اس روایت کی تحقیق سے
روایت:اذان سن کر: ’’مرحبا بالقائلين عدلا مرحبا بالصلاة وأهلا‘‘.پڑھنے پر بیس لاکھ نیکیاں،بیس لاکھ گناہ معاف اور بیس لاکھ درجات بلند۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)ابوعمران موسی بن ابراہیم مروَزِی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
علامہ عبدالخالق بن منصور l فرماتے ہیں: ’’سألت يحيى بن معين عن موسى بن إبراهيم، فقال لي: صاحب إبراهيم بن سعد، فقلت: نعم، فقال: ذاك كذاب، فقلت له: إنه يروی حديث جابر: من كثرت صلاته بالليل، فقال: كذب وكذب الذي يرويه بالكوفة‘‘[18].
میں نے یحیی بن معینl سے موسی بن ابراہیم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا: ابراہیم بن سعد کا ساتھی؟ میں نے کہا! جی ہاں، یحیی بن
معین l نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے، میں نے ان سے کہا کہ وہ یہ حدیث جابر r سے نقل کرتا ہے: ’’جس کی رات کی نمازیں زیادہ ہوں گی‘‘، یحیی بن معین l نے کہا کہ اس نے یہ جھوٹ کہا ہے، اور جو وہ کوفہ میں نقل کرتا تھا وہ بھی جھوٹ ہے۔
حافظ دار قطنی l نے موسی بن ابراہیم مروَزِی کو ’’متروک‘‘ کہا ہے[19]۔
حافظ عقیلی l نے اسے ’’منکر الحدیث‘‘کہا ہے[20] ۔
حافظ ذہبی l ’’المغنی‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’قلت أحاديثه موضوعات ذكره العقيلي وابن عدي، وله في الفضائل من الموضوعات‘‘.اس کی احادیث من گھڑت ہیں، اسے عقیلیl اور ابن عدی l نے ذکر کیا ہے، اور اس کی فضائل کے باب میں من گھڑت روایات ہیں۔
حوالہ جات
[18] تاريخ بغداد:۱۵/۲۹،رقم:۶۹۴۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[19] تاريخ بغداد:۱۵/۲۹،رقم:۶۹۴۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[20] الضعفاءالكبير:۲/۱۶۶،رقم:۱۷۳۸،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[21] المغني في الضعفاء:۲/۶۸۲،رقم:۶۴۷۶،ت:نور الدين عتر .