التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابویوسف مجاشع بن عمروبن حسان اسدی

3 روایات میں تذکرہ

ابویوسف مجاشع بن عمروبن حسان اسدی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابویوسف مجاشع بن عمروبن حسان اسدی کے بارے میں  ائمہ کا کلام

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’منكر، مجهول‘‘[18].

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’قد رأيت (مُجاشع) هذا، كان يكذب، وكان يحدث‘‘[19]. میں نے اسے دیکھا ہے، یہ جھوٹ بولتا تھا، اور حدیث بیان کرتا تھا۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، ضعيف، ليس بشيء‘‘[20]. متروک الحدیث، ضعیف، لیس بشیء ہے۔

حافظ ازدی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب دامر، لاتحل الرواية عنه‘‘[21]. یہ جھوٹا، تباہ کن ہے، اس سے روایت کرنا  حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[22]  میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات، ويروي الموضوعات عن أقوام ثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه، ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار للخواص‘‘.

  یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ لوگوں کے انتساب سے حدیث گھڑتےتھے، اور ثقہ لوگوں کےانتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے تھے، اس کا کتابوں میں ذکر کرنا صرف اس کی مذمت بیان کرنے کی صورت میں ہی حلال ہے، اسی طرح اس سے روایت کرنا بھی حلال نہیں ہے، مگر خواص کےلئے اعتبار کے طور پر۔

حافظ مقدسی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[23] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’المغنی‘‘[24] میں حافظ ابن حبان l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاءکیا ہے۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه منكر، غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث منکر، غیر محفوظ ہے۔

اس کے بعد حافظ عقیلی l نے حافظ یحیی بن معین l کا قول اور زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔

حافظ دار قطنی l مجاشع کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’بقية بن الوليد يروي عن قوم متروكين، مثل: مُجاشع بن عمرو‘‘[26] . بقیہ بن ولید ایک ایسی قوم سے روایت کرتا ہے جوکہ متروک ہے، جیسے: مُجاشع بن عمرو۔

امام ابو احمد حاکم l نے مجاشع کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے[27]۔

حافظ ابونعیم l ’’حلية الأولياء‘‘[28] میں ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وليس محمد بن سعيد ولا مُجاشع ممن يعتمد على روايتهما ومفاريدهما‘‘. محمد بن سعید اور مجاشع ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی روایتوں اور مفارید پر اعتماد کیا جاسکے۔

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘[29] میں مجاشع کی ایک من گھڑت روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذا موضوع، ومُجاشع هو راوي كتاب الأهوال والقيامة، وهو جزءان، كله خبر واحد موضوع‘‘. یہ من گھڑت ہے، اور مجاشع کتاب  ’’الاہوال والقیامۃ ‘‘ کا راوی ہے، اور اس کتاب کے دو اجزاء  ہیں، اور یہ دونوں اجزاء مکمل صرف ایک خبر پر مشتمل ہیں جو کہ من گھڑت ہے۔

علامہ سِبْط ابن العجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[30] میں لکھتے ہیں: ’’قال ابن حبان: كان يضع الحديث على الثقات، ثم إني رأيت في تلخيص المستدرك حديثا في مناقب معاذ بن جبل، قال الحاكم: غريب حسن، قال الذهبي في تلخيصه: ذا من وضع مُجاشع، انتهى‘‘.

ابن حبان l فرماتے ہیں کہ یہ ثقات پر حدیث گھڑتا تھا، (علامہ سِبْط ابن العجمیl فرماتے ہیں) پھر میں نے  ’’تلخیص المستدرک‘‘ میں معاذ بن جبلr کے مناقب میں ایک حدیث دیکھی، جسے حاکم l نے ’’غریب حسن‘‘  کہا ہے، اور ذہبی l اس کی تلخیص میں فرماتے ہیں کہ یہ مجاشع کی گھڑی ہوئی روایت ہے، انتہی۔

علامہ ابن عراق l نے مجاشع بن عمرو کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کرکے حافظ یحیی بن معین l اور حافظ ابن حبان l  کا قول نقل  کیا ہے[31]۔ 

حوالہ جات

[18] ميزان الاعتدال:۳/ ۴۳۶،رقم:۷۰۶۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[19] معرفة الرجال:1/62،رقم:100،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .

[20] الجرح والتعدیل:۸ /۳۹۰،رقم:۱۷۸۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[21] الضعفاء والمتروكين:3/35،رقم:2847،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[22] المجروحين:۳/۱۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعةالأولى1۴۱۲هـ .

[23] تذكرةالحفاظ:ص:158،رقم:271،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[24] المغني في الضعفاء:2/۲۴۶،رقم:۵۱۷۹،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ . 

[25] الضعفاء الكبير:۴/۲۶۴،رقم:۱۸۶۹،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[26] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:۱۴۴،رقم:۹۶،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى، مكتبة الملك فهد  الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .

[27] لسان الميزان:۶/۴۶۲،رقم:۶۳۰۶،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامیة ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[28] حلية الأولياء:1/244،دار الفكر ـ  بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[29] ميزان الاعتدال:3/437،رقم:7066،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .  

[30] الكشف الحثيث:ص:214،رقم:600،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[31] تنزيه الشريعة:۱/۹۹ ،رقم:۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .   

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابویوسف مجاشع بن عمروبن حسان اسدی کے بارے میں  ائمہ کا کلام

امام بخاری l نے مجاشع بن عمرو کو ’’منكر، مجهول‘‘ کہا ہے[15]۔

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’قد رأيت (مُجاشع) هذا، كان يكذب، وكان يحدث‘‘[16]. میں نے مجاشع کو دیکھا ہے، یہ جھوٹ بولتا تھا، اور حدیث بیان کرتا تھا۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، ضعيف، ليس بشيء‘‘[17]. متروک الحدیث، ضعیف، لیس بشیء ہے۔

حافظ ازدی l فرماتے ہیں: ’’ كذاب دامر، لاتحل الرواية عنه‘‘[18]. یہ جھوٹا، تباہ کن ہے، اس سے روایت کرنا  حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[19]  میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات، ويروي الموضوعات عن أقوام ثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه، ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار للخواص‘‘.

 یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ لوگوں کے انتساب سے حدیث گھڑتےتھے، اور ثقہ لوگوں کےانتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے تھے، اس کا کتابوں میں ذکر کرنا صرف اس کی مذمت بیان کرنے کی صورت میں ہی حلال ہے، اسی طرح اس سے روایت کرنا بھی حلال نہیں ہے، مگر خواص کےلئے اعتبار کے طور پر۔

حافظ مقدسی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[20] میں اور حافظ ذہبی l نے ’’المغنی‘‘[21] میں حافظ ابن حبان l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاءکیا ہے۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه منكر، غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث منکر، غیر محفوظ ہے۔

اس کے بعد حافظ عقیلی l نے حافظ یحیی بن معین l کا قول اور زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔

حافظ دار قطنی l مجاشع کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’بقية بن الوليد يروي عن قوم متروكين، مثل: مُجاشع بن عمرو‘‘[23] . بقیہ بن ولید ایک ایسی قوم سے روایت کرتا ہے جوکہ متروک ہے، جیسے: مُجاشع بن عمرو۔

امام ابو احمد حاکم l نے مجاشع کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے[24]۔

حافظ ابونعیم l ’’حلية الأولياء‘‘[25] میں ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وليس محمد بن سعيد ولا مُجاشع ممن يعتمد على روايتهما ومفاريدهما‘‘. محمد بن سعید اور مجاشع ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی روایتوں اور مفارید پر اعتماد کیا جاسکے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[26] میں ایک حدیث کے تحت مجاشع بن عمرو کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’اتحاف المهرة‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت مجاشع کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مُجاشع كذبه يحيى بن معين‘‘. مجاشع کو یحیی بن معین l نے کذاب کہا ہے۔

علامہ سِبْط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[28] میں لکھتے ہیں: ’’قال ابن حبان: كان يضع الحديث على الثقات، ثم إني رأيت في تلخيص المستدرك حديثا في مناقب معاذ بن جبل، قال الحاكم: غريب حسن، قال الذهبي في تلخيصه: ذا من وضع مُجاشع، انتهى‘‘.

ابن حبان l فرماتے ہیں کہ یہ ثقات پر حدیث گھڑتا تھا، (علامہ سِبْط ابن العجمیl فرماتے ہیں) پھر میں نے  ’’تلخیص المستدرک‘‘ میں معاذ بن جبلr کے مناقب میں ایک حدیث دیکھی، جسے حاکم l نے ’’غریب حسن‘‘  کہا ہے، اور ذہبی l اس کی تلخیص میں فرماتے ہیں کہ یہ مجاشع کی گھڑی ہوئی روایت ہے، انتہی۔

علامہ ابن عراق l نے مجاشع بن عمرو کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کرکے حافظ یحیی بن معین l اور حافظ ابن حبان l  کا قول نقل  کیا ہے[29]۔ 

حوالہ جات

[15] ميزان الاعتدال:۳/ ۴۳۶،رقم:۷۰۶۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[16] معرفة الرجال:1/62،رقم:100،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .

[17] الجرح والتعدیل:۸ /۳۹۰،رقم:۱۷۸۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[18] الضعفاء والمتروكين:3/35،رقم:2847،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[19] المجروحين:۳/۱۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعةالأولى1۴۱۲هـ .

[20] تذكرة الحفاظ:ص:158،رقم:271،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[21] المغني في الضعفاء:2/۲۴۶،رقم:۵۱۷۹،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ . 

[22] الضعفاء الكبير:۴/۲۶۴،رقم:۱۸۶۹،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[23] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:۱۴۴،رقم:۹۶،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى، مكتبة الملك فهد  الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .

[24] لسان الميزان:۶/۴۶۲،رقم:۶۳۰۶،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامیة ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[25] حلية الأولياء:1/244،دار الفكر ـ  بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .

[26] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:257،رقم:673،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعةالأولى1419هـ .

[27] اتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة:13/285،رقم:16734،ت:عبد القدوس محمد نذير، مجمع الملك فهد ـ المدينة المنوره،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[28] الكشف الحثيث:ص:214،رقم:600،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[29] تنزيه الشريعة:۱/۹۹،رقم:۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .   

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابویوسف مجاشع بن عمروبن حسان اسدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[58] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يضع الحديث على الثقات، ويروي الموضوعات عن أقوام ثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه، ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار للخواص‘‘.

یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ لوگوں کے انتساب سے حدیث گھڑتے تھے، اور ثقہ لوگوں کےانتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتے تھے، اس کا کتابوں میں ذکر کرنا صرف اس کی جرح کرنے کی صورت میں ہی حلال ہے، اسی طرح اس سے روایت کرنا بھی حلال نہیں ہے، مگر خواص کےلئے اعتبار کے طور پر۔

حافظ ذہبی l نے ’’المغنی‘‘ [59] میں حافظ ابن حبان l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاءکیا ہے۔

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’منكر، مجهول‘‘[60].

حافظ یحییٰ بن معین l فرماتے ہیں: ’’قد رأيته أحد الكذابين‘‘[61]. میں اسے جھوٹوں میں سےایک جھوٹا سمجھتا ہوں۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[62] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه منكر، غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث منکر، غیر محفوظ ہے۔

حافظ ابو حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘[63] میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، ضعيف، ليس بشيء‘‘.

حافظ دار قطنی l نے مجاشع کو ’’متروكين‘‘ میں شمار کیا ہے۔ [64]

امام ابو احمد حاکم l نے مجاشع کو ’’منکر الحدیث‘‘  کہا ہے۔[65]

حافظ ازدی l فرماتے ہیں: ’’كذاب، دامر، لاتحل الرواية عنه‘‘[66]. یہ جھوٹا، تباہ کن ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔

علامہ ابن عراق l نے مجاشع بن عمرو کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔[67]

حافظ ذہبیl ’’میزان الاعتدال‘‘ [68] میں مجاشع کی ایک من گھڑت روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذا موضوع، ومجاشع هو راوي كتاب الأهوال والقيامة، وهو جزءان، كله خبر واحد موضوع‘‘. یہ من گھڑت ہے، اور مجاشع کتاب ’’الاہوال والقیامۃ‘‘ کا راوی ہے، اور اس کتاب کے دو اجزاء ہیں، اور یہ دونوں اجزاء مکمل صرف ایک خبر پر مشتمل ہیں جو کہ من گھڑت ہے۔

حوالہ جات

[58] المجروحين:۳/۱۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعةالأولى1۴۱۲هـ .

[59] المغني في الضعفاء:۲/۲۴۶،رقم:۵۱۷۹،ت:ابو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[60] ميزان الاعتدال:۳/۴۳۶،رقم:۷۰۶۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[61] ميزان الاعتدال:۳/۴۳۶،رقم:۷۰۶۶،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[62] الضعفاء الكبير:۴/۲۶۴،رقم:۱۸۶۹،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[63]  الجرح والتعدیل:۸ /۳۹۰،رقم ۱۷۸۵،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱ هـ .

[64] سؤالات السلمي للدارقطني:۱۴۴،رقم:۹۶،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى، مكتبة الملك فهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .

[65] لسان الميزان:۶/۴۶۲،رقم :۶۳۰۶،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائرالإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[66]  الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:3/35،رقم:2847،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[67] تنزيه الشريعة:۱/۹۹،رقم:۷،ت:عبدالوهاب عبد اللطيف،عبدالله محمد صديق،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .

[68] ميزان الاعتدال:3/437،رقم:7066،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ