التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی

2 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مِسْمَعی

عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[12]میں فرماتے ہیں: ’’مجهول بالنقل، ولا يتابع على حديثه، ولا يعرف إلا به‘‘. مجہول بالنقل ہے، اور اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی، اور یہ صرف اسی سے معروف ہے[13]۔

حافظ ذہبی l’’ميزان‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’لا يتابع على حديثه‘‘. اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’لسان‘‘[15] میں حافظ عقیلی l اور حافظ ذہبی l  کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، أتى بحديث منكر، لا يعرف‘‘. اپنے والد سے روایت کرتا ہے، یہ ایک منکر حدیث لایا ہے، یہ معروف نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، له حديث وهو منكر‘‘.اپنے والد سے روایت کرتا ہے، اس کی ایک منکر حدیث ہے۔

حوالہ جات

[12] الضعفاء الكبير:۲/۲۷۳رقم:۸۳۵ ،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[13] تاہم شیعوں کی کتب میں عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مسمعی کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا گیا ہے: ’’ضعيف، غال، ليس بشيء‘‘. انظر (رجال النجاشي:ص:209،رقم:566،شركة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى 1431هـ)، و(نقد الرجال:3/119،رقم:3126،مؤسسة آل البيت لأحياء التراث ـ قم) .

[14] ميزان الاعتدال:2/454،رقم:4423،ت: علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .

[15] لسان الميزان:۳/۳۰۳،رقم:۲۸۱۸،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائرالإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[16] المغني في الضعفاء:۱/548،رقم:3244،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[17] ديوان الضعفاء:ص:221،رقم:2226،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مِسْمَعی کے بارے میں ائمہ کا کلام

عبد اللہ بن عبد الرحمن اصم بصری مِسْمَعی کی تعیین اہلِ سنت کی کتب سے نہیں ہوسکی ہے، تاہم کتبِ شیعہ میں اس راوی کا واضح ترجمہ ملتا ہے، چنانچہ ابو العباس احمد بن علی نجاشی ’’رجال النجاشي‘‘[132] میں لکھتے ہیں: ’’ضعيف، غال، ليس بشيء‘‘. یہ ضعیف، غالی، لیس بشیء ہے۔

اسی طرح ابن الغضائری لکھتے ہیں: ’’ضعيف، مرتفع القول، وله كتاب في الزيارات ما يدل على خبث عظيم، ومذهب متهافت، وكان من كذابة أهل البصرة‘‘[133]. یہ ضعیف ہے، مرتفع القول ہے، اور اس کی ’’زیارات‘‘میں کتاب ہے جو بہت بڑی خباثت، اور بےفہم مذہب پر دلیل ہے، اور یہ بصرہ کے جھوٹوں میں سے تھا۔

حوالہ جات

[132] رجال النجاشي:ص:۲۰۹،رقم:۵۶۶،شركة الأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .

[133] انظر مجمع الرجال للقهپائي:4/25،ت:السيد ضياء الدين العلامة،طبع بأصبهان،الطبعة۱384هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ