التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوعمران موسی بن ابراہیم مروَزِی

ایک روایت میں تذکرہ

ابوعمران موسی بن ابراہیم مروَزِی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابوعمران موسی بن ابراہیم مروَزِی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

علامہ عبدالخالق بن منصور l فرماتے ہیں:  ’’سألت يحيى بن معين عن موسى بن إبراهيم، فقال لي: صاحب إبراهيم بن سعد، فقلت: نعم، فقال: ذاك كذاب، فقلت له: إنه يروی حديث جابر: من كثرت صلاته بالليل، فقال: كذب وكذب الذي يرويه بالكوفة‘‘[18].

میں نے یحیی بن معینl سے موسی بن ابراہیم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا: ابراہیم بن سعد کا ساتھی؟ میں نے کہا! جی ہاں، یحیی بن
معین
l نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے، میں نے ان سے کہا کہ وہ یہ حدیث جابر r سے نقل کرتا ہے:  ’’جس کی رات کی نمازیں زیادہ ہوں گی‘‘، یحیی بن معین l نے کہا کہ اس نے یہ جھوٹ کہا ہے، اور جو وہ کوفہ میں نقل کرتا تھا وہ بھی جھوٹ ہے۔

حافظ دار قطنی l نے موسی بن ابراہیم مروَزِی کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے[19]۔

حافظ عقیلی l نے اسے  ’’منکر الحدیث‘‘کہا ہے[20] ۔

حافظ ذہبی l  ’’المغنی‘‘[21] میں فرماتے ہیں:  ’’قلت أحاديثه موضوعات ذكره العقيلي وابن عدي، وله في الفضائل من الموضوعات‘‘.اس کی احادیث من گھڑت ہیں، اسے عقیلیl اور ابن عدی l نے ذکر کیا ہے، اور اس کی فضائل کے باب میں من گھڑت روایات ہیں۔

حوالہ جات

[18] تاريخ بغداد:۱۵/۲۹،رقم:۶۹۴۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

[19] تاريخ بغداد:۱۵/۲۹،رقم:۶۹۴۷،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

[20] الضعفاءالكبير:۲/۱۶۶،رقم:۱۷۳۸،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[21] المغني في الضعفاء:۲/۶۸۲،رقم:۶۴۷۶،ت:نور الدين عتر .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ