ابو عبد الرحمٰن محمد بن سعید بن ابی قیس ازدی شامی مصلوب کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام
امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’ كان صلب، متروك الحديث، قتل في الزندقة‘‘[13]. اسے سولی دی گئی تھی، یہ متروک الحدیث ہے، زندیق ہونے کے جرم میں قتل کیا گیاتھا۔
امام مسلم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديثا ويقال: صلب في الزندقة‘‘[14]. یہ متروک الحدیث ہے، اور کہا جاتا ہے کہ اسے زندیق ہونے کے جرم میں سولی دی گئی تھی۔
حافظ سفیان ثوری l اور امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’ كذاب‘‘[15] یہ کذاب ہے۔
امام احمد بن حنبل l یہ بھی فرماتے ہیں: ’’عمدا کان یضع الحدیث‘‘[16]. یہ جان بوجھ کر حدیث گھڑتا تھا۔
نیز وہ یہ بھی فرماتے ہیں: ’’صلبه أبو جعفر على الزندقة‘‘[17]. ابو جعفر نے زندیق ہونے کے جرم میں اسے سولی دی تھی۔
امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’والكذابون المعروفون بوضع الحديث: ابن أبي يحيى بالمدينة، والواقدي ببغداد، ومقاتل بن سليمان بخراسان، ومحمد بن سعيد بالشام‘‘[18]. کذابین جو کہ حدیثیں گھڑنے میں مشہور ہیں، وہ یہ ہیں: ابن ابی یحیی مدینہ میں،اور واقدی بغداد میں،اور مقاتل بن سلیمان خراسان میں، اور محمد بن سعید شام میں۔
نیز امام نسائی l یہ بھی فرماتے ہیں: ’’هو غير ثقة ولا مأمون، وقال مرة: كذاب...‘‘[19]. ’’ ثقہ نہیں ہے اور نہ ہی مامون ہے، اور ایک مرتبہ فرمایا: یہ جھوٹا ہے۔۔۔ ‘‘۔
حافظ عمرو بن علی l فرماتے ہیں: ’’أن محمد بن سعيد الأزدي يحدث بأحاديث موضوعة‘‘[20]. بےشک محمد بن سعید ازدی من گھڑت احادیث بیان کرتا ہے۔
حافظ خالد بن یزید ازدی l فرماتے ہیں: ’’سمعت محمد بن سعيد الأزدي، يقول: إذا كان الكلام حسنا لم أر بأسا أن أجعل له إسنادا ‘‘[21]. میں نے محمد بن سعید ازدی کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی کلام اچھا ہوتا ہے تو میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ میں اس کی ایک سند بنا لوں۔
امام ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’محمد بن سعيد قتله أبو جعفر في الزندقة، حدث بحديث موضوع‘‘[22]. محمد بن سعید کو ابو جعفر نے زندیق ہونے کے جرم میں قتل کیاتھا، یہ من گھڑت روایات بیان کرتا تھا۔
حافظ ابو زرعہ l فرماتے ہیں: ’’صلب في الزندقة، وهو متروك الحديث‘‘[23]. اسے زندیق ہونے کے جرم میں سولی دی گئی،اور یہ متروک الحدیث ہے۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’محمد بن سعيد الشامي منكر الحديث‘‘[24]. محمد بن سعید شامی منکر الحدیث ہے۔
نیز حافظ یحیی بن معینl یہ بھی کہتے ہیں: ’’وليس كما قالوا: صلب في الزندقة، لكنه منكر الحديث‘‘[25].یہ جو کہا جاتا ہے کہ اسے زندیق ہونے کے جرم میں سولی دی گئی تھی، یہ درست نہیں، البتہ یہ منکر الحدیث ہے۔
امام دار قطنی l نے اسے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔[26]
حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’وكان محمد بن سعيد هذا يضع الحديث على الثقات، ويروي عن الأثبات ما لا أصل له، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه، ولا الرواية عنه بحال من الأحوال‘‘[27]. اور یہ محمد بن سعید ثقہ لوگوں کے انتساب سے احادیث گھڑتا تھا، اور ثبت لوگوں کے انتساب سے ایسی روایتیں بیان کرتا تھا جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی تھی، اس کا ذکر کرنا کتب میں حلال نہیں ہے مگر اس پر جرح کو بیان کرنے کےلئے، اور کسی بھی حالت میں اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔
حافظ ابو احمد حاکمl فرماتے ہیں: ’’ کان یضع الحدیث‘‘ [28] .یہ حدیث گھڑتا تھا۔
امام حاکم l فرماتے ہیں: ’’... فمنهم قوم من الزنادقة، مثل المغيرة بن سعيد الكوفي، وأبي عبد الرحيم الكوفي، ومحمد بن سعيد الشامى المصلوب في الزنادقة، تشبهوا بالعلماء، فوضعوا الأحاديث، وحدثوا بها ليوقعوا في قلوبهم الشك...‘‘[29]. ’’۔۔۔ ان میں سے زنادقہ کی ایک قوم ہے، جیسے:مغیرہ بن سعید کوفی اور ابو عبد الرحیم کوفی ہے، اور محمد بن سعید شامی ہے جسے زندیق ہونے کے جرم میں سولی دی گئی، یہ لوگ علماء کی مشابہت اختیار کرکے احادیث گھڑتے تھے، اور انہیں بیان کرتے تھے تاکہ اس کی وجہ سے وہ لوگوں کے دلوں میں شک پیدا کریں۔۔۔‘‘۔
حافظ سعدی l فرماتے ہیں: ’’محمد بن سعيد بن أبي قيس مكشوف الأمر، هالك‘‘[30]. محمد بن سعید بن ابی قیس کا معاملہ واضح ہے، یہ ہالک ہے۔
حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن سعيد غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه‘‘ [31]. اور محمد بن سعید کی جو روایات میں نے ذکر کی ہیں، ان کے علاوہ بھی اس کی روایات ہیں، اور اکثر جو یہ روایت کرتا ہے اس پر اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’شامي من أهل دمشق، هالك، اتهم بالزندقة، فصلب، والله أعلم، وكان من أصحاب مكحول‘‘ [32] . یہ ملک شام میں دمشق شہر کا رہنے والا ہے، ہالک ہے، اس پر زندیق ہونے کا اتہام ہے، اور اسے اسی بناپر سولی دی گئی تھی، واللہ اعلم، نیز یہ مکحول کے اصحاب میں سے ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[33]میں محمد بن سعید دمشقی مصلوب کو وضاعین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’ كذاب، صلب في الزندقة‘‘. یہ جھوٹا ہے، زندیق ہونے کے جرم میں سولی دیا گیا۔
حوالہ جات
[13] التاريخ الكبير:1/97،رقم:257،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .
[14] الكنى والأسماء لمسلم:1/525،رقم:2092،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة 1404هـ .
[15] ميزان الاعتدال:3/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[16] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[17] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[18] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[19] تاريخ الإسلام:3/962،رقم:380،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 2003ء .
[20] الجرح التعديل:7/263،رقم:1436،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[21] الجرح التعديل:7/263،رقم:1436،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[22] الجرح التعديل:7/262،رقم:1436،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[23] الجرح التعديل:7/263،رقم:1436،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[24] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة1382هـ .
[25] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[26] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[27] المجروحين:۲/248،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .
[28] ميزان الاعتدال:۳/۵۶۲،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[29] المدخل إلى كتاب الإكليل:ص:51،ت:فواد عبد المنعم أحمد،دار الدعوةـ الإسكندرية .
[30] الكامل في ضعفاء الرجال:7/318،رقم:1641،ت:عادل أحمدعبدالموجود،وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[31] الكامل في ضعفاء الرجال:7/321،رقم:1641،ت:عادل أحمدعبدالموجود،وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[32] ميزان الاعتدال:۳/ ۵۶۱،رقم:۷۵۹۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[33] تنزيه الشريعة:1/105،رقم:129،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴01هـ .