اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص بازار سے کوئی عمدہ چیز اپنے بچوں کےلئے لائے تو پہلے بچیوں کو دے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابواسماعیل حماد بن عمرو نصیبی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ یحیی بن معین l حماد بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء‘‘[11] .
حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ممن يكذب، ويضع الحديث‘‘ [12] .یہ ان لوگوں میں ہےجو جھوٹ بولتےہیں اور حدیث گھڑتےہیں۔
حافظ ابو العباس احمد بن علی l فرماتے ہیں: ’’سألت مجاهدا وهو ابن موسى، عن حماد بن عمرو، فقال: ذهبت إليه كان يروي عن زيد بن رفيع، عن عبد الله في بيض النعام، فإذا هو قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: إنما هو عن عبد الله، وقلت له: أخرج إلي كتاب خصيف فأخرج إلي كتاب حصين، فإذا هو ليس يفصل بين خصيف وحصين فتركته‘‘[13].
میں نے مجاہد یعنی ابن موسی سے حماد بن عمرو کے بارے میں پوچھا، تو مجاہد نے کہا کہ میں اس کے پاس گیا، تو وہ زید بن رفیع، عن عبد اللہ (کے طریق) سے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں روایت کر رہا تھا، اچانک دیکھا کہ اس نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع کردیا، میں نے کہا: یہ تو صرف عبد اللہ سے ہے، اور ان سے مزید کہا کہ آپ میرے پاس خُصیف کی کتاب لائیں، تو وہ میرے پاس حُصین کی کتاب لے آیا، تو دیکھا کہ وہ خُصیف و حُصین کے مابین فرق نہیں کر سکتا، چنانچہ میں نے اسے ترک کردیا۔
حافظ ابو جعفر ابن عمار موصلی l فرماتے ہیں: ’’حدثني عبد الله بن عصمة النصيبي، واستشهد ابن زيد بن رفيع، فشهد له فذكر أن رجلا جاء إلى حماد بن عمرو بخمسين حديثا من حديث الأعمش، فرواها ولم يسمع منها حرفا.
وقال ابن عمار أيضا: أخبرني عبد الله بن عصمة النصيبي، واستشهد ابن زيد بن رفيع، فشهد أن حماد بن عمرو النصيبي أخذ كتاب زيد بن رفيع من عبد الحميد بن يوسف، ثم كان يرويه عن زيد بن رفيع، قال ابن عمار: وقد سمعت منه كثيرا، ولا أروي عنه، ولا أرى الرواية عنه، وأنا أعجب من ابن المبارك والمعافى حيث رويا عنه، ولم يكن يدري أيش الحديث‘‘[14].
مجھے عبد اللہ بن عصمہ نصیبی نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابن زید بن رفیع کو اس پر گواہ بنایا، تو ابن زید نے عبد اللہ بن عصمہ کے حق میں گواہی دی، (عبد اللہ بن عصمہ) ذکر کرتے ہیں کہ ایک شخص حماد بن عمرو کے پاس اعمش کی پچاس احادیث لایا،تو حماد نے ان کو روایت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اس نے ان میں ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔
نیز ابن عمار یہ بھی فرماتے ہیں: مجھے عبد اللہ بن عصمہ نصیبی نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابن زید بن رفیع کو اس پر گواہ بنایا، تو ابن زید نے عبد اللہ بن عصمہ کے حق میں گواہی دی، حماد بن عمرو نصیبی نے زید بن رفیع سے عبد الحمید بن یوسف کی کتاب لے کر اسے زید بن رفیع کے انتساب سے روایت کردیا، ابن عمار کا کہنا ہے کہ میں نے حماد بن عمرو سے بہت کچھ سنا ہے، لیکن میں اس سے روایت نہیں کرتا، اور نہ ہی اس سےروایت کی رائے رکھتا ہوں،اور مجھے ابن مبارک l اور معافی l پر تعجب ہے، کیونکہ یہ دونوں حماد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، حالانکہ وہ جانتا ہی نہیں تھا کہ حدیث کیا ہے۔
حافظ ابو حفص عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’حماد بن عمرو النصيبي متروك الحديث، ضعيف جدا، منكر الحديث‘‘[15] . حماد بن عمرو نصیبی متروک الحدیث، ضعیف جداًاور منکر الحدیث ہے۔
امام بخاری l نے ’’التاریخ الکبیر‘‘[16] میں حماد بن عمر وکو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l فرماتے ہیں: ’’ كان يكذب، لم يدع للحليم في نفسه منه هاجسا‘‘[17] . ’’یہ جھوٹ بولتا تھا۔۔ ۔‘‘۔
حافظ ابوزرعہ l نے حماد کو ’’واهي الحديث‘‘[18] کہا ہے۔
امام نسائی l نے اسے ’’متروک الحدیث‘‘[19] کہا ہے۔
حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[20] میں حماد بن عمرو کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے حماد بن عمرو کو ’’منکر الحدیث، ضعیف الحدیث جدا‘‘[21] کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l حماد بن عمرو کے بارے میں ’’المجروحین‘‘[22] میں لکھتے ہیں: ’’يضع الحديث وضعا على الثقات، روى عنه ابن كاسب، لا تحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب‘‘. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے خوب احادیث گھڑتا ہے،ابن کاسب نے اس سے روایت کی ہے، اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے سوائے تعجب کے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’وحماد بن عمرو هذا له أحاديث، وعامة حديثه ما لا يتابعه أحد من الثقات عليه‘‘.اور اس حماد بن عمرو کی احادیث ہیں،عام طور پر اس کی روایات کی ثقات میں سے کوئی بھی متابعت نہیں کرتا۔
حافظ ابو احمدحاکمl ’’الأسامي‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘.
حافظ دار قطنیl نے ’’ الضعفاء والمتروكون‘‘[25] میں حماد بن عمرو نصیبی کو ’’ضعفاء ومتروکین‘‘ راویوں میں شمار کیا ہے[26]۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl فرماتے ہیں: ’’يروي عن جماعة من الثقات أحاديث موضوعة ساقطة بمرة‘‘[27].یہ ثقات کی ایک جماعت کے انتساب سے من گھڑت، ساقط بمرہ احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن الثقات بالمناكير، لا شيء‘‘. یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر لاتا ہے، یہ لاشیء ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[29] میں فرماتے ہیں: ’’وحماد يكذب، ويضع الحديث‘‘. حماد جھوٹ بولتا ہے، اور حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ ابن جارودl حماد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، شبهُ لا شيء، لا يدري ما الحديث‘‘[30] . منکر الحدیث ہے، لا شیء جیسا ہے، جانتا نہیں کہ حدیث کیا ہے۔
حافظ ابو سعید نقاش l فرماتے ہیں: ’’يروي الموضوعات عن الثقات‘‘[31] . یہ ثقات کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔
حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’أجمع أهل النقل أنه متروك‘‘[32] .اہل نقل نے اس کے ’’متروک ‘‘ ہونے پر اجماع کیا ہے۔
علامہ صغانی l فرماتے ہیں: ’’وهو عند أئمة الحديث متروك، كذاب‘‘[33] .یہ محدثین کے نزدیک متروک، جھوٹا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[34] میں عبد اللہ بن ضرار کے ترجمہ میں حماد بن عمرو نصیبی کو ’’ ليس بثقة‘‘ کہہ کر زیر بحث روایت ذکر کی ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[35] میں حماد بن عمرو کو ’’متروك الحديث‘‘ اور ’’المقتنى‘‘[36] میں ’’واه‘‘ کہا ہے۔
اسی طرح حافظ ذہبی l ہی نے ’’تاريخ الإسلام‘‘[37] میں ایک حدیث کے تحت حماد بن عمرو کے بارے میں کہا ہے: ’’وكان يكذب‘‘. یہ جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وقد وصف أيضا بأنه كان يضع الحديث‘‘[38] . حماد بن عمرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث گھڑتا تھا۔
علامہ سیوطی l فرماتے ہیں: ’’حماد بن عمرو النصيبي كذاب وضاع، مشهور بالوضع‘‘[39] .حماد بن عمرو نصیبی جھوٹا، وضاع اور حدیث گھڑنے میں مشہور ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[40] میں حماد بن عمرو نصیبی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[11] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:90،رقم:228،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[12] الکامل فی الضعفاء:۳/۱۲،رقم: ۴۱۶،ت:محمد أنس مصطفى الحسن،الرسالة العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۳هـ . وانظر لسان الميزان:۳/۲۷5،رقم:۲۷۴۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب .
[13] تاريخ بغداد:8/149،رقم:4255،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1425هـ .
[14] تاريخ بغداد:8/1۵۰،رقم:4255،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1425هـ .
[15] تاريخ بغداد:8/1۵۰،رقم:4255،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1425هـ .
[16] التاريخ الكبير:۳/۳۲،رقم:۱۱۷،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[17] احوال الرجال:ص:305،رقم:326،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[18] سؤالات البرذعي:ص:116،رقم:110،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[19] الضعفاء والمتروكين:ص:83، رقم:138،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴05هـ .
[20] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/213،رقم:357،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1421هـ .
[21] الجرح والتعدیل:۳/۱۴۴،رقم:۶۳۴،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۳هـ .
[22] المجروحين:۱/۲۵۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[23] الکامل فی الضعفاء:۳/۱۲،رقم:۴۱۶،ت:محمد أنس مصطفى الحسن،الرسالة العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۳هـ..
[24] الأسامي والكنى:1/157،رقم:271،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1436هـ .
[25] الضعفاء والمتروکون:ص:۱۸۳،رقم:۱۶۴،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[26] حافظ ابو بکر برقانی l فرماتے ہیں: امام دار قطنی l ان اوراق (یعنی اس کتاب ) میں حروف معجم کی ترتیب پر اُن راویوں کو لے کر آئے ہیں جن کا ’’متروک‘‘ ہونا ہمارے اور امام دار قطنی l کے درمیان قرار پا یا ہے، حافظ ابو بکر برقانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ قال أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي البرقاني: طالت محاورتي مع أبو منصور إبراهيم بن الحسين بن حمكان، لأبي الحسن علي بن عمر الدارقطني عفا الله عني وعنهما في المتروكين من أصحاب الحديث، فتقرر بيننا وبينه على ترك من أثبته على حروف المعجم في هذه الورقات‘‘ (الضعفاء والمتروکون:ص:95،ت: موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ) .
[27] المدخل إلى الصحيح:ص:۱29،رقم:39،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[28] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:52،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ.
[29] ذخيرة الحفاظ:1/224،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .
[30] لسان الميزان:۳/۲۷۶،رقم:۲۷۴۱،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ حلب .
[31] لسان الميزان:۳/۲۷۶،رقم:۲۷۴۱،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب .
[32] انظر الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:1/234،رقم:1000،ت: أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[33] الموضوعات للصغاني:ص:28،ت:نجم عبد الرحمن خلف،دار نافع،الطبعة الأولى1401هـ .
[34] ميزان الاعتدال:۲/448،رقم:4391،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[35] ديوان الضعفاء:ص:101،رقم:1126،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة، الطبعة1387هـ .
[36] المقتنى في سرد الكنى:1/79،رقم:319،ت:محمد صالح عبد العزيز مراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[37] تاريخ الإسلام:۱/8۳۶ ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[38] نتائج الأفكار:1/260،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[39] الزيادات على الموضوعات:ص:112،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1431هـ .
[40] تنزيه الشريعة:1/55،رقم:56،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .