اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ہمام بن مسلم زاہد کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[101]میں ہمام بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يسرق الحديث، ويحدث به، ويروي عن الثقات ما ليس من أحاديثهم، على قلة معرفته بصناعة الحديث، فلما فحش ذلك منه، وكثر في روايته بطل الاحتجاج به‘‘. یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیث میں سرقہ کرکے اسے بیان کرتے تھے، اور یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی احادیث بیان کرتا تھا جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتی تھیں، اس کے ساتھ ساتھ صناعت حدیث میں اس کی معرفت کم تھی، جب اس طرح اس کی روایات میں کثرت سے ہونے لگا تو اس سے احتجاج باطل ہوگیا ہے۔
حافظ ابن جوزی lنے ’’الضعفاء‘‘[102] میں، اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[103] میں حافظ ابن حبانl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
امام دار قطنیl نے ’’العلل الواردة‘‘[104] میں ہمام بن مسلم کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
نیز امام دار قطنی l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’يقال: كادح بن رحمة له اسم كان يعرف به، فغيره سليمان بن الربيع، فسماه كادحا، ذهب إلى قول الله تعالى: ’’يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ‘‘، قال: وقد روى سليمان بن الربيع هذا أحاديث مناكير عن شيخ آخر، فغير اسمه سماه همام بن مسلم، وأظنه ذهب إلى قول النبي صلى الله عليه وسلم: كل بني آدم همام، قال أبو الحسن: أراد منهم من يهم بالخير، ومنهم من يهم بالشر، وذهب إلى أن أباه كان مسلما، فقال: همام بن مسلم‘‘[105].
کہا جاتا ہے کہ کادح بن رحمہ کا کوئی نام تھا جس سے اس کی معرفت تھی، پھر سلیمان بن ربیع نے اس کا نام بدل کر کادح (یعنی کام میں کوشش کرنے والا) رکھ دیا، اللہ تعالی کے اس ارشاد سے: ’’اے انسان! تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کام میں کوشش کر رہا ہے‘‘، دارقطنی l فرماتے ہیں: اس سلیمان بن ربیع نے ایک دوسرے شیخ سے منکر احادیث روایت کی ہیں، پھر اپنے شیخ کا نام بدل کر ہمام بن مسلم رکھ دیا، اور میرا گمان ہے، نبی ﷺ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ’’ہر بنی آدم ہمام (ارادہ کرنے والا) ہے‘‘، ابو الحسن (دارقطنی l) فرماتے ہیں: بعض خیر کا ارادہ کرتے ہیں، اور بعض شر کا ارادہ کرتے ہیں، اور اس وجہ سے کہ اس کا والد مسلمان تھا، سو اسے ہمام بن مسلم کہہ دیا۔
حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[106] میں ایک روایت کے تحت ہمام بن مسلم کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[101] المجروحين:3/96،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[102] الضعفاء والمتروکین:۳/۱۷۸،رقم:۳۶۱۶،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[103] تنزيه الشريعة:1/۱۲۳،رقم:۱۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴01هـ .
[104] العلل الواردة:۸/۱۰۴،رقم:۱۴۲۸،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبةـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۲هـ .
[105] تاريخ بغداد:۱۰/۷۴،رقم:۴۵۹۰،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[106] تلخيص الموضوعات:ص:۱۷۱،رقم:۳۸۰،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .