التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابراہیم بن حیان بن حکیم بن علقمہ اوسی مدنی انصاری

ایک روایت میں تذکرہ

ابراہیم بن حیان بن حکیم بن علقمہ اوسی مدنی انصاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابراہیم بن حیان بن حکیم بن علقمہ اوسی مدنی انصاری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حا فظ ابن عدیl نے ’’الكامل‘‘[38] میں ابراہیم بن حیان کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

حا فظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[39] میں ابراہیم بن حیان کے ترجمہ میں دو روایات  ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں: ’’وهذان الحديثان مع أحاديث غيرها بالأسانيد التي ذكرها إبراهيم بن حيان عامتها موضوعة مناكير، وهكذا سائر أحاديثه‘‘. یہ دو حدیثیں دوسری احادیث کے ساتھ اُن اسانید کے ساتھ جنہیں ابراہیم بن حیان نے ذکر کیا ہے، ان میں اکثر من گھڑت مناکیر ہیں، اور اسی طرح اس کی دیگر احادیث ہیں۔

حافظ ابن ماکولاl نے ’’الإكمال‘‘[40] میں، حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[41] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘[42] میں حا فظ ابن عدی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[43] میں ایک روایت کو ’’موضوع منكر‘‘ کہنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’والحمل فيه على إبراهيم‘‘. اس میں حمل ابراہیم پر ہے۔

حافظ سخاوی l ’’المقاصد الحسنة‘‘[44] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’المتهم بالوضع‘‘. حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[45] میں ابراہیم بن حیان کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن عدي: أحاديثه موضوعة‘‘. ابن عدی l فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث من گھڑت ہیں۔

حوالہ جات

[38] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۱۰،رقم:۸۴ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[39] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۱۱،رقم:۸۴ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[40] الإكمال في رفع الإرتياب:۲/۳۱۳،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[41] الضعفاء والمتروکین:۱/۳۱،رقم:۵۲،ت:عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ  بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .  

[42] ميزان الاعتدال:1/۲۸،رقم:۷۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[43] ذخيرة الحفاظ:۴/۲۲۳۴،رقم:۵۱۹۳،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[44] المقاصد الحسنة:ص:۶۷۸،ت:محمدعثمان الخشت،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[45] تنزيه الشريعة:۱/۲۱،رقم:۲۰،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ