اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی قاضی ابو القاسم عبد الرحمن بن حسن بن احمد بن محمد بن عبید اسدی من اہل ہمذان (المتوفی ۳۵۲ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ صالح بن احمد ہمذانی lفرماتے ہیں: ’’وادعى عن إبراهيم بن الحسين، فذهب علمه‘‘[221]. اس نے ابراہیم بن حسین سے روایت کا دعوی کیا سو اس کا علم چلا گیا۔
حافظ صالح بن احمد ہمذانی lمزید فرماتے ہیں: ’’سمعت القاسم بن أبي صالح نص عليه بالكذب، ومع هذا دخوله في أعمال الظلمة، وما يحمله من الأوزار والآثام، ونعوذ بالله من الحور بعد الكور، وسألني عنه أبو الحسن الدارقطني ببغداد، فقال: رأيت في كتبه تخاليط، وقال أبو يعقوب بن الدَخِيل بمكة: لما بلغني قدومه تركت أشغال الموسم، وسمعت التفسير منه، ثم لم يحمدوا أمره‘‘[222]. میں نے قاسم بن ابی صالح کو سنا کہ آپ نے صاف لفظوں میں اس کی جانب جھوٹ کو منسوب کیا، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ظالم لوگوں کے کاموں میں شمولیت رکھتا تھا، اور جھوٹ وگناہ کا مرتکب تھا، اور ہم صلاح کے بعد فساد سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں، اور ابو الحسن دار قطنی l نے بغداد میں مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس کی کتابوں میں خلط دیکھا ہے، اور ابو یعقوب بن دَخِیل نے مکہ میں کہا: جب مجھے اس کے آنے کی خبر ملی تو میں نے’’موسم‘‘کے مشاغل چھوڑ کر اس سے تفسیر سننا شروع کردی، پھر لوگوں میں اس کا معاملہ قابل تعریف نہ رہا۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[223] اور ’’ذيل‘‘[224] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[225] میں درج بالا کلام نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه‘‘[226] میں ابو القاسم اسدی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے علامہ قاسم بن ابی صالح ہمذانی کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[227] میں ابو جعفر احمد بن عبید اسدی ہمذانی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وابن عمه عبد الرحمن بن الحسن ادعى عن ابن دَيْزِيل، فأنكر عليه ابن عمه أحمد، فلما مات روى كتب ابن دَيْزِيل، فضعفوه ‘‘.اور اس کے چچا کے بیٹے عبد الرحمن بن حسن نے ابن دَیْزِیل (یعنی ابو اسحاق ابراہیم بن حسین) سے روایت کا دعوی کیا تو ان کے چچا کے بیٹے احمد (یعنی ابو جعفر احمد بن عبید اسدی) نے ان پر انکار کیا، پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو عبد الرحمن بن حسن نے ابن دَیْزِیل کی کتابیں روایت کرنا شروع کردی، سو محدثین نے ان کی تضعیف کی۔
حوالہ جات
[221] تاريخ مدينة السلام:11/592،رقم:5381،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[222] تاريخ مدينة السلام:11/592،رقم:5381،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[223] ميزان الاعتدال:۲/۵۵۶،رقم:۴۸۵۲،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[224] ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين :ص:42،رقم:222،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مکتبة النهضةالحديثة ـ مکة المکرمة .
[225] لسان المیزان:5/97،رقم:4621،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .
[226] تنزيه الشريعة:1/78،رقم:139،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[227] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/659،رقم:414،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .