اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: مؤمن اپنے گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور وہ پہاڑ اس پر گرنے لگا، اور فاجر شخص گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک مکھی بیٹھی تھی اڑادی‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی کے بارے میں ائمہ کا کلام
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[12]میں فرماتے ہیں: ’’مجهول بالنقل، ولا يتابع على حديثه، ولا يعرف إلا به‘‘. مجہول بالنقل ہے، اور اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی، اور یہ صرف اسی سے معروف ہے[13]۔
حافظ ذہبی l’’ميزان‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’لا يتابع على حديثه‘‘. اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[15] میں حافظ عقیلی l اور حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، أتى بحديث منكر، لا يعرف‘‘. اپنے والد سے روایت کرتا ہے، یہ ایک منکر حدیث لایا ہے، یہ معروف نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، له حديث وهو منكر‘‘.اپنے والد سے روایت کرتا ہے، اس کی ایک منکر حدیث ہے۔
حوالہ جات
[12] الضعفاء الكبير:۲/۲۷۳رقم:۸۳۵ ،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[13] تاہم شیعوں کی کتب میں عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا گیا ہے: ’’ضعيف، غال، ليس بشيء‘‘. انظر (رجال النجاشي:ص:209،رقم:566،شركة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى 1431هـ)، و(نقد الرجال:3/119،رقم:3126،مؤسسة آل البيت لأحياء التراث ـ قم) .
[14] ميزان الاعتدال:2/454،رقم:4423،ت: علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[15] لسان الميزان:۳/۳۰۳،رقم:۲۸۱۸،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائرالإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[16] المغني في الضعفاء:۱/548،رقم:3244،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[17] ديوان الضعفاء:ص:221،رقم:2226،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة .