اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لا تنظروا في صغر الذنوب، ولكن انظروا على من اجترأتم‘‘. گناہوں کے چھوٹا ہونے کو نہیں دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نے کس کے سامنے گناہ کرنے کی جرأت کی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی غالب بن عبید اللہ جزری عقیلی (المتوفی ۱۳۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ محمد بن عبد اللہ مخرمی l فرماتے ہیں: ’’سمعت وكيع يقول: رأيت غالب بن عبيد الله يطوف بالبيت، فذكر من هيئته وخضابه، قال: فسألته عن حديث، فقال: حدثنا سعيد بن المسيب وسليمان الأعمش فتركته‘‘[7]. میں نے وکیع l سے سنا وہ فرماتے ہیں: میں نے غالب بن عبید اللہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، پھر وکیع l نے اس کی ہیئت اور خضاب لگانے کو ذکر کرکے فرمایا: میں نے اس سے کسی حدیث کے متعلق پوچھا، تو اس نے نے کہا: ’’حدثنا سعید بن مسیب وسلیمان الاعمش‘‘،سو میں نے اس کو ترک کردیا۔
حافظ ہیثم بن خارجہ l ، غالب بن عبید اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا في الحديث‘‘[8]. اور یہ حدیث میں ضعیف تھا۔
حافظ ابن سعد l ’’الطبقات‘‘[9] میں فرماتے ہیں: ’’كان ضعيفا، ليس بذاك‘‘. یہ ضعیف، ’’لیس بذاک‘‘تھا۔
علامہ خلیفہ بن موسی l فرماتے ہیں: ’’دخلت على غالب بن عبيد الله، فجعل يملي علي: حدثني مكحول، حدثني مكحول، فأخذه البول، فقام، فنظرت في الكراسة، فإذا فيها حدثني أبان، عن أنس، وأبان عن فلان، فتركته، وقمت‘‘[10]. میں غالب بن عبید اللہ کے پاس گیا، تو وہ مجھے املاء کروانے لگا: ’’حدثنی مکحول‘‘، ’’حدثنی مکحول‘‘، اچانک اس کو پیشاب کی ضرورت پیش آئی، تو وہ اٹھ کے چلا گیا، میں نے اس کی کتاب میں دیکھا، تو اس میں یوں تھا، ’’حدثنی ابان، عن انس، وابان عن فلان‘‘، سو میں نے اس کو ترک کردیا، اور اٹھ کر چلا گیا۔
حافظ یحیی بن معین l نے غالب بن عبید اللہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[11]۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر غالب بن عبید اللہ کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[12]۔
امام علی بن مدینی l ، غالب بن عبید اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان ضعيفا، ليس بشيء‘‘[13]. یہ ضعیف، لیس بشیء تھا۔
امام علی بن مدینی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ما كتبت منذ صغري إلى الآن من حديثه شيئا‘‘[14]. میں نے اس کی حدیث میں سے بچپن سے لے کر اب تک کچھ نہیں لکھا۔
امام احمد بن حنبل l نے ’’العلل‘‘[15] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔
حافظ برقی l فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[16]. اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔
امام بخاری l نے غالب بن عبید اللہ کو ’’التاريخ الكبير‘‘[17]، ’’التاريخ الصغير‘‘[18] اور ’’الضعفاء‘‘[19] میں ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[20] میں غالب بن عبید اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’غير مقنع في الحديث‘‘. حدیث میں ’’غیر مقنع‘‘ ہے۔
امام ابو داؤد l نے غالب بن عبید اللہ کو ’’ ليس بشيء‘‘ کہا ہے[21]۔
امام ابو حاتم l نے غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك الحديث، منكر الحديث‘‘ کہا ہے[22]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوی l ’’المعرفة والتاريخ‘‘[23] میں غالب بن عبید اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، متروك الحديث، لا يكتب حديثه، ولا يروي عنه أهل العلم، إنما يروي عنه أهل الغفلة، فأما عقلاء أهل العلم، فلا يعبأون بحديثه‘‘. ضعیف ہے، متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی، اہل علم اس سے روایت نہیں کرتے، اس سے اہل غفلت روایت کرتے ہیں، چنانچہ عقل مند اہل علم اس کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[24] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[25]. لیس بثقہ ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے غالب بن عبید اللہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[26]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’كان ممن يروي المعضلات عن الثقات، حتى ربما سبق إلى القلب أنه كان المتعمد لها، لا يجوز الاحتجاج بخبره بحال‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں کے انتساب سے معضلات روایت کرتے ہیں، حتی کہ دل میں یہ بات سبقت کرگئی کہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے، اس کی خبر سے کسی بھی حال میں احتجاج جائز نہیں ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[28] میں غالب بن عبید اللہ کے ترجمہ میں چند روایتیں ذکرکے فرماتے ہیں: ’’ولغالب غير ما ذكرت، وله أحاديث منكرة المتن، مما لم أذكره‘‘. اور غالب کی میری ذکرکردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں جو منکر المتن ہیں، جن کو میں نے ذکر نہیں کیا۔
حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، لا يحل أن يروى عنه الحديث‘‘[29]. متروک الحدیث ہے، اس سے حدیث روایت کرنا حلال نہیں ہے۔
حافظ دار قطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[30] میں غالب بن عبید اللہ جزری عقیلی کو ’’ضعفاء ومتروکین‘‘راویوں میں ذکر کیا ہے۔
امام بیہقی l نے ’’معرفة السنن‘‘[31] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقی l ہی ’’الخلافيات‘‘[32] میں فرماتے ہیں: ’’وفي حديثه من المناكير ما لا يحصى‘‘. اور اس کی احادیث میں بےشمار منکر احادیث ہیں۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l نے اسے ’’ساقط الحديث‘‘ کہا ہے[33]۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا‘‘. اور یہ ضعیف تھا۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘ میں ایک روایت کے تحت غالب بن عبید اللہ کو ایک مقام پر ’’ليس بثقة‘‘[35] اور دوسرے مقام پر ’’ضعيف، ليس بشيء‘‘[36] کہا ہے۔
حافظ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الوسطى‘‘[37] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[38] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عبد الہادی حنبلی l’’تنقيح التحقيق‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’وغالب بن عبيد الله ليس بثقة، ولا مأمون، بل هو مجمع على ترك الاحتجاج به‘‘. اور غالب بن عبید اللہ ’’لیس بثقۃ ولا مأمون‘‘ ہے، بلکہ اس سے احتجاج کے ترک پر اجماع ہے۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[40] اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اس کو ترک کردیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[42] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ علائی l نے ’’جامع التحصيل‘‘[43] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ملقن l ’’البدر المنير‘‘[44] میں غالب بن عبید اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
نیز حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[45] میں ایک دوسرے مقام پر ایک روایت کے تحت غالب بن عبید اللہ کو ’’ضعيف بمرة‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[46] میں ایک روایت کے تحت غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ دمیری l نے ’’حياة الحيوان‘‘[47] میں غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[48] میں ایک روایت کے تحت غالب بن عبید اللہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[7] انظرالضعفاء الكبير:۳/431،رقم:1474،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[8] انظرالضعفاء الكبير:۳/431،رقم:1474،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[9] الطبقات الكبرى:7/۳۳۵،رقم:۳۹۶۵،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1418هـ .
[10] الصحيح لمسلم:1/18،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
[11] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۲/330،رقم:5118،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[12] انظرالكامل في ضعفاء الرجال:7/109،رقم:1551،ت:عادل أحمد,وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[13] سؤالات ابن أبي شيبة:ص:173،رقم:۲55،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .
[14] انظرالجرح والتعدیل:7/48،رقم:272،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[15] العلل ومعرفة الرجال:۱/159،رقم:277،ت:وصي الله بن محمد عباس،الدار السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1408هـ .
[16] انظرلسان المیزان:6/299،رقم:5978،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[17] التاريخ الكبير:6/404،رقم:9790،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[18] التاريخ الصغير:2/۱۳۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[19] الضعفاء الصغير:ص:96،رقم:291،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[20] أحوال الرجال:ص:306،رقم:327،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان،الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[21] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/270،رقم:1815،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[22] الجرح والتعدیل:7/48،رقم:272،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[23] المعرفة والتاريخ:2/437،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[24] الضعفاء والمتروكين:ص:19۵،رقم:5۰۸،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[25] انظرلسان المیزان:6/299،رقم:5978،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[26] انظرلسان المیزان:6/299،رقم:5978،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .
[27] المجروحين:2/201،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[28] الكامل في ضعفاء الرجال:7/110،رقم:1551،ت:عادل أحمد,عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[29] انظر الضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:۲/245،رقم:2672،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[30] الضعفاء والمتروکون:ص:۳۲۳،رقم:۴۲۸،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[31] معرفة السنن والآثار:۱/۳۸۳،رقم:۹۹۶،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار قتيبة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1411هـ .
[32] الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه:۱/۲۸۹،رقم:۴۶۲،الروضة للنشر والتوزيع ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .
[33] سؤالات السجزي للحاكم:ص:218،رقم:280،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1408هـ .
[34] تاريخ بغداد:15/647،رقم:7283،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[35] ذخيرةالحفاظ:ص:800 ،رقم:1544،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[36] ذخيرةالحفاظ:ص:1296،رقم:2794،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[37] الأحكام الوسطى من جديث النبي صلى الله عليه وسلم:۴/۱۲۳،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي، مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .
[38] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/243،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[39] تنقيح التحقيق: في أحاديث التعليق5/54،رقم:3234،ت:سامي بن محمد بن جاد الله وعبد العزيز بن ناصر الخياني، دار أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴28هـ .
[40] المغني في الضعفاء:2/177،رقم:4855،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى 1418هـ .
[41] ديوان الضعفاء:ص:314،رقم:3318،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[42] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:2/317،رقم:773،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي عجيب،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .
[43] جامع التحصیل في أحكام المراسيل:ص:306،رقم:938،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الثانية1407هـ .
[44] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:۵/۴۶۱،ت:أحمد بن سلمان بن أيوب،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[45] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:9/500،ت:أحمد بن سلمان بن أيوب،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[46] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۳/۲۱۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[47] حياة الحيوان الكبرى:1/462،ت:أحمد حسن بسج،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[48] التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:4/428،رقم:2060،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .