الكشف الحثيث:ص:171،رقم:454،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[94] تنزيه الشريعة:1/81 ،رقم:187،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .