التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوالورقاء فائد بن عبدالرحمن

ایک روایت میں تذکرہ

ابوالورقاء فائد بن عبدالرحمن کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابوالورقاء فائد بن عبدالرحمن پر ائمہ حدیث کاکلام:

۱- عبداللہ بن احمد بن حنبلl فرماتے ہیں:

’’وکان في کتاب أبي... فلم یُحَدِّثْ أبي بهذین الحدیثین، ضَرَبَ علیهما مِنْ کتابِه، لأنَّه لم یَرْضَ حدیث فائدِ بن عبدالرحمن،وکان عنده متروکَ الحدیث‘‘[23].

میرے والد کی کتاب میں یہ حدیث تھی۔۔۔ پھر میرے والد (امام احمد بن حنبلl) نے یہ دونوں احادیث بیان نہیں کی، اور ان دونوں احادیث کو اپنی کتاب میں ذکر کرنے سے رک گئے تھے، کیونکہ وہ فائد بن عبد الرحمن (جو ان دونوں روایتوں کی سند میں ہے)کی حدیث سے راضی نہیں تھے، اور فائد بن عبد الرحمن، امام احمد بن حنبلlکے نزدیک ’’متروک‘‘ (شدید جرح) تھا۔

۲- حافظ ابن حجرl ’’إطْرَافُ المُسْنِد المُعتَلِي بأطراف المسند الحنبلي‘‘[24] میں مذکورہ حدیث اور عبداللہ بن احمد بن حنبلl کا کلام نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’...ولم یَسُقْ عبدُ اﷲ ذلک، وقد أورده الطَبَراني مِنْ طریق عیسی بن یونس عن فائد بِطُولِه‘‘.

’’۔۔۔ عبداللہ بن احمد بن حنبلl اس حدیث کو نہیں لائے، اور امام طَبَرانیl نے عیسی بن یونس عن فائد کے طریق سے اسے تفصیل سے تخریج کیا ہے‘‘۔

۳- حافظ ابن حِبّان l فرماتے ہیں :

’’ کان مِمَّنْ یَرْوِي عن المشاهیر ویأتي عن ابن أبي أوفی بالمُعْضَلاَت، لا یَجُوزُ الإحْتِجَاجُ به‘‘[25].

فائد بن عبدالرحمن ان لوگوں میں ہے جو مشاہیرسے روایتیں نقل کرتے تھے، اور وہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مُعضَل (جس سند میں دو یا اس سے زائد راوی گرے ہوں) روایتیں بیان کرتے تھے، فائد کے ذریعے احتجاج جائز نہیں ہے۔

۴- امام بخاری l لکھتے ہیں:

’’مُنْکَر الحدیث‘‘[26].

فائد بن عبدالرحمن ’’مُنْکَر الحدیث‘‘ ہے (امام بخاری l یہ لفظ اکثر شدید جرح کےلئے استعمال کرتے ہیں)۔

امام بخاریl نے ’’التاریخ الأوسط‘‘ فائد کے بارے میں ’’لا یتابع في حدیثه‘‘. (یعنی ان کی احادیث کی متابعت نہیں ہوتی) کہا ہے (۲/۷۲،دار المعرفة ـ بیروت)۔ اسی طرح ایک مقام پر ’’عنده مناکیر‘‘ بھی کہا ہے (۲/۱۳۲)۔

۵- حافظ یحیی بن مَعِین lفرماتے ہیں:

’’أ بو الورقاء، اسمه فائد، لیس بثقة ولیس بشيء‘‘[27].

ابو الورقاء کا نام فائد ہے، جو ’’لیس بِثِقَة‘‘ (کلمہ جرح) اور ’’لیس بِشَيء‘‘ (کلمہ جرح) ہے۔

حافظ ابن معینl نے ایک دوسرے مقام پر فائد کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے (الکامل:7/138،رقم:1572)۔

۶- امام عبدالرحمن بن ابی حاتم l فرماتے ہیں:

’’سَمِعْتُ أبي، وأبا زُرْعَة یقولان: فائد أبو الورقاء لا یُشْتَغَلُ به، سَمِعْتُ أبي یقول: فائد ذاهبُ الحدیث، لا یُکْتَبُ حدیثُه … وأحادیثُه عن ابن أبي أوفى بَوَاطِیل لاتکادُ تری لها أصلاً، کأنه لا یُشْبِهُ حدیثَ ابن أبي أوفى، ولو أنَّ رجلاً حَلَفَ أنَّ عامَّةَ حَدِیثِه کِذْبٌ لم یَحْنَث‘‘[28].

میں نے اپنے والد( ابو حاتم l) اور ابو زُرعہl کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ: ’’لا یُشْتَغَلُ به‘‘ (کلمہ جرح)، عبدالرحمن بن ابی حاتم l فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سُنا: فائد ’’ذاهب الحدیث‘‘ (کلمہ جرح) ہے، ان سے احادیث نہ لکھی جائے ۔۔۔ اور فائد کی ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول اَحادیث باطل ہیں،قریب نہیں ہے کہ آپ کو اِن احادیث کی کوئی اصل دکھائی دے، گویا کہ فائد کی عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول احادیث، عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی احادیث کے مشابہ نہیں ہیں، اگر کوئی شخص قسم کھا کر یہ کہے کہ فائد کی اکثر احادیث جھوٹی ہیں تو وہ حانث نہیں ہوگا۔

۷- حافظ عُقَیلی l فرماتے ہیں :

’’حدَّثنا محمد بن أیوب،قال: وسَمِعْتُ مسلمَ بن إبراهیم، سألتُه عن حدیثٍ لِفَائد أبي الورقاء فقال: دخلتُ علیه، وجاریتُه تَضْرِبُ بین یدیہ بالعُودِ، قلتُ لیحیی: فلم کتبتَ عنه؟ قال:لِمَ کَتَبَ عنه حمَّادُ بن سلمة‘‘[29].

محمد بن ایوب نے ہمیں بیان کیا ہے کہ میں نے مسلم بن ابراہیم کو سنا، اور ان سے فائد ابوالورقاء کی احادیث کے بارے میں پوچھا،تو مسلم نے بتایا کہ میں فائد ابوالورقاء کے پاس گیا،تو دیکھا کہ اس کے سامنے ان کی باندی سارنگی بجا رہی تھی،محمد بن ایوب l فرماتے ہیں کہ میں نے یحیی سے کہا [میرا گمان ہے کہ یہ لفظ مسلم ہے، اَز راقم الحروف، واللہ اعلم] آپ نے پھر ان سے روایتیں کیوں لکھی ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ حماد بن سلمہ نے ان سے کیوں روایتیں نقل کی ہیں؟۔

۸- امام حاکم نیشابوری l فرماتے ہیں :

’’یَرْوِي عن ابن أبي أوفی أحادیث موضوعة، روى عنه عیسی بن یونس وغیره‘‘.[30]

ابن ابی اوفی سے فائد من گھڑت روایتیں نقل کرتا تھا،فائد سے عیسی بن یونس وغیرہ نے احادیث نقل کی ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ حاکم l نے ’’مستدرک‘‘ میں فائد کو ’’مستقیم الحدِیث‘‘ کہا ہے (رقم: ۱۱۹۹)۔

۹- حافظ ابن عَدِی l فرماتے ہیں:

’’وهو مع ضُعْفِه یُکْتَبُ حدیثُه‘‘.[31]

فائد کی احادیث ان کے ضعیف ہونے کے باوجود لکھی جائیں گی۔

۱۰- حافظ ابن حجر l فرماتے ہیں:

’’متروکُ اتَّهَمُوه ... ت ق‘‘. فائد ’’متروک‘‘ (شدید جرح) ہے، محدثین نے فائد کو متہم قرار دیا ہے ۔۔۔ ترمذیl اور ابن ماجہl نے فائد کی حدیث تخریج کی ہے[32]۔

حوالہ جات

[23] مسند أحمد:6/564،رقم:19631،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴19هـ .

[24] إطراف المسند المعتلي:فائد أبو الورقا:3/325،رقم:4027،ت:زهـیر بن ناصر،دار ابن کثیر ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴۱۴هـ .

[25] المجروحين:باب الفاء:2/203،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[26] التاريخ الكبير:باب الفاء:7/23،رقم:9934،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة  الثاني1419هـ .

[27] الجرح والتعدیل:باب الفاء:7/112،رقم:12020،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعةالأولى۱422هـ .

[28] الجرح والتعدیل:باب الفاء:7/111،رقم:12020،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعةالأولى۱422هـ .

[29] الضعفاء الكبير:فائد بن عبد الرحمن،3/460،رقم:1516،ت:الدكتور عبد المعطی،دار الکتب العلمية ـ بيروت .

[30] المدخل إلى الصحيح:184،رقم:155،ت:د ـ ربيع هادي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[31] الكامل في الضعفاء:7/139،رقم:1572،الشيخ عادل والشيخ علي محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[32] التقريب:ص:444 ،رقم:5373،ت:شيخ محمد عوامة،دار الرشيد ـ سؤريا،الطبعة الرابعة1418هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ