اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لا تنظروا في صغر الذنوب، ولكن انظروا على من اجترأتم‘‘. گناہوں کے چھوٹا ہونے کو نہیں دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نے کس کے سامنے گناہ کرنے کی جرأت کی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی قاسم بن ابراہیم مَلَطِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام دار قطنی l ’’الضعفاء‘‘[136] میں قاسم بن ابراہیم مَلَطِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يكذب‘‘. جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ عبد الغنی بن سعید l فرماتے ہیں: ’’ليس في المَلَطِيين ثقة‘‘[137]. مَلَطِیوں میں کوئی بھی ثقہ نہیں ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[138] میں قاسم بن ابراہیم مَلَطِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان كذابا، أفاكا، يضع الحديث، روى عنه الغرباء، عن أبي أمية المبارك بن عبد الله، وعن لوين، عن مالك عجائب من الأباطيل‘‘. کذاب، افاک ہے، حدیث گھڑتا ہے، اس سے غرباء نے روایت کیا ہے، یہ ابی امیہ مبارک بن عبد اللہ، اور لوین کے طریق سے مالک l کے انتساب سے باطل روایات میں سے عجائب روایت کرتا ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[139] میں حسین بن علی حلَبی کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت قاسم مَلَطِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان يضع الحديث‘‘. اور وہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[140] میں مَلَطِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أتى بطامة لا تطاق‘‘. ایسی ’’طامات‘‘لاتا ہے جن کا تحمل نہیں کیا جاسکتا۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[141] میں ایک روایت کے تحت قاسم بن ابراہیم کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ سیوطی l نے ایک روایت کے تحت مَلَطِی کو ’’اللآلئ‘‘[142] میں ’’ليس بثقة‘‘ اور ’’الزيادات‘‘[143] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[144] میں قاسم بن ابراہیم مَلَطِی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال الدار قطني: كذاب‘‘. دار قطنی l نے کہا ہے کہ یہ کذاب ہے۔
حوالہ جات
[136] الضعفاء والمتروکون:ص:328،رقم:439،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[137] تاريخ بغداد:۱۴/۴۵۶،رقم:۶۸۷۳،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[138] تاريخ بغداد:14/454،رقم:6873،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[139] تاريخ بغداد:۸/۶۳۱،رقم:۴۱۱۰،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[140] ميزان الاعتدال:3/367،رقم:9790،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .
[141] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۲۱،رقم:۱۰،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[142] اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:1/221،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة، دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۷هـ .
[143] الزيادات على الموضوعات:۲/۵۳۱،رقم:۶۳۹،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[144] تنزيه الشريعة:1/۹۷،رقم:۱،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .