اس روایت کی تحقیق سے3 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لا تنظروا في صغر الذنوب، ولكن انظروا على من اجترأتم‘‘. گناہوں کے چھوٹا ہونے کو نہیں دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نے کس کے سامنے گناہ کرنے کی جرأت کی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابوداؤد سلیمان بن عمرو بن عبداللہ بن وہب نَخَعِی فاسی عامری کوفی قاضی(المتوفی مابین 191ھ – 200ھ[84])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو الولید طیالسیl شریک سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ما لقينا من ابن عم لنا سليمان بن عمرو النَخَعِي من كثرة ما يكذب في الحديث‘‘[85].ہمیں اپنے چچا کی اولاد میں سلیمان بن عمرو نَخَعِی جیسا کثرت سے حدیث میں جھوٹ بولنے والا نہ ملا۔
حافظ ابو الولید طیالسیl نے بذات خود سلیمان بن عمرو کو ’’کذاب‘‘ کہا ہے[86]۔
امام اسحاق ابن راہویہl ، سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا أرى في الدنيا أكذب منه‘‘[87].میں نے دنیا میں اس سے زیادہ جھوٹ بولنے والا نہیں دیکھا۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘[88] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: كان في النَخَع شيخان ضعيفان يضعان الحديث، ويفتعلان: أحدهما سليمان بن عمرو النَخَعِي، وهو ذاهب الحديث، متروك الحديث، كان كذابا، وامتنع من قراءة حديثه‘‘. میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: نَخَع میں دو شیوخ ضعیف ہیں، دونوں احادیث گھڑتے، تراشتے تھے:ان میں ایک تو سلیمان بن عمرو نَخَعِی ہے، یہ ذاہب الحدیث، متروک الحدیث ہے، یہ کذاب تھا، (عبد الرحمن l فرماتے ہیں کہ میرے والد) ابو حاتم l ان کی احادیث پڑھنے سے رک گئے تھے۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘[89] میں فرماتے ہیں: ’’سئل أبو زرعة عن سليمان بن عمرو فقال: كان آية، وذكر عنه أشياء منكرة، وغلظ القول فيه جدا‘‘. ابو زرعہ l سے سلیمان بن عمرو کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ آیت تها، (حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں) اور ابو زرعہ l نے ابو داؤد نَخَعِی کی منکر چیزیں نقل کیں، اور ان کے بارے میں بہت زیادہ سخت بات کہی۔
حافظ ابو زرعہ رازیl نے ایک دوسرے موقع پر سلیمان بن عمرو کو ’’آفة من الآفات‘‘ کہا ہے[90]۔
امام علی بن مدینیl فرماتے ہیں: ’’ كان من الدجالين‘‘[91].یہ دجالوں میں سے تھا۔
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’وأبو داود النَخَعِي اسمه سليمان بن عمرو، كان رجل سوء، كذاب خبيث، قدري، ولم يكن ببغداد رجل إلا وهو خير من أبي داود النَخَعِي، كان يضع الحديث‘‘[92]. ابو داؤد نَخَعِی اس کا نام سلیمان بن عمرو ہے، یہ ایک برا، کذاب اور خبیث آدمی تھا، اور قدری تھا، بغداد کا ہر فرد ابو داود نَخَعِی سے بہتر تها، یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ یحیی بن معین l ہی سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان أكذب الناس‘‘[93]. اور یہ لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا تھا۔
حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كذاب النَخَع‘‘[94]. نَخَع کا كذاب ہے۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’أبو داود النَخَعِي، واسمه: سليمان بن عمرو، وكان كذابا، سئل شريك عن [كذا في الأصل، والصحيح: بن، كما في الضعفاء الكبير[95]] عبد الله عنه فقال: ذلك كذاب النَخَع‘‘[96]. ابو داود نَخَعِی کا نام سلیمان بن عمرو ہے، اور یہ کذاب ہے، شریک بن عبد اللہ l سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو شریک l نے کہا کہ یہ نَخَع کا کذاب ہے۔
امام احمد بن حنبلl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’أبو داود النَخَعِي من أكذب الناس‘‘[97]. ابو داود نَخَعِی لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[98]میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’معروف بالكذب، قال قتيبة وإسحاق‘‘. یہ جھوٹ بولنےمیں معروف ہے، یہ بات قتیبہ اور اسحاق نے کہی ہے۔
یہی کلام امام بخاری l نے ’’الضعفاء الصغير‘‘[99] میں بھی کیا ہے۔
امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[100] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’رماه قتيبة وإسحاق بالكذب‘‘. قتیبہ اور اسحاق نے اسے جھوٹ بولنے میں متہم قرار دیا ہے۔
امام مسلم l ’’الكنى‘‘[101] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’رماه إسحاق وقتيبة‘‘. اسحاق اور قتیبہ نے اسے متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[102] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوِی l ’’المعرفة والتاريخ‘‘[103] میں فرماتے ہیں: ’’أبو داود النَخَعِي: اسمه سليمان بن عمرو، قدري، رجل سوء، كذاب، كان يكذب مجاوبه‘‘. ابو داؤد نَخَعِی کا نام سلیمان بن عمرو ہے، یہ قدری ہے، برا شخص ہے، جھوٹا ہے، یہ اپنے جواب دینے والے کو جھوٹا کہتا تھا۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[104] میں سلیمان بن عمرو نَخَعِی کو ’’متروك الحديث‘‘ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[105] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان رجلا صالحا في الظاهر إلا أنه [كان] يضع الحديث وضعا، وكان قدريا، لا تحل كتابة حديثه إلا على جهة الاختبار، ولا ذكره إلا من طريق الاعتبار‘‘. یہ ظاہر میں ایک نیک اور صالح آدمی تھا، البتہ یہ یقیناً حدیثیں گھڑتا تھا، اور یہ قدری تھا، اس کی حدیثوں کو صرف امتحان کے طور پر لکھنا حلال ہے، اور اس کا ذکر صرف اعتبار کے طور پر کرنا حلال ہے۔
حافظ یزید بن ہارون l فرماتے ہیں: ’’لا يحل لأحد أن يروي عن سليمان بن عمرو النَخَعِي الكوفي‘‘[106]. کسی کےلئے بھی حلال نہیں کہ وہ سلیمان بن عمرو نَخَعِی کوفی سے روایت کرے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[107] میں فرماتے ہیں: ’’وسليمان بن عمرو اجتمعوا على أنه يضع الحديث‘‘. اور سلیمان بن عمرو کے بارے میں ائمہ کا اجماع ہے کہ وہ حدیثیں گھڑتا تھا۔
حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء‘‘[108] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، رماه أحمد بن حنبل بالكذب‘‘. یہ کذاب ہے، احمد بن حنبل l نے اسے جھوٹ میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابو احمدحاکم l نے ’’الأسامي‘‘[109] میں سلیمان بن عمرو کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ احمد بن صالح l ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’معلى هذا أحد السبعة الكذابين الذين يضعون الحديث بالكوفة، منهم: معلى، وأبو داود سليمان بن عمرو النَخَعِي‘‘[110]. یہ معلی اُن سات جھوٹوں میں سے ہے جو کوفہ میں حدیث گھڑتے ہیں، ان میں سے معلی ہے، اور ابو داؤد سلیمان بن عمرو نَخَعِی ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[111] میں سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن أهل المدينة، وأهل الشام عن الأئمة الثقات أحاديث موضوعة، كذبه أحمد وغيره، ولست أشك في وضعه الحديث على ما ذكر من تقشفه وكثرة عبادته‘‘. یہ مدینہ اور شام کے ثقہ ائمہ کے انتساب سے من گھڑت حدیثیں نقل کرتا تھا، اسے احمدl اور ان کے علاوہ نے کذاب کہاہے، اور مجھے اس کے حدیثیں گھڑنے میں ذراسابھی شک نہیں ہے، باوجودیکہ اس کے بارے میں تنگ حال رہنے اور کثرت سے عبادت کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔
امام حاکم l ایک دوسرے مقام پر سلیمان بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، يضع الحديث، يروي عن جماعة من التابعين، ويقال له: أبو داود النَخَعِي‘‘[112]. یہ جھوٹا ہے، حدیث گھڑتا ہے، تابعین کی ایک جماعت سے روایت کرتا ہے، اور اسے ابو داؤد نَخَعِی کہا جاتا ہے۔
حافظ عثمان بن ابی شیبہl فرماتے ہیں: ’’ كان حفص بن غياث لا يقطع على أحد بالكذب إلا على أبي داود النَخَعِي‘‘[113]. حفص بن غیاث کسی کو قطعی طور پر جھوٹا نہیں کہتے تھے سوائے ابو داؤد نَخَعِی کے۔
حافظ ابن عبد البر l ’’الاستغناء‘‘[114] میں فرماتے ہیں: ’’هو عندهم كذاب، يضع الحديث،كذبه يحيى وأحمد وقتيبة وشريك وإسحاق، وتابعهم سائر أهل العلم بالحديث، وتركوا حديثه‘‘. یہ ائمہ کے نزدیک کذاب ہے، حدیثیں گھڑتا ہے، اسے یحییl، احمدl، قتیبہl، شریکl اور اسحاق lنے جھوٹا قرار دیا ہے، اور دیگر اہل علم نے ان کی اتباع کی ہے، اور انہوں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
حافظ عبد الحق اشبیلی l ’’الأحكام الوسطى‘‘[115] میں فرماتے ہیں: ’’أجمعوا على أن أبا داود بن عمرو كان يضع الحديث‘‘. اس بات پر اجماع ہے کہ ابو داؤد بن عمرو حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ جوزقانی l نے ’’الأباطيل والمناكير‘‘[116] میں ایک حدیث کے تحت چند کذاب اور وضاع راویوں کو ذکر کیا ہے، جن میں ابو داؤد سلیمان بن عمرو نَخَعِی بھی موجود ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[117] میں فرماتے ہیں: ’’سليمان بن عمرو، أبو داود النَخَعِي الكذاب‘‘. سلیمان بن عمرو، ابوداؤد نَخَعِی کذاب ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے’’الكشف الحثيث‘‘[118] میں سلیمان بن عمرو کو ’’کذاب‘‘ کہہ کر امام احمد بن حنبل l، حافظ یحیی بن معین l، حافظ ابن حبان l، حافظ ابن عدی l، امام حاکم l اور حافظ شریکl کے اقوال ذکر کئے ہیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان‘‘[119] میں فرماتے ہیں: ’’الكلام فيه لا يحصر، فقد كذبه ونسبه إلى الوضع من المتقدمين والمتأخرين ممن نقل كلامهم في الجرح، أو ألفوا فيه فوق الثلاثين نفسا‘‘. میں (حافظ ابن حجر l) کہتا ہوں کہ اس پر کئے گئے کلام کا شمار کرنا ممکن نہیں، چنانچہ اس کو جھوٹا قرار دینے والے، اور وضع حدیث کی جانب منسوب کرنے والے متقدمین اور متاخرین میں سے تیس سے زائد ایسے افراد ہیں جن کا کلام جرح میں نقل کیا جاتا ہے، یا انہوں نے فن جرح پر کوئی تالیف کی ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[120] میں ابو داؤد سلیمان بن عمرو نَخَعِی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حجرعسقلانی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حوالہ جات
[84] امام بخاریl نے ’’التاریخ الصغیر‘‘میں سلیمان بن عمرو کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 19۱ھ سے 200ھ کے درمیان ہوا ہے۔ (التاريخ الصغير:2/244ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).
[85] الجرح والتعدیل:۴/۱۳۲،رقم:۵۷۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[86] سؤالات البرذعي:ص:240،رقم:423،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[87] لسان الميزان:۴/۱۶۶،رقم:۳۶۳۳،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[88] الجرح والتعدیل:۴/۱۳۲،رقم:۵۷۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[89] الجرح والتعدیل:۴/۱۳۲،رقم:۵۷۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[90] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:328،رقم:132،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[91] لسان الميزان:۴/۱۶۶،رقم:۳۶۳۳،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[92] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:1/401،رقم:2716،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[93] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:2/306،رقم:4967،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[94] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/51،رقم:9،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[95] الضعفاء الكبير:2/135،رقم:620،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[96] العلل ومعرفة الرجال:2/542،رقم:3569،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[97] مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهوية برواية المروزي:9/4631،رقم:3286،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱425هـ .
[98] التاريخ الكبير:۴/۴۶، رقم: ۱۸۵۳،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[99] الضعفاء الصغير:ص:55،رقم:144،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[100] التاريخ الصغير:2/266،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[101] الكنى و الأسماء:ص:302،رقم:1072،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[102] أحوال الرجال:ص:330،رقم:359،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[103] المعرفة والتاريخ:3/57،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[104] الضعفاء والمتروکین للنسائي:ص:۱۸۵،رقم:۲۴۷،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[105] المجروحين:1/۳۳۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[106] الكامل في الضعفاء:4/۲۲۰،رقم:۷۳۳،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[107] الكامل في الضعفاء:4/۲۲8،رقم:۷۳۳،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[108] الضعفاء والمتروکون:ص:۴۰۹،رقم:۶۱۴، ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[109] الأسامي والكنى:3/197،رقم:2310،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[110] الأسامي والكنى:3/197،رقم:2310،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[111] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۴۲،رقم:۷۰،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[112] سؤالات السجزي للحاكم:1/98،رقم:69،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الأولى1408هـ .
[113] معرفة الرجال عن يحيي بن معين:2/۲۴۵،رقم:۸۴۳ ،ت:محمد كامل القصار،مجمع اللغة العربية ـ دمشق، الطبعة1405هـ .
[114] الإستغناء في معرفة المشهورين:1/607،رقم:673،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .
[115] الأحكام الوسطى:3/134،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة ۱۴16هـ .
[116] الأباطيل والمناكير:1/4،رقم:3،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى1403هـ .
[117] ميزان الاعتدال:۲/۲۱۶،رقم:۳۴۹۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[118] الكشف الحثيث:ص:130،رقم:331،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[119] لسان الميزان:۴/۱۶۶،رقم:۳۶۳۳،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[120] تنزيه الشريعة:1/65، رقم:52،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .